بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
مرکزی وزیر سربانند سونووال نے کرشنا گرو روحانی یونیورسٹی کے کانووکیشن میں جدید تعلیم اور روحانی اقدار کے انضمام پر زور دیا
ستریا کے فنکار پدم بھوشن جتن گوسوامی کو ہندوستانی کلاسیکی رقص میں تاحیات شراکت کے لیے اعزازی ڈاکٹریٹ سے نوازا گیا
آسام کے گورنر لکشمن پرساد آچاریہ نے اس تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی
प्रविष्टि तिथि:
22 DEC 2025 7:55PM by PIB Delhi
بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر، سربانند سونووال نے طلبا سے مطالبہ کیا کہ وہ معیاری جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ روحانی تعلیم حاصل کریں اور اس بات پر زور دیا کہ امرت کال کے دوران ایک ترقی یافتہ، خود انحصاری اور قدر پر مبنی ہندوستان کی تعمیر کے لیے ایسا متوازن نقطہ نظر ضروری ہے۔
سربانند سونووال آسام کے بارپیٹا ضلع کے نا-سترا میں منعقدہ کرشنا گرو روحانی یونیورسٹی کے پہلے کانووکیشن کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ آسام کے گورنر لکشمن پرساد آچاریہ نے اس موقع پر بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔
مختلف شعبوں کے طلباء کو ڈاکٹریٹ، پوسٹ گریجویٹ ڈگریوں اور دیگر تعلیمی قابلیتوں سمیت ڈگریاں دی گئیں۔ شاندار تعلیمی کارکردگی پر گولڈ میڈل سے بھی نوازا گیا۔
تقریب کے دوران ستریہ رقص کے ممتاز فنکار اور پدم بھوشن ایوارڈ یافتہ جتن گوسوامی کو ہندوستانی کلاسیکی رقص، ثقافت اور روحانی جمالیات کے لیے عمر بھر کی خدمات کے اعتراف میں اعزازی ڈاکٹریٹ سے سرفراز کیا گیا۔ اس اعزاز پر حاضرین کی جانب سے دیر تک تالیاں بجائی گئیں، جس سے آسام کے بھرپور ثقافتی ورثے کے تحفظ اور فروغ میں گوسوامی کے کردار کو سراہا گیا۔
مجمع سے خطاب کرتے ہوئے سربانند سونووال نے کہا کہ بھارت ایک نوجوانوں کی اکثریت والا ملک ہے اور ملک کے مستقبل کی تشکیل کی بڑی ذمہ داری طلبہ پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تعلیم کو صرف ڈگریوں اور تکنیکی مہارت تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کے ذریعے باطنی قوت، اخلاقی اقدار اور سماجی ذمہ داری کا شعور بھی پروان چڑھنا چاہیے۔
سربانند سونووال نے کہا: ”معیاری جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ طلبا کو روحانی تعلیم کے ذریعے اپنے اندر روشنی پیدا کرنی چاہیے، تبھی ہم ایک مضبوط معاشرہ اور ایک ترقی یافتہ بھارت بنا سکتے ہیں۔“
اپنے ذاتی تجربات کو یاد کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے کہا کہ انہوں نے پرم گرو کرشن گرو سے نہایت قیمتی اسباق سیکھے۔ سونووال نے کہا: ”میں نے اپنی زندگی میں جو بھی عوامی خدمت انجام دے سکا ہوں، وہ اپنے گرو کو یاد کر کے ہی کر سکا ہوں۔ انسانیت، ہمدردی، فطرت کے ساتھ ہم آہنگی اور سماج کی خدمت سے متعلق ان کی تعلیمات ہر قدم پر میری رہنمائی کرتی رہتی ہیں۔“
جناب سونووال نے کہا کہ کرشن گرو اسپرچوئل یونیورسٹی جیسے ادارے روحانیت کو علمی امتیاز کے ساتھ ہم آہنگ کر کے ہمہ جہت تعلیم کے وژن کو ایک نئی جہت دیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب کرشن گرو سیواشرم قائم کیا گیا تو نا-سترا خطہ سیلاب زدہ اور پسماندہ تھا اور وہاں ایک مضبوط تہذیبی مرکز قائم کرنا ایک بڑا اور دشوار چیلنج تھا۔ انہوں نے کہا: ”آج وہ وژن ایک ایسے ادارے کی صورت میں پھل پھول چکا ہے جو سماج میں روشنی اور اقدار پھیلاتا ہے۔“
طلبا سے زیادہ ذمہ داری اٹھانے کی اپیل کرتے ہوئے سونووال نے کہا کہ ایسے اداروں کے فارغ التحصیل افراد جہاں بھی خدمات انجام دیں، وہاں ان کی تربیت ان کے کردار، طرز عمل اور وابستگی کے ذریعے نمایاں ہونی چاہیے۔ انہوں نے طلبا کو تلقین کی کہ سخت مقابلے کے اس دور میں وقت کو دانش مندی سے استعمال کریں اور اسمارٹ کلاس روم، اسمارٹ ٹیچر اور اسمارٹ سٹی کے عہد میں اپنی مہارتوں کو مسلسل اپ گریڈ کرتے رہیں۔
جناب سونووال نے جامع نشوونما کے لیے یوگا کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں یوگا کو جسم، ذہن اور روح کو مضبوط بنانے کے ایک ذریعہ کے طور پر عالمی سطح پر شناخت ملی ہے۔
بھارت کے آبادیاتی فائدے کا حوالہ دیتے ہوئے سونووال نے کہا کہ چین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے کئی ممالک کو عمر رسیدہ ہوتی آبادی کا چیلنج درپیش ہے، جبکہ بھارت کی نوجوان آبادی میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ ملک کو ایک عالمی طاقت میں تبدیل کر دے۔ انہوں نے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ مرکزی حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے نوجوانوں پر مرکوز بلند ہدف اقدامات کو سمجھیں اور ان میں اپنا کردار ادا کریں۔
اپنے خطاب میں گورنر آچاریہ نے سماجی اور قومی اصلاح میں روحانیت کے مرکزی کردار پر زور دیا۔ انہوں نے کہا: ”روحانیت اقدار اور سنسکار کا نام ہے۔ معاشرے اور قوم کی اصلاح کے لیے سب سے پہلے اپنی اصلاح ضروری ہے،“ اور اعتماد ظاہر کیا کہ فارغ التحصیل طلبہ اس اصول کو اپنے اندر جذب کریں گے۔
گورنر نے کہا کہ تاریخی طور پر بھارت کے تعلیمی ادارے علمی اور روحانی فکر کے عالمی مراکز رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رسمی نصاب سے آگے بڑھ کر ان اداروں میں کردار سازی، اخلاقی طرزِ عمل، ہمدردی اور ہمہ جہت نشوونما پر زور دیا جاتا تھا اور اس روایت کا تحفظ اور احیا ایک مضبوط اور خوشحال آسام اور بھارت کی تعمیر کے لیے نہایت ضروری ہے۔
جتن گوسوامی کی پذیرائی کی تعریف کرتے ہوئے آچاریہ نے کہا کہ 93 سالہ استادِ فن کی توانائی اور نظم و ضبط کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا انتہائی متاثر کن تھا۔ انہوں نے کہا: ”جب ایسی شخصیت کو اعزاز دیا جاتا ہے تو صرف فرد ہی نہیں، ادارہ بھی سرفراز ہوتا ہے۔“
آچاریہ نے سونووال کے خطاب کو بھی سراہا اور کہا کہ اس میں روایتی سیاسی بیان بازی کے بجائے سادگی، علمی گہرائی اور خلوص جھلکتا ہے۔
اس کانووکیشن تقریب میں روحانی پیشوا گرو کرشن شری شری پریمانند پربھو، بھکت ماتا اور کرشن گرو فاؤنڈیشن ٹرسٹ کی چیئرپرسن کُنتلا پٹووری گوسوامی، وائس چانسلر پروفیسر موہن چندر کالیتا، سینیئر ماہرینِ تعلیم، ٹرسٹیز، طلبہ اور ان کے اہلِ خانہ کے علاوہ دیگر معزز مہمانوں نے شرکت کی۔





***
ش ح۔ ف ش ع
U: 3799
(रिलीज़ आईडी: 2207561)
आगंतुक पटल : 44