وزارت خزانہ
خزانہ اور کمپنی امور کی مرکزی وزیر محترمہ نرملا سیتا رمن نے آج نئی دہلی میں ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں (مقننہ کے حامل)کے ساتھ ماقبل بجٹ مشاورتی میٹنگ کی صدارت کی
مختلف ریاستوں کے شرکاء نے ریاستوں اور مقننہ کے حامل مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں اثاثے پیدا کرنے کے عمل کو تیز کرنے اور ملکیتی سرمایہ کاری میں تعاون فراہم کرنے کی غرض سے ملکیتی سرمایہ کاری کے لیے ریاستوں کو خصوصی تعاون (ایس اے ایس سی آئی) کی اسکیم کی اہمیت کو اجاگر کیا
प्रविष्टि तिथि:
10 JAN 2026 8:53PM by PIB Delhi
خزانہ اور کمپنی امور کی مرکزی وزیر محترمہ نرملا سیتا رمن نے آج نئی دہلی میں ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں (مقننہ کے حامل) کے ساتھ ماقبل بجٹ مشاورتی میٹنگ کی صدارت کی۔

اس میٹنگ میں وزیر مملکت برائے خزانہ جناب پنکج چودھری؛ منی پور کے گورنر؛ ان کے علاوہ گوا، ہریانہ، میگھالیہ، سکم، مرکز کے زیر انتظام علاقے یعنی دہلی اور جموں و کشمیر کے وزرائے اعلیٰ؛ اروناچل پردیش، مدھیہ پردیش، اڈیشہ، راجستھان اور تلنگانہ کے نائب وزرائے اعلیٰ؛ ریاستوں اور مقننہ کے ساتھ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے وزرائے خزانہ اور دیگر وزراء نے شرکت کی۔ اقتصادی امور ، لاگت، آمدنی کے محکموں کے سکریٹری حضرات، اور مرکزی وزارت خزانہ / مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حکومتوں کے دیگر سینئر افسران نے بھی اس میٹنگ میں شرکت کی۔

شرکاء نے مالی برس 2026-27 کے لیے مرکزی بجٹ میں غور کرنے کے لیے مرکزی وزیر خزانہ کو مختلف بیش قیمتی مشورے دیے۔ خصوصاً، متعدد شرکاء نے اس امر کو اجاگر کیا کہ ملکیتی سرمایہ کاری کے لیے ریاستوں کو خصوصی تعاون کی اسکیم کو اعلیٰ تخصیص کے ساتھ جاری رکھا جائے کیونکہ یہ اثاثے پیدا کرنے کے عمل میں تیزی لانے میں مدد کرتی ہے اور ریاستوں و مقننہ کے ساتھ مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ملکیتی سرمایہ کاری میں حمایت فراہم کرتی ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ 2020-21 سے، مرکزی حکومت نے ایس اے ایس سی آئی کے تحت ریاستوں کو 50 سالہ سود سے مبرا قرضوں کے طور پر 4.25 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی رقم جاری کی۔

مرکزی وزیر خزانہ نے تمام تر معززین کا شکریہ ادا کیا اور یہ یقین دہانی کرائی کہ بجٹ 2026-27 کی تیاری کے وقت ان کے ذریعہ دیے گئے مشوروں کا بغور جائزہ لیا جائے گا اور ان پر مناسب غور کیا جائے گا۔
**********
(ش ح –ا ب ن)
U.No:412
(रिलीज़ आईडी: 2213387)
आगंतुक पटल : 10