ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

نیروبی میں    اقوامِ متحدہ کی ماحولیات سے متعلق اسمبلی   کے ساتویں اجلاس ( یو این ای اے   – سات) میں ’ عالمی  سطح پر جنگل کی آگ کے  بندوبست کو مستحکم بنانے ‘  پر بھارت کی  جانب سے پیش کی گئی قرارداد منظور کی گئی


بھارت کی جانب سے جنگل کی  آگ کی پیشگی روک تھام اور بندوبست کے لیے

صلاحیت سازی اور مالی وسائل تک رسائی میں عالمی تعاون کو مضبوط بنانے پر زور  دیاگیا

प्रविष्टि तिथि: 12 DEC 2025 8:20PM by PIB Delhi

کینیا کی راجدھانی نیروبی میں منعقدہ اقوامِ متحدہ  کی ماحولیات سے متعلق اسمبلی کے ساتویں اجلاس  ( یو این ای اے – 7 )   میں  بھارت کی جانب سے   عالمی سطح پر جنگل کی آگ کے بندوبست کو مستحکم بنانے  پر  ، بھارت کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کو   آج منظور کر لیا گیا ۔  بھارت کی جانب سے پیش کی گئی قرار داد کو رکن ممالک کی وسیع حمایت حاصل ہوئی، جس سے دنیا بھر میں جنگل کی  آگ کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کی فوری ضرورت کو  ، عالمی  سطح پر تسلیم  کیا گیا ۔

بھارت نے اس بات پر زور دیا کہ جنگل کی آگ عالمی سطح پر ابھرتے ہوئے سب سے سنگین ماحولیاتی چیلنجوں میں سے ایک بن چکی ہے۔ اس قرارداد کا مقصد  ، جنگل کی آگ کے مؤثر  بندوبست  کے لیے  ، بین الاقوامی تعاون اور مربوط اقدامات کو مضبوط بنانا ہے۔ اس میں  اجاگر کیا گیا ہے کہ دنیا کے مختلف خطوں میں جنگل  میں لگنے والی آگ کے واقعات کی تعداد،  حجم اور شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جو کبھی صرف موسمی نوعیت کے  ہوتے تھے۔ اب یہ آگ بار بار اور طویل  مدتی ہو چکی ہے، جس کی بنیادی وجوہات  آب و ہوا کی تبدیلی ، بڑھتا ہوا درجۂ حرارت، طویل خشک سالی اور انسانی سرگرمیاں ہیں۔

ہر سال لاکھوں ہیکٹر اراضی آگ سے متاثر ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں جنگلات، حیاتیاتی تنوع، آبی وسائل، مٹی کی  زرخیزی ، ہوا کے معیار اور روزگار کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ جنگل کی آگ  سے بڑی  مقدار میں گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج بھی  ہوتا ہے  ۔ اس سے  کاربن سنکس  کمزور  ہوتا  ہے اور جنگلات پر انحصار کرنے والی  برادریوں اور قومی معیشتوں پر گہرے اثرات مرتب  ہوتے ہیں ۔

بھارت نے اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام  ( یو این ای پی )  کی عالمی رپورٹ  ’’ اسپریڈنگ لائک وائلڈ لائف ‘‘   کی جانب توجہ دلائی، جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر موجودہ رجحانات برقرار رہے تو  2030  ء تک جنگل کی آگ میں  14  فی صد،  2050  ء تک  30  فی صد اور  2100  ء تک  50  فی صد اضافہ ہو سکتا ہے۔ بھارت نے زور دیا کہ ان تخمینوں سے  واضح  ہوتا  ہے  کہ جنگل کی آگ ایک طویل  مدتی، ماحولیاتی تبدیلی سے  وابستہ  ایک عالمی خطرہ ہے، جس کے لیے فوری اور مربوط بین الاقوامی کارروائی ناگزیر ہے۔ بھارت نے ردِعمل پر مبنی اقدامات سے ہٹ کر پیشگی روک تھام کی جانب منتقلی پر زور دیا، جس میں بہتر منصوبہ بندی، ابتدائی انتباہی نظام اور بروقت خطرات میں کمی کے اقدامات شامل ہوں۔

بھارت نے کہا کہ عالمی نقطۂ نظر اب آگ کے مربوط  بندوبست کی جانب بڑھ رہا ہے، جو ابتدائی انتباہی نظام، خطرات کی نقشہ بندی، سیٹلائٹ پر مبنی نگرانی اور مقامی برادریوں و  صف اول کے اہلکاروں کی مشترکہ کوششوں پر مبنی ہے۔ بھارت نے جنگل کی آگ سے نمٹنے کے لیے ممالک کی معاونت، مربوط حکمتِ عملی کی تیاری اور ماحولیاتی  بازآباد کاری کے اقدامات میں   یو این ای پی  کے کلیدی کردار کو اجاگر کیا۔ اس موقع پر  ایف اے او  اور  یو این ای پی  کے اشتراک سے  2023  ء میں قائم کیے گئے   آگ کے بندوبست کے عالمی  مرکز  کو  ، بین الاقوامی کوششوں کی معاونت کے لیے ایک اہم ذریعہ قرار دیا گیا۔

بھارت کی قرارداد کے اہم التزامات

یہ قرارداد آگ کے بندوبست کے عالمی  مرکز   کے تحت جاری عالمی سرگرمیوں کو مزید مضبوط بنانے کے مقصد سے پیش کی گئی ہے اور  اس میں درج ذیل امور پر زور  دیا گیا ہے:

  • بین الاقوامی تعاون کو  مستحکم کرنا: ابتدائی انتباہی نظام، خطرات کے تجزیے کے آلات، سیٹلائٹ اور زمینی بنیادوں پر ماحولیاتی نظام کی نگرانی کی تیاری، نیز کمیونٹی پر مبنی الرٹ نظام کے فروغ پر زور۔
  • علاقائی اور عالمی  اشتراک میں اضافہ: آگ کی روک تھام، بعد از ردِعمل  اور بحالی نیز   ماحولیاتی نظام کی بحالی کے لیے معاون طریقۂ کار کی تشکیل۔
  • معلومات  کے  باہمی تبادلے اور صلاحیت سازی: بہترین طریقۂ کار کے لیے پلیٹ فارمز کا قیام اور متعلقہ فریقوں  کے لیے تربیتی اور صلاحیت سازی کے پروگراموں کا انعقاد۔
  • قومی اور علاقائی ایکشن پلانز کو مدد کی فراہمی :  رکن ممالک کو  آگ کے مربوط  بندوبست اور جنگل کی آگ کے خلاف  مستحکم حکمتِ عملی کی تیاری اور نفاذ میں مدد فراہم کرنا۔
  • بین الاقوامی مالی وسائل تک رسائی کو سہل بنانا: رکن ممالک کو کثیر جہتی مالیاتی  طریقۂ کار  اور نتائج پر مبنی اسکیموں کے ذریعے فنڈنگ حاصل کرنے کے لیے منصوبہ جاتی تجاویز تیار کرنے میں تعاون کرنا ۔

بھارت نے اس موقع پر  ، یو این ای پی ، رکن ممالک اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ بڑھتے ہوئے جنگل کی  آگ کے خطرات کے پیش نظر عالمی سطح پر تیاری، روک تھام اور  استحکام کو  یقینی بنایا جا سکے۔

....

) ش ح –   م ع   -  ع ا )

U.No. 152


(रिलीज़ आईडी: 2211562) आगंतुक पटल : 14
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Marathi