بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

قومی آبی گزرگاہ نمبر 37 کی صورتحال

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 13 DEC 2025 5:40PM by PIB Delhi

دریائے گندک کو قومی آبی گزرگاہ (این ڈبلیو–37) کے طور پر قومی آبی گزرگاہیں ایکٹ، 2016 کے تحت قرار دیا گیا ہے۔ این ڈبلیو–37 (دریائے گندک) پر منگل پور (نوتن) اور بتیا میں مخالف کنارے پر دو جیٹیاں تعینات کی گئی ہیں۔ حکومتِ بہار کی جانب سے 2013 میں تیار کردہ تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ (ڈی پی آر) کو اپ ڈیٹ کرنے کے لیے میسرز/ایم ایس ریئل انڈیا ٹیکنیکل اینڈ اکنامک سروس لمیٹڈ (آر آئی ٹی ای ایس) کو 92.75 لاکھ روپے کی لاگت سے مقرر کیا گیا ہے۔

دریائے گندک پر مال برداری اور مسافروں کی آمد و رفت کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے ڈی پی آر کی اپ گریڈیشن کا کام میسرز  آر آئی ٹی ای ایس کو سونپا گیا ہے۔

این ڈبلیو–37 (دریائے گندک) کو عملی شکل دینے کے لیے منگل پور (نوتن) اور بتیا کے مخالف کنارے پر دو کمیونٹی جیٹیاں تعینات کی گئی ہیں۔

مال برداری کی نقل و حرکت کے لیے آبی راستوں سمیت مختلف راستوں کو پہلے ہی حکومتِ ہند اور نیپال کے درمیان ٹرانزٹ معاہدے میں شامل کیا جا چکا ہے۔

یہ معلومات بندرگاہوں، جہازرانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر جناب سربانند سونووال جی نے لوک سبھا میں ایک تحریری جواب کے ذریعے فراہم کیں۔

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno- 3116


(ریلیز آئی ڈی: 2203556) وزیٹر کاؤنٹر : 32
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil