وزارت آیوش
وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے روایتی طریقہ علاج پر دوسری ڈبلیو ایچ او عالمی سربراہ اجلاس کی اختتامی تقریب میں صحت اور تندرستی میں توازن بحال کرنے کے لیے عالمی سطح پر تیزی سے اقدامات کرنے پر زور دیا
روایتی طریقہ علاج میں ہندوستان کی قیادت سائنس ، ٹیکنالوجی اور قدیم حکمت کے ہم آہنگی کی عکاسی کرتی ہے: وزیر اعظم
روایتی طریقہ علاج شواہد پر مبنی، محفوظ اور عالمی سطح پر قابلِ اعتماد ہونی چاہیے: وزیر اعظم
وزیر اعظم نے اشوگندھا کو ایک تجربہ شدہ جڑی بوٹی کے طور پر پیش کیا، جو تحقیق اور تصدیق کے ذریعے عالمی سطح پر قبولیت کو فروغ دے رہی ہے
وزیر اعظم اور عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل نے عالمی ادارۂ صحت کے جنوب مشرقی ایشیا کے علاقائی دفتر کا افتتاح کیا اور آیوش مارک سمیت اہم آیوش اقدامات کا آغاز کیا
عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس نے روایتی طریقہ علاج کو ورثے سے مرکزی صحت کی دیکھ بھال میں منتقل کرنے کے لیےہندوستان کی تعریف کی
عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ ہندوستان نے ثابت کیا ہے کہ روایتی طریقہ علاج ماضی کی کوئی یادگار نہیں بلکہ متحرک سائنس ہے
ہندوستان روک تھام اور مجموعی صحت کی دیکھ بھال کے لیے آیوش کو جدید طریقہ علاج کے ساتھ مربوط کر رہا ہے: جناب جے پی نڈا
روایتی طریقہ علاج عوام پر مرکوز صحت کی دیکھ بھال کا ایک مرکزی ستون بن کر ابھرا ہے: جناب پرتپ راؤ جادھو
روایتی طریقہ علاج پر دوسری ڈبلیو ایچ او عالمی سربراہ کانفرنس انضمام ، شواہد اور مساوات پر مضبوط عالمی اتفاق رائے کے ساتھ اختتام پذیر
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
19 DEC 2025 11:18PM by PIB Delhi
وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں روایتی طریقہ علاج سے متعلق عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے دوسرے سربراہی اجلاس کی اختتامی تقریب سے خطاب کیا ، جس میں عالمی صحت کے نظام کے شواہد پر مبنی ، مربوط اور عوام پر مرکوز جزو کے طور پر روایتی طریقہ علاج کو فروغ دینے میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی قیادت کی نشاندہی کی گئی ۔ وزیر اعظم نے اس سربراہ اجلاس کو بین الاقوامی تعاون کے ایک مضبوط پلیٹ فارم کے طور پر اجاگر کیا ، جس میں دنیا بھر کے عالمی رہنماؤں ، پالیسی سازوں ، سائنسدانوں اور پریکٹیشنرز کے درمیان سنجیدہ اور تعمیری بات چیت ہوئی ۔
وزیر اعظم نے فخر کا اظہار کیا کہ گجرات کے جام نگر میں ڈبلیو ایچ او گلوبل سینٹر فار ٹریڈیشنل میڈیسن(ڈبلیو ایچ او عالمی مرکز برائے روایتی طریقہ علاج) قائم کیا گیا ہے۔ انہوں نے یاددہانی کرائی کہ یہ ذمہ داری عالمی برادری نے 2022 میں ہندوستان کو سونپی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ مرکز تیزی سے تعاون ، تحقیق، ضابطے اور صلاحیت سازی کے عالمی مرکز کے طور پر ابھرا ہے ، جو ہندوستان کی قیادت پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی اعتماد کی عکاسی کرتا ہے ۔ انہوں نے روایتی طریقہ علاج میں عالمی شراکت داری کو مضبوط بنانے کے لیے ایک باہمی تعاون کے پلیٹ فارم کے طور پر کام کرنے کے ہندوستان کے عزم کا اعادہ کیا ۔
وزیر اعظم نےسربراہی اجلاس کے موضوع،’توازن کی بحالی: سائنس اور صحت و تندورستی کاعملی اطلاق‘ پر زور دیتے ہوئے اجاگر کیا کہ آیوروید میں بیان کیے گئے جامع صحت کی بنیاد توازن ہے۔ انہوں نےاس بات کی نشاندہی کی کہ جدید صحت کے بہت سارے مسائل -طرز زندگی کی خامیوں سے لے کر دائمی امراض تک-عدم توازن کی مختلف شکلوں سے متعلق ہیں اور توازن کی بحالی نہ صرف ایک عالمی وجہ بلکہ ایک عالمی ضرورت بن گئی ہے ۔ انہوں نے ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے خاص طور پر تکنیکی تبدیلی سے چلنے والے تیزی سے بدلتے ہوئے طرز زندگی کے تناظر میں ، تیز تر اور مربوط کارروائی پر زور دیا۔
وزیر اعظم نے اعتماد اور ساکھ کی بحالی کی ضرورت پر روشنی ڈالتےہوئے زور دیا کہ روایتی طریقہ علاج کو سائنسی تصدیق، عالمی سطح پر قابل قبول معیارات اور ڈیجیٹل جدت کی حمایت حاصل ہونی چاہیے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ آج شروع کی گئی روایتی طریقہ علاج کی عالمی لائبریری جیسے اقدامات عالمی سطح پر سائنسی ڈیٹا اور پالیسی وسائل تک مساوی رسائی کو یقینی بنائیں گے۔ انہوں نے عالمی عوامی صحت کے لیے ہندوستان کے عزم کو دوہراتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ وہ روایتی طریقہ علاج کو اعتماد، احترام اور مشترکہ ذمہ داری کے ساتھ فروغ دیں۔
وزیر اعظم نے روایتی طریقہ علاج کے تحفظ اور شواہد کی بنیاد سے متعلق اکثر اٹھائے جانے والے تحفظات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان تحقیق اور تصدیق کے ذریعے ان مسائل کو حل کرنے کے لیے مسلسل کام کر رہا ہے۔ انہوں نے اشوگندھا کو ایک تجربہ شدہ جڑی بوٹی کی مثال کے طور پر پیش کیا جس نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی، خاص طور پر کووڈ-19 کے دوران اور نشاندہی کی کہ ہندوستان حفاظت، معیار اور استعمال پر شواہد پر مبنی تحقیق کے ذریعے اس کی عالمی قبولیت کو فروغ دے رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان روایتی طریقہ علاج کو جدید صحت کی دیکھ بھال کے ساتھ مربوط کرنے کرنے کے لیے پرعزم ہے، جس میں مربوط کینسر کی دیکھ بھال کو بہتر بنانے اور شواہد پر مبنی رہنما اصول تیار کرنے کی پہلیں شامل ہیں اور اس طرح روایتی طریقہ علاج کے کردار کو فلاح و بہبود سے آگے بڑھا کر عوامی صحت کے اہم شعبوں میں وسعت دی جا رہی ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ادھانوم گھیبریسوس نے اعلیٰ ترین عالمی سطح پر روایتی طریقہ علاج کی حمایت کرنے پر وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی تعریف کی ۔ انہوں نے ہندوستان کی جی 20 صدارت کے دوران عالمی تعاون کے لیے وزیر اعظم کی اپیل کو یاد کیا اور کہا کہ اس نے ایک بے مثال بین الاقوامی ردعمل پیدا کیا ۔ ڈاکٹر ٹیڈروس نے کہا کہ وزیر اعظم کا ون ارتھ ، ون ہیلتھ کا وژن روایتی طریقہ علاج کے بنیادی اصولوں کے ساتھ گہرائی سے مطابقت رکھتا ہے ، جس میں توازن ، روک تھام اور فطرت کے ساتھ ہم آہنگی پر زور دیا گیا ہے ۔
ڈاکٹر ٹیڈروس نے وژن کو عملی اقدام میں تبدیل کرنے کے لیے ہندوستان کی تعریف کی۔ انہوں نے ملک کو عالمی سطح پر روایتی طریقہ علاج کو ورثے سے شواہد پر مبنی عمل میں منتقل کرنے میں رہنما قرار دیا۔ انہوں نے آیوش کی وزارت کا قیام اور جمناگر میں عالمی ادارۂ صحت کے عالمی مرکز برائے روایتی طب جیسے اہم اقدامات کو اجاگر کیا اور نشاندہی کی کہ ان کوششوں نے روایتی طریقہ علاج کو صحت کے نظاموں، تحقیق اور پالیسی میں مربوط کرنے میں مدد فراہم کی ہے ، جس سے عالمی سطح پرعالمی صحت کے احاطے اور پائیدار ترقی میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے دہلی اعلامیہ کے اپنانے کو بھی ایک اہم پیش رفت کے طور پر خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے واضح طور پر یہ ثابت کیا ہے کہ روایتی طریقہ علاوج ماضی کی یادگار نہیں ہے ، نہ ہی کوئی متبادل حاشیے تک محدود ہے ، بلکہ ایک متحرک اور ترقی پذیر سائنس ہے، جو جدید صحت کے نظاموں میں کافی اہمیت رکھتی ہے۔
صحت اور خاندانی بہبود کے مرکزی وزیر جناب جے پی نڈا نے روایتی طریقہ علاج کی مسلسل حمایت کرنے اور اسے ایک قابل اعتماد اور عالمی سطح پر قابل قبول صحت کی دیکھ بھال کے نظام کے طور پر قائم کرنے کے لیے وزیر اعظم کی دور اندیش قیادت کی تعریف کی ۔ انہوں نے سائنسی ، شواہد پر مبنی نقطہ نظر کے ذریعے آیوش کو آگے بڑھانے اور اسے جدید طریقہ علاج کے ساتھ مربوط کرنے کے لیے ہندوستان کے عزم پر زور دیا تاکہ روک تھام ، فروغ دینے والی اور مجموعی صحت کی دیکھ بھال کو مضبوط کیا جا سکے ۔
جناب نڈا نے ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آیوش کو وقف آیوش بلاکس کے ذریعے ایمس سمیت اہم طبی اداروں میں کامیابی کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس ہم آہنگی نے صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو الگ الگ کام کرنے کے بجائے مل کر کام کرنے کے قابل بنایا ہے ، جس سے صحت عامہ کے قابل ذکر نتائج برآمد ہوئے ہیں ۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ سربراہی اجلاس کے نتائج پورے خطے اور اس سے باہر صحت کے نظام کو نمایاں طور پر مضبوط کریں گے ۔
آیوش کی وزارت کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) جناب پرتاپ راؤ جادھو نے عالمی رہنماؤں ، ڈبلیو ایچ او کے نمائندوں ، ماہرین ، صنعتی اسٹیک ہولڈرز اور رکن ممالک کا ان کی فعال شرکت کے لیے شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ سربراہ اجلاس عالمی صحت کی گفتگو میں ایک فیصلہ کن تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے ، جس میں روایتی ادویات کو عوام پر مرکوز ، روک تھام اور مجموعی صحت کی دیکھ بھال کے ایک لازمی ستون کے طور پر مضبوطی سے پیش کیا گیا ہے۔
جناب جادھو نےہندوستان کی قیادت کو اجاگر کرتے ہوئے جمناگر میں ڈبلیو ایچ او کے عالمی مرکز برائے روایتی طریقہ علاج کو عالمی تعاون، تحقیق اور جدت کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ جامع طرزِ زندگی پر مبنی آیوش نظاموں کی حمایت بڑھتی ہوئی سائنسی تصدیق، ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مربوط صحت کی دیکھ بھال کو مستقبل قرار دیتے ہوئے رکن ممالک سے اپیل کی کہ وہ سربراہی اجلاس کے نتائج کو عالمی ادارۂ صحت کے شراکت کے ساتھ قومی سطح پر ٹھوس اقدامات میں تبدیل کریں۔
تقریب کے دوران وزیر اعظم اور ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل نے نئی دہلی میں ڈبلیو ایچ او کے جنوب مشرقی ایشیا کے علاقائی دفتر کی عمارت کا مشترکہ طور پر افتتاح کیا ، جس میں ڈبلیو ایچ او انڈیا کنٹری آفس بھی ہوگا ۔ نئے کمپلیکس کا تصور جنوب مشرقی ایشیا کے پورے خطے میں تحقیق کو آگے بڑھانے ، ریگولیٹری تعاون کو مضبوط بنانے اور صلاحیت سازی کے لیے ایک عالمی مرکز کے طور پر کیا گیا ہے ، جس سے عالمی ادارہ صحت کے ساتھ ہندوستان کی شراکت داری مزید گہری ہوگی ۔
وزیر اعظم نے روایتی طریقہ علاج کی عالمی لائبریری کا بھی افتتاح کیا، جو ایک تاریخی عالمی پلیٹ فارم ہے اور روایتی طریقہ علاج سے متعلق سائنسی ڈیٹا، پالیسی دستاویزات اور تصدیق شدہ علم کو محفوظ رکھنے اور مساوی رسائی فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے روایتی طریقہ علاج کے ڈسکوری اسپیس کا بھی دورہ کیا، جو ایک نمائش ہونے کے ساتھ ساتھ ہندوستان اور دنیا بھر کے روایتی طریقہ علاج کے علم کے نظاموں کی تنوع، گہرائی و عصری اہمیت کو ظاہر کرتی ہے اور اس کے علاوہ قدیم حکمت اور جدید اختراعات کی اہم آہنگی کو بھی اجاگر کرتی ہے۔
وزیر اعظم نے یوگا کے فروغ میں بہترین کارکردگی کو تسلیم کرتے ہوئے، یوگا کے فروغ اور ترقی میں شاندار تعاون کے لیے قومی اور بین الاقوامی افراد اور تنظیموں کو ان کی مثالی خدمات کے لیے اعزاز سے نوازا ۔ انہوں نے اس شعبے میں ہندوستان کی قیادت کو اجاگر کرنے والے آیوش کے کلیدی اقدامات کا بھی آغاز کیا ، جن میں آیوش گرڈ کے ماسٹر ڈیجیٹل پورٹل کے طور پر مائی آیوش انٹیگریٹڈ سروسز پورٹل (ایم اے آئی ایس پی) ، معیاری آیوش مصنوعات اور خدمات کے لیے ایک عالمی معیار کے طور پر تصور کردہ آیوش مارک ، اشواگندھا پر ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ ، یوگا میں تربیت سے متعلق ڈبلیو ایچ او کی تکنیکی رپورٹ اور ’فرام روٹس ٹو گلوبل ریچ: آیوش میں 11 برس کی تبدیلی‘ کے عنوان سے کتاب شامل ہیں ۔
روایتی طریقہ علاج پر عالمی ادارۂ صحت کے دوسرے عالمی سربراہی اجلاس کا اختتام دہلی اعلامیہ کے اپنانے کے ساتھ ہوا، جس میں روایتی طریقہ علاج کو مشترکہ حیاتیاتی و ثقافتی ورثے کے طور پر دوبارہ تسلیم کیا گیا اور رکن ممالک نے عالمی ادارۂ صحت کی روایتی طریقہ علاج کی عالمی حکمت عملی 2025– تا 2034 کے مطابق شواہد، ضابطہ کاری، یکجہتی اور شعبہ جاتی تعاون کو مضبوط کرنے کا عہد کیا۔ یہ سربراہی اجلاس بات چیت سے عملی اقدامات کی طرف واضح منتقلی کی علامت تھا، جس سے ہندوستان کی قیادت اور سب کے لیے محفوظ ، موثر ، مساوی اور پائیدار صحت کی دیکھ بھال کے لیے مشترکہ عالمی عزم کو تقویت ملی ۔







* * * ** * * *
)ش ح – م ع ن- م ش(
UN.3763
(ریلیز آئی ڈی: 2207344)
وزیٹر کاؤنٹر : 35