قبائیلی امور کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ٹائیگر ریزرو سے جنگلی باشندوں کی نقل مکانی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 11 DEC 2025 4:44PM by PIB Delhi

لوک سبھا میں آج ایک غیرنجمی نشان والے سوال کا جواب دیتے ہوئے قبائلی امور کے مرکزی وزیر مملکت جناب درگا داس اوئیکے نے بتایا کہ جنگلی حیات (تحفظ) ایکٹ ، 2006 کی دفعہ 38 V (5) اور جنگلاتی حقوق ایکٹ ، 2006 کی دفعہ 4 (2)  کے التزامات کے مطابق بنیادی/اہم ٹائیگر ریزرو  سے رہائیشی گاؤں  کیمنتقلی کا عمل رضاکارانہ ہے ۔  ٹائیگر ریزرو کےدائرے سے  منتقل کیےجانے والے رہائشی گاؤں  کی کل تعداد کے بارے میں نیشنل ٹائیگر کنزرویشن اتھارٹی (این ٹی سی اے) کے ذریعے فراہم کردہ معلومات متعلقہ ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ذریعہ فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کی جاتی ہیں ۔  این ٹی سی اے کی رپورٹ کے مطابق وائلڈ لائف (پروٹیکشن) ایکٹ 1972 اور شیڈولڈ ٹرائبس اینڈآدر  فاریسٹ ڈیویلرز (ریکگنیشن آف فاریسٹ رائٹس) ایکٹ 2006 کی دفعات کے مطابق کل 257 گاؤں  کو رضاکارانہ طور پر ٹائیگر ریزرو کے دائرے میں  شیروں کی بنیادی/اہم آماجگاہوں سے منتقل کیا گیا ہے ۔

(سی):  این ٹی سی اے نے مطلع کیا ہے کہ ریاستی سطح کی نگرانی کمیٹیوں اور ضلعی سطح  پر عمل درآمد کرنے والی کمیٹیوں کی طرف سے غیررضامندانہ یا زبردستی نقل مکانی کی کوئی اطلاع نہیں دی گئی ہے ، جو اایسی کارروائی  کی نگرانی کے لیے لازمی ہیں ۔  تاہم ، قبائلی امور کی وزارت کو سول سوسائٹی کی مختلف تنظیموں (سی ایس او) سے اجتماعی عرضیاں موصول ہوئی ہیں اور مختلف ریاستوں میں ٹائیگر ریزرو کے اندر واقع مختلف گرام سبھاؤں سے متعدد عرضداشتیں موصول ہوئی ہیں ، جن میں اڈیشہ کے سملی پال ٹائیگر ریزرو ؛ مدھیہ پردیشکے ٹائیگر ریزرو میں واقع رانی درگاوتی ؛ کرناٹکمیں واقع  ناگر ہول اور کالی ٹائیگر ریزرو ؛ مہاراشٹر کے  تڈوبا اندھیری ٹائیگر ریزرو ؛ اور چھتیس گڑھ  کے  اچانکمار اور ادندی سیتاندی جنگلات سے موصول ہونے والی شکایات بشمول  انخلائی کارروائیاں  شامل ہیں ۔  شکایاتموصول ہونے کے بعد ، قبائلی امور کی وزارت نے ریاستی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ وائلڈ لائف (پروٹیکشن) ترمیمی  ایکٹ ، 2006 اور فاریسٹ رائٹس ایکٹ ، 2006 کے تحت لازمی حقوق کے تصفیےمیں گرام سبھا کے ساتھ ساتھ انفرادی متاثرہ خاندانوں کی رضامندی کو بھی مدنظر رکھیں ۔  مزید برآں ، قبائلی امور کی وزارت نے بار بار ان خدشات کو این ٹی سی اے کے ساتھ ساتھ ماحولیات ، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت کے نوٹس میں لایا ہے ۔

(ڈی) اور (ای) شیروں کی بنیادی/اہم آماجگاہوں سے خاندانوں کی نقل مکانی اور بازآبادکاری کے اقدامات کو متعلقہ ریاستی حکومتوں کے ذریعے مرکزی اسپانسر شدہ  اسکیم (سی ایس ایس) "پروجیکٹ ٹائیگر" کی مالی مدد سے نافذ کیا جاتا ہے ، جو نیشنل ٹائیگر کنزرویشن اتھارٹی (این ٹی سی اے) اور وزارت ماحولیات ، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے زیر انتظام ہے ۔  تاہم ، ٹائیگر ریزرو سے منتقل کیےجانے والے  خاندانوں کو معاوضے کی ادائیگی کی ریاست وار تفصیلات جمع نہیں کیگئی ہیں ۔  جہاں تک ٹائیگر ریزرو کا تعلق ہے ، این ٹی سی اے کی اطلاع  کے مطابق شیروں کی   بنیادی/اہم آماجگاہوں سے رہائشی گاؤں کی  رضاکارانہ  نقل مکانی کے لیے اب تک  فراہم کی جانے والی مالیامداد کی تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں:

سال

رقم (کروڑ میں(

2020-21

157.93

2021-22

170.58

2022-23

224.20

2023-24

346.10

2024-25

451.73

 

مزید برآں، این ٹی سی اے کی اطلاع کے مطابق گرام سبھا کے ساتھ مشاورت متعلقہ ریاستی حکومتوں کے ذریعہ کی جاتی ہے جو مقررہ طریقہ کار سے کام کرتی ہیں جس میں وائلڈ لائف (پروٹیکشن) ایکٹ 1972 اور شیڈولڈ ٹرائبس اینڈآدر  فاریسٹ ڈیویلرز (ریکگنیشن آف فاریسٹ رائٹس) ایکٹ 2006 میں درج کردہ پیشگی باخبر رضامندی اور رضاکارانہ  رضامندی  حاصل کرنے کی کارروائی  شامل ہے ۔

(ایف)   وزارت قبائلی امور (ایم او ٹی اے)  نےشکایات کے جواب میں اپنے خطوط مورخہ 10.01.2025  اور مؤرخہ  22.10.2025 کے ذریعے ایف آر اے ، 2006 اور وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ کی دفعات کے مطابق ریاستی حکومتوں کے لیے   رضاکارانہ نقل مکانی کے اصول کا اعادہ کیا ہے ۔  مزید برآں ، نیشنل ٹائیگر کنزرویشن اتھارٹی (سیاحت کی سرگرمیوں کے لیے اصولی معیارات اور پروجیکٹ ٹائیگر) گائیڈ لائنز ، 2012 ، جو وائلڈ لائف (پروٹیکشن) ایکٹ ، 1972 کی دفعہ 38 او (1) (سی) کے تحت جاری کی گئی ہیں ، عوامی ڈومین میں بھی دستیاب ہے ، جس میں رضاکارانہ نقل مکانی کے اصول کا واضح خاکہ پیش کیا گیا ہے ، جس کا وقتا فوقتا مختلف شکلوں میں تمام ریاستی حکومتوں کو اعادہ کیا گیا ہے ۔

***

ش ح۔م ش ع ۔ ش ا

U. No-3014


(ریلیز آئی ڈی: 2202826) وزیٹر کاؤنٹر : 24
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी