وزارتِ تعلیم
آج نئی دہلی میں تیسری آسٹریلیا۔بھارت ایجوکیشن اینڈ اسکلز کونسل (اے آئی ای ایس سی) کی میٹنگ منعقد ہوئی
جناب دھرمیندر پردھان اور جناب جینت چوہدری نے آسٹریلیا کے وزیرِ تعلیم محترم جیسن کلیئر ایم پی،مہارت اور تربیت کے آسٹریلیائی وزیر محترم اینڈریو جائلز ایم پی اوربین الاقوامی تعلیم سے متعلق معاون وزیر محترم جولیان ہل ایم پی کے ساتھ اس میٹنگ کی مشترکہ صدارت کی
یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز، جو عالمی درجہ بندی میں 20ویں نمبر پر ہے، کو بھارت میں کیمپس قائم کرنے کے لیے لیٹر آف انٹینٹ جاری کیا گیا
ای سی سی ای اور اساتذہ کی تربیت کے شعبے میں تعاون کو سی بی ایس ای، این سی ٹی ای اور آسٹریلوی ہم منصب اداروں کے درمیان مزید مضبوط کیا جائے گا
اسپارک پروگرام کے تحت ایڈوانسڈ کمپیوٹنگ، توانائی، پائیداری و آب و ہوا، صحت اور میڈ ٹیک، اور خلاء و دفاع کے شعبوں میں آسٹریلیا کی سرفہرست یونیورسٹیوں کے ساتھ 10 نئے مشترکہ بھارت۔آسٹریلیا تحقیقی منصوبوں کے لیے 9.84 کروڑ روپے فراہم کیے جائیں گے
ایگری ٹیک انویشن، سمندری علوم، اساتذہ کی تربیت و پیشہ ورانہ ترقی، آفات سے بچاؤ کی صلاحیت، عالمی سطح پر ملازمت کے لیے تیاری، کان کنی، اور ترجیحی مہارت کی ترقی کے شعبوں میں مفاہمت ناموں کا تبادلہ کیا گیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
08 DEC 2025 6:30PM by PIB Delhi
تیسری آسٹریلیا۔بھارت ایجوکیشن اینڈ اسکلز کونسل (اے آئی ای ایس سی) کی میٹنگ آج نئی دہلی میں منعقد ہوئی، جس کی صدارت بھارت کی جانب سے مرکزی وزیر تعلیم جناب دھرمیندر پردھان، ، اور ہنرمندی کے فروغ اور صنعت کاری نیز تعلیم کے وزیر مملکت جناب جینت چوہدری نے کی۔ آسٹریلیا کی جانب سے وزیر تعلیم محترم جیسن کلیئر ایم پی اور مہارت اور تربیت کے آسٹریلیائی وزیرمحترم اینڈریو جائلز ایم پی نے میٹنگ کی صدارت کی۔
میٹنگ میں تعلیم اور ڈی او این ای آر کے وزیر مملکت ڈاکٹر سکانتا مجومدار، ؛ حکومت آسٹریلیا کے تحت بین الاقوامی تعلیم کے معاون وزیرمحترم جولیان ہل ایم پی، اسکول ایجوکیشن کے سکریٹری جناب سنجے کمار، ؛ ہائر ایجوکیشن کے سکریٹری ڈاکٹر ونیت جوشی، اسکل ڈیولپمنٹ اینڈ انٹرپرینیورشپ کی سکریٹری محترمہ دبیاشری مکھرجی؛ دونوں ممالک کے سینئر سرکاری عہدیداران؛ اور آسٹریلوی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز و نمائندے بھی موجود تھے۔
تیسری اے آئی ای ایس سی میٹنگ میں اسکول ایجوکیشن، ہائر ایجوکیشن، ریسرچ اور اسکل ڈیولپمنٹ کے تحت جاری اقدامات کا جائزہ لیا گیا اور ادارہ جاتی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے، موبلٹی کے مواقع کو بڑھانے اور ضابطہ جاتی تعاون کو مستحکم کرنے کے عزم کی تصدیق کی گئی۔ اے آئی ای ایس سی ایک دو قومی ادارہ ہے جو دونوں ممالک کے درمیان تعلیم، تربیت، تحقیق اور مہارت کے شعبوں میں شراکت داری کی حکمت عملی کو رہنمائی فراہم کرتا اور مضبوط کرتا ہے۔


اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جناب دھرمیندر پردھان نے کہا کہ تیسری اے آئی ای ایس سی میٹنگ پہلی میٹنگ کے بعد حاصل کردہ پیش رفت کو مزید آگے بڑھانے، بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان تعلیم، مہارت اور تحقیقی شراکت داری میں نئے امکانات پیدا کرنے، بھارت کے نوجوانوں کے لیے وسیع پیمانے پر مواقع کی شروعات کرنے اور تعلیم و ہنرمندی کے فروغ کے تمام شعبوں کے ساتھ قومی اور عالمی ترجیحات میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کا ایک بہترین موقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے آسٹریلوی وزراء اور وفد کی اسکول ایجوکیشن، ہائر ایجوکیشن، تحقیق اور مہارت کے ایجنڈا آئٹمز پر بامعنی مباحثے کی تعریف کی اور اے آئی ای ایس سی پلیٹ فارم کو اعلیٰ سطح پر لے جانے کی ان کی بھرپور کوششوں کو سراہا۔
جناب پردھان نے مزید کہا کہ تعلیم، مہارت اور تحقیق بھارت-آسٹریلیا اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے کلیدی ستون ہیں۔ بھارت اور آسٹریلیا دونوں ابتدائی بچپن کی دیکھ بھال اور تعلیم، ٹیکنالوجی کے اپنانے، کھیلوں کی تعلیم، ادارہ جاتی صلاحیت سازی، اساتذہ کو بااختیار بنانے، نوجوانوں کو اہم اور ابھرتے ہوئے شعبوں جیسے اے آئی، جدید مواد، سیمی کنڈکٹرز، میڈٹیک، توانائی اور پائیداری میں تیار کرنے اور جدید ہنرمندی شراکت داری کے لیے مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
وزیرموصوف نے تعاون اور عزم کے جذبے کو آگے بڑھاتے ہوئے تمام متعلقہ فریقوں سے کہا کہ آج ہونے والے نتیجہ خیز اور گہرائی پر مبنی مباحثوں کو اسکول، ہائر اور اسکل ایجوکیشن کے شعبوں میں کامیابی کے ساتھ نافذ کریں اور یہ یقینی بنائیں کہ آج بنائے گئے تعلقات آنے والے سالوں میں مزید مضبوط ہوتے رہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج کا ایجنڈا اسکول اور ہائر ایجوکیشن میں کھیلوں کے نصاب کو شامل کرنے پر مرکوز تھا، جو کھیلوں کے شعبے میں ایک وسیع شمولیت پر مبنی شراکت داری کی شروعات ہے۔ جناب پردھان نے کہا کہ طرفین کو اسکول اور ہائر ایجوکیشن کے سطح پر ہیکاتھونز میں تعاون کے مواقع بھی تلاش کرنے چاہئیں تاکہ روزمرہ زندگی کے فوری چیلنجز کا حل نکالا جا سکے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر تعلیم محترم جیسن کلیئر ایم پی کہا کہ ‘‘یہ دونوں کے لیے فائدہ مند ہے۔ یہ آسٹریلیا کے لیے اچھا ہے اور بھارت کے لیے بھی۔ یہ بھارت اور آسٹریلیا کے تعلقات کی مضبوطی کی ایک بڑی علامت ہے۔’’
جناب جینت چوہدری نے بھارت-آسٹریلیا ہنرمندی سے متعلق شراکت داری کی مضبوطی اور منفرد نوعیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے پاس ایک منفرد ادارہ جاتی پلیٹ فارم ہے جو مباحثوں کو ساختی ڈھانچہ کے ذریعے ٹھوس نتائج میں بدل رہا ہے، جیسے کہ 2023 کا متقابل شناختی اہلیت(ایم آر کیو)، مانگ کا جائزہ لینے کے لیے مخصوص اسکل میپنگ فریم ورک، اور تعاون کو مضبوط کرنے کے لیے تین اہم مفاہمت نامہ پر دستخط۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ زرعی شعبے جیسے شعبوں نے پہلے ہی تسلیم شدہ اہلیت کے استعمال کے لیے مؤثر موبلٹی کے راستے قائم کیے ہیں اور اس کامیابی کو ابھرتے ہوئے شعبوں میں دہرانے کی ضرورت پر زور دیا۔ نوجوانوں پر مرکوز تعاون کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں جانب نے اتفاق کیا ہے کہ کھیلوں کو تعاون کے اہم شعبوں میں شامل کیا جائے، خاص طور پر وہ عالمی اہمیت کے کھیلوں کے ایونٹس جو مستقبل قریب میں دونوں ممالک میں منعقد ہوں گے۔
مزید برآں، مہارت اور تربیت کے آسٹریلیائی وزیر محترم اینڈریو جائلز ایم پی نے کہا کہ “آسٹریلیا اور بھارت ایک اہم شراکت داری کو مشترک کرتے ہیں جو دونوں ممالک کی مہارت اور تربیت کی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے انمول ہے۔ ہمارے ملک کی پہنچ کو بڑھانا اس تعلقات میں ایک اور اہم پیش رفت ہے۔”
بین الاقوامی تعلیم کے معاون وزیر محترم جولیان ہل ایم پی نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا، “آج کا اعلان آسٹریلیا-بھارت تعلیمی تعلقات کی مضبوطی کی عکاسی کرتا ہے۔ عالمی معیار کی آسٹریلوی تعلیم کو براہِ راست بھارت میں لانے کے ذریعے، یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز (یو این ایس ڈبلیو) نے دیگر آسٹریلوی اداروں کے بھارتی طلبہ کو اعلیٰ معیار کی تعلیم فراہم کرنے کے عزم کو مزید مستحکم کیا ہے۔”
جناب دھرمیندر پردھان نے آج اپنے آسٹریلوی ہم منصب محترم جیسن کلیئر ایم پی اور محترم جولیان ہل ایم پی کے ساتھ دو طرفہ ملاقات بھی کی۔ اس ملاقات میں وزراء نے تعلیم، جدت اور تحقیق میں موجودہ تعاون کا جائزہ لیا اور ‘پری اسکول سے پی ایچ ڈی تک’ کے سلسلے میں تعلقات کو مزید مضبوط کرنے پر با مقصد مباحثے کیے۔ جناب پردھان نے کہا کہ ہمارے طلبہ میں تنقیدی سوچ کو فروغ دینا اور اے آئی کے لیے تیار نسل کی تیاری بھارت کی ترجیحات ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں وزراء بھارت-آسٹریلیا تعلیمی شراکت داری میں نئے باب شامل کرنے کے لیے پرعزم ہیں، جس میں دونوں ممالک کی اعلیٰ تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون، اسٹریٹجک اہمیت کے شعبوں میں مشترکہ تحقیقی فنڈنگ، اور دو طرفہ موبلٹی کے آسان راستے شامل ہیں۔


دن کے اہم لمحات میں سے ایک یہ تھا کہ یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز (یو این ایس ڈبلیو) کو یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے تحت (بھارت میں غیر ملکی اعلیٰ تعلیمی اداروں کے کیمپس قائم کرنے اور ان کے آپریشن سے متعلق) ضوابط، 2023 کے مطابق لیٹر آف انٹینٹ (ایل او آئی) پیش کیا گیا۔ یہ لیٹر ہائر ایجوکیشن کی سکریٹری اور یو جی سی کی چیئرمین ڈاکٹر ونیت جوشی نے دیا۔ یو این ایس ڈبلیو آسٹریلیا کی اعلیٰ تعلیمی یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے اور کیو ایس عالمی یونیورسٹی رینکنگ میں عالمی سطح پر سرفہرست-20 میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ، اس سال پہلے ہی بھارت میں کیمپس قائم کرنے کے لیے چار آسٹریلوی یونیورسٹیوں-لا ٹروب یونیورسٹی، وکٹوریا یونیورسٹی، ویسٹرن سڈنی یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیاکو بھی لیٹر آف انٹینٹ جاری کیے گئے تھے۔ اس ایل او آئی کے بعد اب بھارت میں مجموعی طور پر سات آسٹریلوی یونیورسٹیوں کے آٹھ کیمپس قائم ہو چکے ہیں۔

میٹنگ میں درج ذیل موضوعاتی نکات کے تحت مباحثے کیے گئے:
A. اسکول ایجوکیشن اور ہائر ایجوکیشن و تحقیق
- ابتدائی بچپن کی تعلیم اور دیکھ بھال میں تعاون
- اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی
- اسکولی تعلیم میں کھیلوں کا انضمام
- آسٹریلیا میں سی بی ایس ای سے منسلک اسکول کے امکانات
- غیر ملکی یونیورسٹی کیمپسز پر اپڈیٹس
- آن لائن اور مخلوط لرننگ
10 نئے اسپارک فنڈڈ بھارت-آسٹریلیا تحقیقی منصوبوں کا اعلان، جن کا دائرۂ کار اے آئی، کوانٹم، حیاتیاتی تنوع، میڈٹیک، پائیداری، سمارٹ موبلٹی، اور خلائی شعبوں پر محیط ہے (کل رقم 9.84 کروڑ روپے، یعنی 1.64 ملین اے یو ڈی مختص کیا گیا)۔ اس کے ساتھ، مجموعی طور پر 865 منصوبوں میں سے 129 اعلیٰ آسٹریلوی یونیورسٹیوں کے ساتھ ہیں، جن کی مالی مجموعی قیمت 16 ملین اے یو ڈی ہے۔
B. مہارت، تربیت اور افرادی قوت کی ترقی
- ترجیحی شعبوں میں مشترکہ نصاب
- کورسز کی کمی اور متقابل شناخت کے راستے
- این ایس ٹی آئیز اور آسٹریلوی ٹی اے ایف ایز کے درمیان شراکت داری
- ہاسپٹلٹی، تعمیرات، زراعت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز، اور صحت کے شعبوں میں نئے مواقع
- ایس سی او ای ایجنڈا سمیت سینٹرز آف ایکسیلنس کے عملی قیام
دن کے دوران متعدد بھارتی اور آسٹریلوی اعلیٰ تعلیمی اداروں اور اسکلنگ اداروں نے تعاون کو مزید مضبوط کرنے کے لیے ایم او یوز / ایل او آئیز کا تبادلہ کیا:
- ابتدائی بچپن کی تعلیم (حکومت ہند اور آسٹریلیا): سی بی ایس ای، ای سی سی ای نصاب کو آسٹریلیا کے ای سی ای سی میں سرٹیفکیٹ III سے ہم آہنگ کرنا، افرادی قوت کو تیار کرنا اور نصاب کی جدت کو فروغ دینا۔
- جیمس کک یونیورسٹی اورحکومت اوڑیسہ: اوڑیسہ میرین بایوٹیکنالوجی اینڈ انوویشن کوریڈور سے منسلک میرین ایکولوجیکل ریسرچ سینٹر کا قیام۔
- یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا ، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) ممبئی اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (انڈین اسکول آف مائنز) دھنباد: کان کنی کی تلاش ، کان کنی لاجسٹکس اور کان کنی آٹومیشن اور پائیداری میں تعاون ۔
- ڈیکن یونیورسٹی اور کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری(سی آئی آئی): ہندوستانی سیکھنے والوں کے لیے روزگار کے نتائج کو بہتر بنانے کی خاطر ڈیکن کے عالمی ملازمت کی تیاری کے پروگرام کو قومی سطح تک بڑھانا ۔
- ڈیکن یونیورسٹی اور آئی آئی ٹی روڑکی: آفات سے نمٹنے میں سینٹر آف ایکسی لینس کا قیام ۔
- مغربی سڈنی یونیورسٹی اور حکومت آندھرا پردیش: ڈبلیو ایس یو کو آندھرا پردیش کے رتن ٹاٹا انوویشن ہب سے جوڑ کر زرعی تحقیق اور اختراع ۔
- موناش یونیورسٹی اور حکومت اتر پردیش: بڑے پیمانے پر اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی کے لیے اکیڈمی آف ٹیچنگ ایکسی لینس کا قیام ۔
- یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا (یو ڈبلیو اے) اور اسکلز کونسل فار مائننگ سیکٹر: آسٹریلیا اور ہندوستان کے درمیان کان کنی کے عالمی ٹیلنٹ پول کی ترقی ۔
آسٹریلوی وزیر محترم جیسن کلیئر نے جناب دھرمیندر پردھان کو چوتھی اے آئی ای ایس سی میٹنگ کے لیے آسٹریلیا مدعو کیا۔ دونوں وزراء نے اتفاق کیا کہ زیادہ سے زیادہ کامیابیاں اور نتائج ایک واضح وقت کے اندر حاصل کیے جانے چاہئیں ۔
******
ش ح۔ع ح ۔ ا ک م
U.N-298
(ریلیز آئی ڈی: 2212550)
وزیٹر کاؤنٹر : 18