خوراک کی ڈبہ بندی کی صنعتوں کی وزارت
ڈبہ بند خوراک کی صنعتوں کے وزیر نے انڈس فوڈ 2026 کے نویں ایڈیشن کا افتتاح کیا
جی ایس ٹی کی شرحوں میں کمی نے خوراک کی پروسیسنگ صنعت کو مارکیٹ تک رسائی بڑھانے میں مدد دی ہے۔ وزیر موصوف نے اس بات پر زور دیا کہ حجم کو قدر میں بدل کر برآمدات بڑھائی جائیں۔ انہوں نے عالمی برانڈز سے اپیل کی کہ وہ بھارت میں اپنے تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) کے مراکز قائم کریں
ایپیڈا کی ‘‘بھارتی پہل’’ زرعی خوراک سے متعلق اسٹارٹ اَپس کو اُجاگر کرنے کے لیے شروع کی گئی ہے
प्रविष्टि तिथि:
08 JAN 2026 6:14PM by PIB Delhi
ڈبہ بند خوراک کی صنعتوں کے وزیر چراغ پاسوان نے 8 جنوری 2026 کو گریٹر نوئیڈا کے ایکسپو مارٹ میں انڈس فوڈ 2026 کا افتتاح کیا۔انڈس فوڈ ایشیا کی نمایاں فوڈ اور بیوریجز ٹریڈ شو ہے۔ اس سال یہ اب تک کا سب سے بڑا ایڈیشن ہے جو 1,20,000 مربع میٹر رقبے پر محیط ہے۔
اس موقع پر ایپیڈاکے چیئرمین جناب ابھیشیک دیو، ٹریڈ پروموشن کونسل آف انڈیا کے چیئرمین جناب موہت سنگلا، ابوظہبی فوڈ ہب (کے ای زیڈ اے ڈی) کے سی ای او جناب جینس وولف گینگ مائیکل، بھیکارام چنڈمل کے منیجنگ ڈائریکٹر جناب آشیش کمار اگروال سمیت صنعت کے رہنما، خریدار، نمائش کنندگان اور عالمی ایف اینڈ بی ایکو سسٹم کے اراکین بھی موجود تھے۔

افتتاحی خطاب کرتے ہوئے جناب پاسوان نے کہا کہ“میں یہاں آپ سب کی حوصلہ افزائی اور مدد کے لیے آیا ہوں۔ یہ حقیقت ہے کہ حکومتِ ہند نے فوڈ پروسیسنگ کے لیے الگ وزارت قائم کی ہےجس سے اس شعبے کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ ہم حکومت اور صنعت کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔”وزیر موصوف نے ٹی پی سی آئی کو انڈس فوڈ کے نویں کامیاب ایڈیشن کے انعقاد اور صنعت کو اتنا بڑا پلیٹ فارم فراہم کرنے پر مبارکباد دی۔

ڈبہ بند خوراک کے وزیر نے مزید اپیل کرتے ہوئے کہا کہ “اب جبکہ ہم غذائی پیداوار میں خود کفیل ہو گئے ہیں، ہمیں اس زیادہ مقدار کو زیادہ قیمت میں بدلنا ہوگا۔ ہم سب اس شعبے کی طاقت اور بھارت کی اُس غیر استعمال شدہ صلاحیت سے واقف ہیں جو اسے دنیا کی غذائی شعبہ بنا سکتی ہے؛ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم وسائل کو صحیح سمت میں لگائیں۔”انہوں نے کہا کہ ان کی وزارت زیادہ سے زیادہ کاروباری اداروں کو اس شعبے میں آنے کے لیے مدد اور تعاون فراہم کر رہی ہے۔

پی ایم فارملائزیشن آف مائیکرو فوڈ پروسیسنگ انٹرپرائزز (پی ایم ایف ایم ای) پردھان انتری کسان سمپدا یوجنا (پی ایم کے ایس وائی) نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فوڈ ٹیکنالوجی انٹرپرینیورشپ اینڈ مینجمنٹ وغیرہ جیسی اسکیمیں ، کسانوں اور صنعت دونوں کی مدد کر رہے ہیں ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فوڈ ٹیکنالوجی انٹرپرینیورشپ اینڈ مینجمنٹ کے دائرہ کار کو مزید ریاستوں تک پہنچایا جائے گا ۔

انہوں نے کہا کہ “حکومتِ ہند ڈبہ بند خوراک کی صنعت کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے اور معاون پالیسیوں کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا رہی ہے، جیسے کاروبار میں آسانی پیدا کرنا۔” وزیر موصوف نے بتایا کہ انہوں نے ڈبہ بند خوراک کے شعبے پر عائد زیادہ جی ایس ٹی کا مسئلہ اٹھایا تھا، جسے جی ایس ٹی اصلاحات کے ذریعے حل کیا گیا اور جی ایس ٹی کی شرحیں کم کرکے 5 فیصد یا صفر تک لائی گئیں، جس سے اس شعبے کے لیے منڈی تک رسائی میں نمایاں اضافہ ہوا۔
اپنے خطاب کے دوران وزیرموصوف نے تمام برانڈز سے اپیل کی کہ وہ بھارت میں اپنے تحقیق و ترقی مراکز قائم کریں۔ بھارت میں زبردست تنوع موجود ہے اور عالمی غذائی منڈی کے لیے نئی اقسام متعارف کرانے کی بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے۔
ایگریکلچرل اینڈ پروسیسڈ فوڈ پروڈکٹس ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (اے پی ای ڈی اے) نے زرعی خوراک اور ایگریک ٹیک اسٹارٹ اپس کی مدد کے لیے ایک نئی پہل شروع کی ہے، جس کا مقصد اختراع کو فروغ دینا اور نوجوان کاروباری افراد کے لیے نئی برآمدی مواقع پیدا کرنا ہے۔
اے پی ای ڈی اے کے چیئرمین جناب ابھیشیک دیو نے کہا کہ پہل-بھارتی ، جو کہ زرعی ٹیکنالوجی ، لچک ، ترقی اور برآمدات کے فروغ کے لیے ایگری ٹیک، مضبوطی، ترقی اور انکیوبیشن کا مرکز ہے ، کو زرعی شعبے کے اسٹارٹ اپس کو بااختیار بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے ۔
افتتاح کے موقع پر انڈیا ٹریڈ پروموشن کونسل کے چیئرمین نے کہا کہ انڈس فوڈ 2026 ایک بڑے پیمانے کا ایونٹ ہے، جو 30 سے زائد ممالک کے 2,200 سے زیادہ نمائش کنندگان کو 125,000 مربع میٹر کے رقبے میں اکٹھا کر رہا ہے، جبکہ 120 سے زیادہ ممالک کے 15,000 سے زائد خریدار بھی شرکت کر رہے ہیں، جس سے ایف اینڈ بی ویلیو چین کو ایک ہی پلیٹ فارم پر جوڑا گیا ہے۔ اس سال دو نئے پویلین - پالتو جانوروں کی خوراک اور حیوانوں کی غذائیت اور کُک وئیر و کچن وئیر بھی متعارف کرائے گئے ہیں، جو طرزِ زندگی میں تبدیلی، صحت مندی کے رجحان، پریمیم مصنوعات اور پائیداری کی عالمی مانگ کی عکاسی کرتے ہیں۔
آئی ایف سی اے کے ساتھ اشتراک میں، ٹی پی سی آئی ورلڈ کلینری ہیریٹیج کانفرنس 2026 اور 40 سے زیادہ نالج ایونٹس کا انعقاد کر رہا ہے، جن میں 150 سے زیادہ مقررین سرمایہ کاری، برآمدات، ضوابط، اے آئی، آٹومیشن اور فوڈ ایکو سسٹمز پر بات کریں گے۔ ابو ظبی فوڈ ہب کے سی ای او نے بھارت–یو اے ای تعاون، پائیدار تجارتی طریقوں پر زور دیا اور ٹی پی سی آئی کے ساتھ انڈیا–یو اے ای فوڈ کوریڈور کے لیے مفاہمت نامے پر دستخط کا اعلان کیا۔ 25–2024 میں بھارت کی فوڈ اینڈ بیوریج برآمدات 47.3 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ پروسیسڈ فوڈ کی برآمدات 7.9 ارب ڈالر رہیں، جن میں کوکو اور اس سے متعلق مصنوعات سرفہرست رہیں۔
*******
ش ح۔ع ح ۔ ا ک م
U.N-307
(रिलीज़ आईडी: 2212588)
आगंतुक पटल : 7