سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
ہندوستان عالمی سائنس لیڈر کے طور پر ابھر رہا ہے،ترجماتی تحقیق وکست بھارت کی کلید ہے: ڈی ایس ٹی سکریٹری
प्रविष्टि तिथि:
07 JAN 2026 10:51AM by PIB Delhi
انڈین نیشنل سائنس اکیڈمی (آئی این ایس اے) نے 7 جنوری 2026 کو نئی دہلی میں اپنا 91 واں یوم تاسیس منایا۔ اس موقع پر اس اکیڈمی کے ملک میں سائنس اور سائنسی مزاج کی ترقی کے لیے نو دہائیوں سے زیادہ کی خدمات کویاد کیا گیا۔ اس موقع پرسائنس اور ٹیکنالوجی کے محکمے (ڈی ایس ٹی) کے سکریٹری پروفیسر ابھے کرنڈیکر نے ’’وکست بھارت کے لیے سائنس اور ٹیکنالوجی کے منظر نامے میں یکسر تبدیلی‘‘ کے موضوع پر دیے گئے آئی این ایس اے ممتاز عوامی لیکچرپیش کیا۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر کرنڈیکر نے عالمی سائنس اور اختراعی اشاریوں میں ہندوستان کے مسلسل عروج پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اب سائنس اور انجینئرنگ کی اشاعتوں اور پی ایچ ڈی کی پیداوار میں عالمی سطح پر سرفہرست تین ممالک میں شامل ہے اور مقیم ہندوستانیوں کے ذریعے پیٹنٹ فائلنگ میں دنیا بھر میں چھٹے مقام پر پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان نے گزشتہ دہائی کے دوران اختراع سے متعلق عالمی اشاریے میں اپنی پوزیشن کو 90 ویں سے بڑھا کر 30 ویں مقام پر پہنچا دیا ہے، جو تحقیق اور اختراعی ماحولیاتی نظام کو مستحکم کرنے کی مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔
پروفیسر کرنڈیکر نے مقامی کوانٹم ٹیکنالوجیز اور ہندوستان کے مخصوص اے آئی ماڈلز میں ابتدائی کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہوئے، قومی کوانٹم مشن ، ہندوستانی زبانوں اور عوامی شعبے کی ایپلی کیشنز کے لیے خودمختار اے آئی ماڈلز کی ترقی اور بائیو-ای 3 پالیسی کے تحت بائیو مینوفیکچرنگ کے اقدامات سمیت ہندوستان کے مستقبل کی ٹیکنالوجی کے منظر نامے کی تشکیل کرنے والے کلیدی شعبہ جاتی مشنوں پر زور دیا۔
سکریٹری موصوف نے کہا کہ لیبارٹری ریسرچ اور سماجی و اقتصادی اثرات کے درمیان فرق کو ختم کرنے کے لیے صنعتی و تعلیمی تعاون کو بڑھانا اور تحقیق و ترقی میں نجی شعبے کی شرکت کو بڑھانا ضروری ہے۔ انہوں نے انوسندھان نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن (اے این آر ایف) اور ڈیپ ٹیک اور ہائی امپیکٹ پروجیکٹوں کی مدد کے لیے 1 لاکھ کروڑ روپے کے تحقیق، ترقی اور اختراع (آر ڈی آئی) سے متعلق فنڈ جیسے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی ۔
اپنے استقبالیہ خطاب میں آئی این ایس اے کے صدر پروفیسر شیکھر سی مانڈے نے اکیڈمی کی وراثت اور قومی کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ 91 سال سے آئی این ایس اے سائنسی مہارت کو فروغ دے رہا ہے، شواہد پر مبنی پالیسی مشوروں کو فروغ دے رہا ہے اور سائنس اور معاشرے کے درمیان روابط کو مضبوط کر رہا ہے۔
سال1935 میں قائم کیے گئے آئی این ایس اے ہندوستانی سائنسدانوں کا اعلی ترین ادارہ ہے جو سائنس کے فروغ اور قومی ترقی کے لیے اس کے اطلاق کے لیے وقف ہے۔ اکیڈمی سائنس اور ٹیکنالوجی کی تمام شاخوں سے فیلوز کا انتخاب کرتی ہے، بین الاقوامی تعاون کو فروغ دیتی ہے، حکومت کو سائنس کی پالیسی پر مشورہ دیتی ہے اور لیکچرز، اشاعتوں اور آؤٹ ریچ پروگراموں کے ذریعے سائنسی مزاج کو فروغ دیتی ہے۔
اس تقریب میں سینئر سائنسدانوں، پالیسی سازوں اور محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی اور انڈین نیشنل سائنس اکیڈمی کے عہدیداروں نے شرکت کی۔



۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ش ح –ک ح،ص –ج)
U. No. 270
(रिलीज़ आईडी: 2212361)
आगंतुक पटल : 5