وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
azadi ka amrit mahotsav

مویشی پروری اور ڈیری کے محکمہ کا اختتام  سال 2025 کا جائزہ


عزت مآب وزیر اعظم نے موتیہاری میں 33.80 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے مقامی نسلوں کے لیے علاقائی مرکز(سی او ای)  کا افتتاح کیا

دودھ کی پیداوار اور نسل کی بہتری کے لیے شمال مشرقی خطے کی پہلی آئی وی ایف لیبارٹری سے 75000 جانوروں کی جینو ٹائپنگ

مویشیوں کا شعبہ ہندوستان کی زراعتی معیشت کو مضبوط بنا رہا ہے۔ یہ15-2014 سے 12.77 فیصد کی مجموعی سالانہ ترقیاتی شرح پر ترقی کر رہا ہے

ٹول فری نمبر 1962 کے ذریعے ملک بھر میں 4019 ایم وی یو میں جانوروں کا علاج  کیا جارہا ہے ہیں، ویٹرنری کالجوں کی تعداد 84 ہو گئی ہے

प्रविष्टि तिथि: 07 JAN 2026 10:00PM by PIB Delhi

سال 2025 میں ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کی وزارت  کے محکمہ مویشی پروری  اور ڈیری کے اہم اقدامات اور حصولیابیوں  کی تفصیلات:

1. شعبے میں ترقی

مویشی کا شعبہ ہندوستانی معیشت میں زراعت کا ایک اہم ذیلی شعبہ ہے۔ اس میں 2014-15 سے 2023-24 تک 12.77فیصد  کی کمپاؤنڈ اینول گروتھ ریٹ (سی اے جی آر) سے ترقی درج ہوئی ہے۔ کل زراعت اور اس سے منسلک شعبے کے مجموعی ویلیو ایڈڈ (جی وی اے) میں مویشیوں کے شعبے  کا حصہ 2014-15 میں 24.38 فیصد سے بڑھ کر 2023-24 میں 30.87 فیصد ہو گیا (موجودہ قیمتوں  کے مطابق)۔ لائیو اسٹاک سیکٹر  کا حصہ  2023-24  کے کل جی وی اے  میں 5.49 فیصد ہے (موجودہ قیمتوں  کے مطابق)۔

ہندوستان دودھ کی پیداوار میں پہلے نمبر پر ہے جس کا حصہ عالمی دودھ کی پیداوار میں 25 فیصد ہے۔ دودھ کی پیداوار گزشتہ 11 برسوں میں 5.41 فیصد کی کمپاؤنڈ اینول گروتھ ریٹ (سی اے جی آر) سے بڑھ رہی ہے جو 2014-15 کے دوران 146.31 ملین ٹن سے بڑھ کر 2024-25 کے دوران 247.87 ملین ٹن ہو گئی۔ سال 2023 (فوڈ آؤٹ لک نومبر 2025) کے مقابلے میں 2024 (تخمینہ) کے دوران عالمی دودھ کی پیداوار میں 1.12 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ہندوستان میں دودھ کی فی کس دستیابی 2024-25 کے دوران یومیہ 485 گرام ہے جب کہ 2024  (تخمینہ) میں عالمی اوسط یومیہ 328 گرام  تھا (فوڈ آؤٹ لک نومبر، 2025)۔

فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کارپوریٹ شماریاتی ڈیٹا بیس (ایف اے او ایس ٹی اے ٹی) کے پیداواری اعداد و شمار (2023) کے مطابق، ہندوستان دنیا میں انڈے کی پیداوار میں دوسرے نمبر پر اور گوشت کی پیداوار میں چوتھے نمبر پر ہے۔ ملک میں انڈے کی پیداوار 2014-15 میں 78.48 بلین  عدد سے بڑھ کر 2024-25 میں 149.11 بلین عدد ہو گئی ہے۔ یہ گزشتہ 11 سالوں میں 6.63فیصد  کی کمپاؤنڈ اینول گروتھ ریٹ (سی اے جی آر) سے بڑھ رہا ہے۔ انڈے کی فی کس دستیابی 2024-25 میں 106 انڈے سالانہ ہے جبکہ 2014-15 میں یہ تعداد 62 تھی۔ ملک میں گوشت کی پیداوار 2014-15 میں 6.69 ملین ٹن سے بڑھ کر 2024-25 میں 10.50 ملین ٹن ہو گئی۔ یہ پچھلے 11 سالوں میں 4.61فیصد  کی کمپاؤنڈ اینول گروتھ ریٹ (سی اے جی آر) سے بڑھ رہا ہے۔

مویشی پروری  اور ڈیری کی اسکیمیں

2. راشٹریہ گوکل مشن حکومت کی طرف سے شروع کیا گیا ہے جو مقامی نسلوں کی ترقی اور تحفظ اور مویشیوں کی آبادی کے جینیاتی اپ گریڈیشن پر مرکوز ہے۔

2.1.    سال 2025 میں اہم   منصوبوں کا آغاز / افتتاح

  • تین مارچ 2025 کو نئی دہلی میں ’’ڈیری سیکٹر میں پائیداری اور سرکلرٹی پر ورکشاپ‘‘ کا انعقاد کیا گیا، جس کا افتتاح مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کیا اور ا س میں  ڈیری سیکٹر میں پائیداری کے مقصد سے جامع رہنما خطوط جاری کیے گئے۔
  • ہندوستان میں نسل کی افزائش  پر ورکشاپ 12جولائی2025 کو لکھنؤ میں منعقد ہوئی۔ بریڈرز ایسوسی ایشن کے قیام کا فریم ورک بھی اسی دن شروع کیا گیا ہے جس کا مقصد  مویشی کی نسل کے تحفظ کو مضبوط بنانا اور ملک بھر میں منظم بریڈر نیٹ ورکس کو فروغ دینا ہے۔
  • عزت مآب وزیر اعظم نے15جولائی2025 کو موتیہاری میں 33.80 کروڑ کی سرمایہ کاری سے قائم کردہ مقامی نسلوں کے علاقائی مرکز امتیاز (سی او یو)  کا افتتاح کیا۔
  • عزت مآب وزیر اعظم نے 15 ستمبر2025 کو سیمین اسٹیشن، پورنیا، بہار میں قائم کردہ مقامی طور پر تیار کردہ جنس کے لحاظ سے سیمین کی پیداوار کی سہولت کا افتتاح کیا ہے اور مشرقی اور شمال مشرقی خطے کے کسانوں کے لیے مناسب نرخوں پر سیکس سورٹڈ سیمین دستیاب ہے۔
  • بائیس ستمبر2025 کو محکمہ حیوانات اور ڈیری کے لیے سماجی، بہبود اور حفاظتی شعبوں کے انفارمل گروپ آف منسٹرز (آئی جی او ایم) کے تحت متعلقہ فریقوں کی مشاورتی میٹنگ آئی جی او ایم کے چار ستونوں (قانون سازی، پالیسی، ادارہ جاتی) اور مویشی پروری کے سیکٹر کی اصلاح کے عمل کے  واسطے  تجاویز طلب کرنے کے لیے منعقد ہوئی۔
  • شمال مشرقی خطہ میں پہلی آئی وی ایف لیبارٹری، آر جی ایم کے تحت 28.93 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے ساتھ گوہاٹی، آسام میں قائم کی گئی، جس کا افتتاح 11 اکتوبر2025 کو عزت مآب وزیر اعظم نے کیا تھا۔ یہ جدید ترین سہولت شمال مشرقی ریاستوں میں ڈیری کی ترقی اور افزائش نسل کی بہتری کے لیے رفتار فراہم کرے گی۔
  • سوربھی چیئن شرنکھلا: ڈی اے ایچ ڈی نے پورے ملک میں اعلیٰ نوعیت کے جرمپلازما کو تلاش کرنے اور اس کی ترویج کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر پرفارمنس ریکارڈنگ پروگرام سوربھی چیئن شرنکھلا شروع کیا ہے۔ سوربھی چیین شرنکھلا کے تحت 5 لاکھ جانوروں کی ابتدائی شناخت مکمل کر لی گئی ہے۔

2.2.    ایوارڈ

نیشنل گوپال رتن ایوارڈ مویشیوں اور ڈیری کے شعبے کےاعلیٰ ترین قومی ایوارڈز میں سے ایک ہے۔ سال 2024 کے بعد سے، محکمہ نے شمال مشرقی خطہ (این ای آر)  کی ریاستوں کے لیے تینوں زمروں میں ایک خصوصی ایوارڈ شامل کیا ہے۔ 26 نومبر 2025 کو دہلی میں نیشنل ملک ڈے کے موقع پر 15 ایوارڈ یافتہ افراد کو اعزاز سے نوازا گیا۔

2.3.    2025 کی اہم جھلکیاں:

  • سال کے دوران دودھ کی پیداوار 247.87 ایم ایم ٹی تک پہنچ گئی اور گزشتہ 11 سالوں میں اس میں 69.4 فیصد اضافہ ہوا۔
  • پیداواری صلاحیت میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا جو 27 فیصد درج ہوا ہے،جو کہ 2013-14 کے دوران 1648.17 کلوگرام/جانور/سال سے 2024-25 میں 2079 کلوگرام/جانور/سال ہے جو کہ دنیا میں پیداواری ترقی کی بلند ترین شرح ہے۔
  • دودھ کی پیداوار کی قیمت 2023-24 کے دوران 12.21 لاکھ کروڑ روپے سے زائد ہےجو مالیت کے لحاظ سے اسے سب سے بڑی زراعتی صنف بناتی ہے۔
  • 50فیصد  سے کم اے آئی کوریج والے 623 اضلاع میں ملک گیر مصنوعی تخمدانی پروگرام نافذ کیا گیا اور 623 اضلاع میں سے 126 اضلاع 50فیصد سے زائد  اے آئی کوریج  درج ہوئی۔ اس اقدام کے ساتھ ملک میں اے آئی کوریج قابل افزائش مادہ مویشیوں کے 25فیصد  سے بڑھ کر قابل افزائش مادہ  مویشیوں 40فیصد  تک پہنچ گئی۔
  • مویشیوں اور بھینسوں کی جینیاتی اصلاح کو تیز کرنے کے واسطے، محکمہ نے یونیفائڈ جینومک چپس تیار کیے ہیں - دیسی مویشیوں کے لیے گاؤ چپ اور بھینسوں کے لیے مہیش چپ، خاص طور پر ملک میں جینومک سلیکشن شروع کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ریفرل پاپولیشن تیار کرنے کے لیے اب تک 75,000 جانوروں کو  جینو ٹائپ کیا گیا ہے۔

3. محکمہ مویشی پروری  کی طرف سے دودھ اور ڈیری مصنوعات، دودھ کی خریداری، پروسیسنگ، ویلیو ایڈیشن اور مارکیٹنگ کے معیار کو بڑھانے کے مقصد سے ڈیری ڈیولپمنٹ کے قومی پروگرام  سے متعلق مرکزی سیکٹر اسکیم کو نافذ کیا جا رہا ہے۔ این پی ڈی ڈی (کمپاؤنڈ اے) کے تحت 28 ریاستوں اور 3 مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 2014-15 سے 2025-26 تک (30 ستمبر2025 تک) 253 پروجیکٹوں کو منظوری دی گئی ہے جس کی کل لاگت 4110.98 کروڑ روپے (مرکزی حصہ 2979.56 کروڑ روپے) ہے۔ ان پروجیکٹوں کے نفاذ کے لیے کل 2410.99 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔ مالی سال 2025-26 کے دوران این پی ڈی ڈی (کمپاؤنڈ اے) کے تحت کی گئی اہم حصولیابیاں: (i) پروجیکٹ کی منظوری دینے والی کمیٹی (پی ایس سی) نے اپنی مورخہ 16 جون2025 کی میٹنگ میں این پی ڈی ڈی اسکیم کے تحت  موجودہ مالی سال  کے دوران 21902  نئی ڈیری کوآپریٹو سوسائٹیوں کے قیام کی (اصولی) منظوری دی ہےاور ریاستو کی تجویز/ اہلیت  کے مطابق 17 ریاستوں میں 142.65 کروڑ روپے (مرکزی حصہ 75.86 کروڑ) کے ساتھ 8836 کوآپریٹو سوسائٹیوں کے پروجیکٹ کو منظوری دی گئی ہے اور اس مرکزی حصہ میں سے 37.93 کروڑ روپے ریاستوں کو عمل آوری کے لیے جاری کیے گئے ہیں۔ (ii) پی ایس سی نے اپنی میٹنگ میں 290.95 کروڑ روپے (185.36 کروڑ روپے) کے کل اخراجات کے ساتھ 8 ریاستوں کے پروجیکٹوں کو منظوری دی ہے (iii) 2025-26 کے دوران بی ایم سی کی صلاحیت 467 ٹی ایل پی ڈی اور 2330 الیکٹرانک ملک ایڈلٹریشن ٹیسٹنگ مشین نصب کی گئی، 16 لیبر پلانٹ کو مضبوط کیا گیا اور 2526ڈیری کو آپریٹیو سوسائٹی (ڈی سی ایس)/ ملک پولنگ پوائنٹ (ایم پی پی)  میں آپریشن شروع ہوا۔ محکمہ مویشی پروری  اور ڈیری کی توجہ کسانوں کی منظم منڈی تک رسائی میں اضافہ، ڈیری پروسیسنگ کی سہولیات اور مارکیٹنگ کے بنیادی ڈھانچے کو اپ گریڈ کرکے اور پروڈیوسروں کے ملکیتی اداروں کی صلاحیت کو بڑھا کر دودھ اور ڈیری مصنوعات کی فروخت میں اضافہ پر مرکوز ہے۔ اب تک کل 1617.15 کروڑ روپے کے 42 پروجیکٹوں کو منظوری دی گئی ہے۔ آج تک، این پی ڈی ڈی کے کمپاؤنڈ بی کے تحت، 6516 نئے ڈی سی ایس بنائے گئے، 6480 ڈی سی ایس کو مضبوط کیا گیا اور 9973  اے ایم سی یو/ڈی پی ایم سی  یوقائم کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ، 243 ایل ایل پی ڈی ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی پروسیسنگ کے لیے بنیادی ڈھانچہ قائم کیا گیا ہے۔ اسکیم سپورٹنگ ڈیری کوآپریٹیو  اینڈ فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشن (ایس ڈی سی ایف پی او) کے تحت بینکوں اور مالیاتی اداروں سے اہل شرکت  کنندہ ایجنسیوں (پی اے) کو موصول ہونے والی ورکنگ کیپیٹل قرضوں پر  2فیصد  سالانہ کی سود کی رعاعت فراہم کرتی ہے۔ 31 اکتوبر2025 تک، ملک بھر کی 64 دودھ کی پیداواری تنظیموں کے لیے 80,048 کروڑ روپے کے ورکنگ کیپیٹل لون کی رقم کے مقابلے میں 680.68 کروڑ روپے (358.29 کروڑ روپے باقاعدہ سود کی رعایت کے طور پر اور 322.39 کروڑ روپے اضافی سود کی رعایت کے طور پر) فراہم کیے گئے تھے۔

4. نیشنل لائیواسٹاک مشن (این ایل ایم): اسکیم کا فوکس روزگار پیدا کرنے، کاروباری ترقی، فی جانور پیداوری میں اضافہ اور اس طرح گوشت، بکری کے دودھ، انڈے اور اون کی بڑھتی ہوئی پیداوار پر مرکوز ہے۔ 21 فروری 2024 سے اسکیم میں ترمیم کی گئی ہے  جس کے تحت اونٹ، گھوڑے، گدھے، خچر کی ترقی کے لیے نئی سرگرمیاں شامل کی  گئی ہیں۔ پہلی بار ان جانوروں کو انفرادی، فارمرز پروڈیوسر آرگنائزیشن (ایف پی)،  سیلف ہیلپ گروپس (ایس ایچ جی)، جوائنٹ لائبلیٹی گروپس (جے ایل جی)، فارمرس کوآپریٹو آرگنائزیشن (ایف سی او) اور سیکشن 8 کمپنیوں کی مراعات کے ذریعے بریڈر فارم کے قیام کے  تحت لایا گیا ہے۔ سبز چارے کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے، مشترکہ چراگاہیں، قلیل کثافت  کی جنگلاتی زمین، بنجر زمین اور جنگلاتی زمین کا استعمال کرکے چارے کی پیداوار کی سرگرمیاں بڑھائی گئی ہیں۔ اس سے چارے کی کاشت کے لیے رقبہ بڑھانے میں مدد ملے گی۔ مرکزی حکومت نے لائیواسٹاک انشورنس پروگرام کو بھی  نافذ  کیا ہے۔ استفادہ کنندہ  کی پریمیم کی رقم  15 فیصد تک گھٹا دی گئی ہے جو پہلے مختلف استفادہ کنندگان اور ریاستوں کے زمرے  کے لحاظ سے 20 فیصد سے 50 فیصد کے درمیان تھی۔ اب استفادہ کنندہ اپنے جانوروں کا بیمہ صرف 15فیصد  پریمیم رقم دے کر کرا سکتے ہیں اور باقی پریمیم کی رقم مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت کے ذریعہ 60:40 اور 90:10 اور 100فیصد  کے تناسب سے مرکزی اور ریاستی حصہ کے مطابق دی جائے گی۔ اس کے علاوہ، استفادہ کنندہ کی طرف سے بیمہ کرائے جانے والے جانوروں کی تعداد کو بھی 5 مویشی یونٹ (1 مویشی یونٹ = ایک بڑا جانور یا 10 چھوٹے جانور) سے بڑھا کر 10 مویشی یونٹ کر دیا گیا ہے۔ اب ایک استفادہ کنندہ 100 چھوٹے جانوروں اور 10 بڑے جانوروں کا بیمہ کرا سکتا ہے۔ تاہم سور اور خرگوش کے لیے جانوروں کی تعداد 5 مویشی یونٹ ہوگی۔ فی الحال،  جانوروں کے بیمہ کا اوسط صرف 0.98فیصد  ہے، حکومت نے ملک میں جانوروں کی کل آبادی کے 5فیصد  کا احاطہ کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔

مالیاتی پیش رفت: سال 2025-26 کے دوران 240 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جن میں سے آج تک 160 کروڑ استعمال کیے جا چکے ہیں۔ اب تک، ڈی اے ایچ ڈی کی طرف سے 3843 درخواستوں کو منظوری دی گئی ہے اور 2014 کے مستفیدین کو سبسڈی کے طور پر 474.06 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔

5.       اینیمل ہسبنڈری انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ (اے ایچ آئی ڈی ایف): اینیمل ہسبنڈری انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ ( اے ایچ آئی ڈی ایف) ایک مالی اسکیم ہے جس کا مقصد انفرادی کاروباریوں، نجی کمپنیوں، ایم ایس ایم ای، فارمر پروڈیوسرس آرگنائزیشن (ایف پی او)، کوآپریٹیو، اور سیکشن 8  کی مختلف کمپنیوں  کی طرف سے  مویشی پروری کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ ان میں ویلیو ایڈیشن کے ساتھ ڈیری اور میٹ پروسیسنگ، جانوروں کےچارہ کے پلانٹس، افزائش نسل کی بہتری کی ٹیکنالوجی اور کثیر مقاصد کے  فارم، ویٹرنری ویکسین اور ادویات کی تیاری کی سہولیات، جانوروں کے فضلے سے کمائی  کا نظم اور پرائمری اون پروسیسنگ کا بنیادی ڈھانچہ شامل ہیں۔ یہ منظوری مالی سال 2020-21 کے دوران دی گئی۔ اس کے علاوہ،  ڈیری انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ (ڈی آئی ڈی ایف) کو فروری 2024 میں اے ایچ آئی ڈی ایف میں شامل کر دیا گیا ہے، جس سے نظرثانی شدہ اخراجات 29,610 کروڑ روپے ہو گئے ہیں۔ اس اہم  اسکیم کی کلیدی خصوصیات میں 90 فیصد تک کے قرض پر 3فیصد  سود کی رعایت،  استفادہ کنندہ کے لیے کریڈٹ کی رقم پر کوئی حد نہیں اور ایم ایس ایم ای کے لیے ای بی ایل آر + 200 بیسس پوائنٹس کی شرح سود شامل ہے۔ 10 دسمبر 2025 تک، اسکیم کے تحت کل 465 پروجیکٹوں کی منظوری دی گئی ہے، جن کی مجموعی پروجیکٹ لاگت 21,562.85 کروڑ روپے اور سود  کے ضمن  میں 669.59 کروڑ روپے ہے۔

6. لائیو اسٹاک ہیلتھ اینڈ ڈیزیز کنٹرول پروگرام ( ایل ایچ ڈی سی پی): اس کے تحت مویشیوں کی بڑی بیماریوں سے نمٹنے اور مویشیوں کی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے اور کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے لیے ویٹرنری ہیلتھ کیئر انفراسٹرکچر کو مضبوط کیاجاتا ہے۔  اس پروگرام کی اہم حصولیابیاں درج ذیل ہیں:

6.1 .   نیشنل اینیمل ڈیزیز کنٹرول پروگرام (این اے ڈی سی پی): 2019میں شروع کیا  جانے والا یہ پروگرام، 2030 تک ایف ایم ڈی اور بروسلوسس کو ختم کرنے کے لیے دنیا کا سب سے بڑا اقدام ہے۔ 125.75 کروڑ سے زیادہ ایف ایم ڈی ٹیکے لگائے گئے ہیں، جس سے 26.27 کروڑ کسانوں کو فائدہ پہنچا ہے۔ پی پی آر اور سی ایس ایف  کی ٹیکہ کاری مہم نے بھی مضبوط کوریج حاصل کی ہے۔ 2025 میں، ایف ایم ڈی ٹیکہ کاری کو چرواہی بھیڑوں اور بکریوں تک بڑھا دیا گیا۔

6.2 .   موبائل ویٹرنری یونٹس (ایم وی یو) : 4,019ایم وی یو 29 ریاستوں/ مرکزکے زیر انتطام علاقوں  میں کام کر رہے ہیں، مفت ٹول نمبر 1962 کے ذریعے گھر  پر ویٹرنری خدمات فراہم کی جارہی ہیں۔ ان سے 119.77 لاکھ کسانوں کو فائدہ پہنچایا گیا ہے اور 245.05 لاکھ جانوروں کا علاج کیا گیاہے، جس سے کسانوں کے اعتماد میں اضافہ  ہو رہا ہے اور  لائیو اسٹاک سیکٹر میں قابل قدر اضافہ ہو رہا ہے۔

6.3.    ریاستوں کو جانوروں کی بیماریوں کے کنٹرول کے لیے مدد (اے ایس سی اے ڈی): اس کے تحت ریاستوں کو بڑی ترجیحی بیماریوں پر قابو پانے، لیبارٹریوں کو مضبوط بنانے، اور ریاستی ضروریات اور ترجیحات کی بنیاد پر تربیت اور بیداری کی سرگرمیوں کے انعقاد کے لیے مالی مدد فراہم  کی جاتی ہے۔

7. ویٹرنری تعلیم کی صلاحیت  میں توسیع: اہل ویٹرنری ڈاکٹروں کی دستیابی کو بڑھانے کے واسطے، آئی وی سی ایکٹ، 1984 کے تحت نئے کالجوں کی منظوری دی گئی ہے۔ ویٹرنری کالجوں کی تعداد 2014 میں 36 سے بڑھ کر 2025 میں 84 ہو گئی ہے۔ان کالجوں میں  داخلے نیٹ کے آن لائن اسکور کی بنیاد پر آن لائن کاؤنسلنگ سسٹم کے ذریعے ہوتے ہیں۔

8. مویشیوں کی  گنتی  اور انٹیگریٹیڈ سیمپل سروے اسکیم:

8.1 انٹیگریٹڈ سیمپل سروے: یہ سروے اہم  لائیواسٹاک پروڈکٹس (ایم ایل پی) جیسے دودھ، انڈے، گوشت اور اون کے تخمینے سامنے لانے کے لئے کئے جاتے ہیں۔ تخمینوں کو محکمہ کے بنیادی مویشی شماریات کی سالانہ اشاعت (بی اے ایچ ایس) میں شائع کیا جاتا ہے۔ حال ہی میں، 2024-25 کی مدت کے لیے مویشی پروری کے بنیادی اعدادوشمار (بی اے ایچ ایس) 2025 شائع  کیا گیاہے۔

8.2.    مویشیوں کی گنتی: 21 ویں لائیوا سٹاک  سینسس کا آغاز 25 اکتوبر 2024 کو ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کی وزارت کے وزیر نے کیا ہے۔ لائیو اسٹاک اور پولٹری سے متعلق 21ویں لائیو سٹاک سینسس کے ڈیٹا کا فیلڈ آپریشن مکمل ہو چکا ہے اور فی الحال ڈیٹا کی تصدیق اور رپورٹ کو حتمی شکل دینے کا عمل جاری ہے۔

9. ملک میں گھڑ سواری کی سرگرمیوں کو آسان بنانے کے لیے زندہ گھوڑوں کی درآمد کے بعد قرنطینہ کی مدت کو کم کر کے 21 دن کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، انتہائی پیتھوجینک ایویئن انفلوئنزا سے پاک 44 بھارتی پولٹری اداروں کی فہرست مویشیوں کی  صحت  کا عالمی ادارہ (ڈبلیو او اے ایچ) کو سونپا گیا ہے۔  ڈبلیو او اے ایچ میں نوٹیفکیشن سے پولٹری مصنوعات کی برآمدات میں سہولت فراہم  ہوتی ہے۔

10. ملک کوآپریٹیو اور دودھ پیدا کرنے والی کمپنیوں کے ڈیری فارمر کے لیے کسان کریڈٹ کارڈ: 21 نومبر2025 تک، اے ایچ ڈی فارمر کے لیے 45.60 لاکھ سے زیادہ کے سی سی منظور کیے گئے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ش ح۔م ش ع۔ن م۔

U-263

                         


(रिलीज़ आईडी: 2212362) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Malayalam