نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

نائب صدر جمہوریہ جناب سی پی رادھا کرشنن کاحیدرآباد میں ریاستی پبلک سروس کمیشنوں کے چیئرمینوں کی قومی کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب


نائب صدر جمہوریہ نے قوم کی تعمیر میں پبلک سروس کمیشنوں (پی ایس سی) کے کردار کو اجاگر کیا

وکست بھارت کے لیے عوامی خدمات کا معیار فیصلہ کن: نائب صدر

اہلیت کو صرف برقرار ہی نہیں رکھنا چاہیے، بلکہ یہ بھی  نظرآنا چاہیے کہ اسے برقرار رکھا گیا ہے: نائب صدر جمہوریہ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 20 DEC 2025 7:01PM by PIB Delhi

نائب صدر جمہوریہ ہند جناب سی پی رادھا کرشنن نے آج حیدرآباد میں ریاستی پبلک سروس کمیشنوں کے چیئرمینوں کی کانفرنس کے اختتامی اجلاس میں شرکت کی اور  ہندوستان کی طرزِ حکمرانی کے نظام کے معیار، دیانت داری اور مؤثریت کو تشکیل دینے میں پبلک سروس کمیشنوں کے کلیدی کردار کو اجاگر کیا۔

1111111111111111111

اس موقع پر اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدرجمہوریہ نے کہا کہ چونکہ ہندوستان وکست بھارت @2047 کے وژن کی جانب  آگے بڑھ رہا ہے، حکمرانی کا معیار اور اس سے بھی بڑھ کر اداروں کو چلانے والے افراد کا معیار، فیصلہ کن ہوگا۔ انہوں نے پبلک سروس کمیشنوں کو آئینی ادارہ قرار دیا،جنہیں قوم کی خدمت کے لیے اہل، غیر جانبدار اور اخلاق مند افرادکے انتخاب کی نہایت اہم ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

نائب صدر جمہوریہ نےکہا کہ آئین میں درج پبلک سروس کمیشنوں کی خود مختاری عوامی تقرریوں میں اہلیت، انصاف اور شفافیت کے تحفظ کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دہائیوں کے دوران مرکز اور ریاستی سطح پر کمیشنوں نے انتظامی تسلسل، ادارہ جاتی استحکام اور سول سرونٹس کے غیر جانبدارانہ انتخاب کو یقینی بنا کر عوامی اعتماد کو مضبوط کیا ہے۔

انہوں نےعوامی خدمات پر بڑھتے ہوئے تقاضوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قومی ترجیحات جیسے ڈیجیٹل حکمرانی، سماجی شمولیت، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، موسمیاتی اقدامات اور معاشی تبدیلی کے  اقدامات  کےمؤثر نفاذ کا انحصار آج منتخب ہونے والے منتظمین کے معیار پر ہے۔

جناب سی پی رادھا کرشنن نےاخلاقی معیارات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ غیر جانبداری عوامی تقرری کا اخلاقی ستون ہے اور تعصب کے خاتمے کے لیے شفافیت ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہاکہ انفرادی بے ضابطگیوں سے بھی اداروں کے وقار کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے عوامی امتحانات میں بدعنوانی کے خلاف عدم برداشت کی اپیل کی ۔

نائب صدر  جمہوریہ نے مزید زور دیتے ہوئے کہاکہ آج مؤثر حکمرانی کے لیے سول سرونٹس میں تعلیمی اہلیت کے ساتھ ساتھ بہترین اخلاقی فیصلے کی صلاحیت، جذباتی ذہانت، قائدانہ صلاحیت اور ٹیم ورک بھی ضروری ہے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ پبلک سروس کمیشن علم پر مبنی امتحانات کے ساتھ ساتھ رویّہ جاتی اور اخلاقی صلاحیتوں کے منصفانہ اور منظم جائزے کے امکانات پر غور کر سکتے ہیں۔

جناب سی پی رادھا کرشنن نے زور دیتےہوئے کہاکہ صرف تقرری ہی عمر بھر کی بہترین کارکردگی کی ضمانت نہیں دے سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ جاتی سالمیت کے تحفظ کے لیے کارکردگی کے جائزے، نگرانی کے نظام اور وقتاً فوقتاً جائزہ لینے کے طریقۂ کار کو معروضی اور شفاف انداز میں نافذ کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کردار اور اخلاقی طرزِ عمل قوم کی تعمیر اور عوامی اعتماد کی بنیاد ہیں۔

نائب صدر جمہوریہ نے ہندوستان کے آبادیاتی فوائد کا حوالہ دیتے ہوئے پبلک سروس کمیشنوں کی حوصلہ افزائی کی اور کہاکہ  وہ صلاحیتوں کی نقشہ بندی اور روزگار کے امکانات کے لیے اختراعی طریقوں پر غور کریں، جن میں پرتِبھا سیتو جیسے اقدامات شامل ہوں، تاکہ درست صلاحیت کو درست ذمہ داریوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔

جناب سی پی رادھا کرشنن نے اپنے خطاب کے اختتام پر اس اعتماد کا اظہار کیا کہ پبلک سروس کمیشن بہتر طرزِ حکمرانی کی بنیادوں کو مزید مضبوط کرتے رہیں گے اور ایک وکست اور آتم نربھر بھارت کی جانب ہندوستان کے سفر میں مرکزی کردار ادا کرتے رہیں گے۔

 

* * * ** * * *

)ش ح – م ع ن- م س(

UN.3759


(ریلیز آئی ڈی: 2207297) وزیٹر کاؤنٹر : 34