ارضیاتی سائنس کی وزارت
پارلیمانی سوال: ساحلی علاقے میں سیلاب اور سطحِ سمندر میں اضافے کے حوالے سے خطرات
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
10 DEC 2025 4:32PM by PIB Delhi
انڈین نیشنل سینٹر فار اوشین انفارمیشن سروسز ) سمندری اطلاعاتی خدمات کے لیے بھارتی مرکز، انکوئس) ، جو وزارتِ ارضیاتی علوم کے تحت ایک خود مختار ادارہ ہے، نے بھارتی ساحل کے ساتھ سطحِ سمندر میں اضافے کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینے کے لئے ساحل پر خطرات کے انڈیکس (سی وی آئی) کی میپنگ کی ہے۔ اس عمل میں سات پیمانوں کا استعمال کرکے نقشے تیار کئے گئے ہیں:ساحلی خط میں تبدیلی کی شرح، سطحِ سمندر میں تبدیلی کی شرح، ساحلی بلندی، ساحلی ڈھلوان، ساحلی جیومورفولوجی، مؤثر لہروں کی بلندی اور ٹائیڈل رینج۔اس کے تحت پورے بھارتی ساحل کے 156 نقشوں پر مشتمل ایک اٹلس 1:1 لاکھ کے پیمانے پر تیار کیا گیا، جو 2012 میں جاری کیا گیا۔ مزید برآں، کثیر خطراتی امکانات میپنگ کی گئی ہے تاکہ بھارت کے مین لینڈ میں ساحلی طغیانی کے ممکنہ علاقوں کی نشاندہی کی جاسکے، جس کے لئے انتہائی پانی کی سطح، ساحلی کٹاؤ، سطحِ سمندر میں تبدیلی اور ہائی ریزولوشن ٹوپوگرافی کے ڈیٹا کا استعمال کیا گیا۔ یہ مطالعہ 1:25000 کے پیمانے پر کیا گیا۔اس کے علاوہ، نیشنل سینٹر فار کوسٹل ریسرچ (این سی سی آر)، جو وزارتِ ارضیاتی علوم کا منسلک ادارہ ہے، نے ساحلی کٹاؤ کا جائزہ لیا ہے اور 1990 سے بھارتی ساحل کے اُن علاقوں کی نشاندہی کی ہے جو ساحلی کٹاؤ کا شکار رہے ہیں۔ "نیشنل اسیسمنٹ آف شور لائن چینجز الونگ انڈین کوسٹ" کے عنوان سے رپورٹ جولائی 2018 میں جاری کی گئی، اور یہ رپورٹ مختلف مرکزی و ریاستی اداروں اور شراکت داروں کے ساتھ ساحلی تحفظ کے اقدامات کے لئے ساجھا کی گئی۔اٹلس کا ایک تازہ ترین ورژن، رپورٹ کے ڈیجیٹل ورژن سمیت، جس میں تمام نقشے شامل ہیں، 25 مارچ 2022 کو جاری کیا گیا۔ریاست وار کٹاؤ (1990–2018) کی تفصیلات ذیل کی جدول میں دی گئی ہیں۔
|
1990 2018
|
|
Sl No
|
State
|
Coast Length
(in km)
|
Coast length (in Km)
|
|
Erosion
|
|
Km
|
%
|
|
1
|
West Coast
|
Gujarat
|
1945.6
|
537.5
|
27.6
|
|
2
|
Daman & Diu
|
31.83
|
11.02
|
34.6
|
|
3
|
Maharashtra
|
739.57
|
188.26
|
25.5
|
|
4
|
Goa
|
139.64
|
26.82
|
19.2
|
|
5
|
Karnataka
|
313.02
|
74.34
|
23.7
|
|
6
|
Kerala
|
592.96
|
275.33
|
46.4
|
|
7
|
East Coast
|
Tamil Nadu
|
991.47
|
422.94
|
42.7
|
|
8
|
Puducherry
|
41.66
|
23.42
|
56.2
|
|
9
|
Andhra Pradesh
|
1027.58
|
294.89
|
28.7
|
|
10
|
Odisha
|
549.5
|
140.72
|
25.6
|
|
11
|
West Bengal
|
534.35
|
323.07
|
60.5
|
|
Total
|
6907.18
|
2318.31
|
|
%
|
33.6
|
وزارتِ جل شکتی کی سیلاب کے انتظام کی اسکیم، جس میں سمندری کٹاؤ کے خلاف اسکیمیں بھی شامل ہیں، ریاستی حکومتیں اپنی ترجیحات کے مطابق اپنے وسائل سے منصوبہ بندی اور عمل درآمد کرتی ہیں۔ مرکزی حکومت ریاستوں کو تکنیکی، مشاورتی، حوصلہ افزائی اور ترویجی نوعیت کی معاونت فراہم کرتی ہے۔
ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تغیرات کی وزارت(ایم او ای ایف اینڈ سی سی) نے سروے آف انڈیا کے ساتھ مل کر ملک کے پورے ساحل کے لیے خطرے کی لائن کی نشاندہی کی ہے۔ یہ خطرے کی لائن ساحلی پٹی میں تبدیلیوں کی نشاندہی کرتی ہے، جن میں آب و ہوا کی تبدیلی کے باعث سطحِ سمندر میں اضافہ بھی شامل ہے۔ ساحلی ریاستوں کی ایجنسیاں اس لائن کو آفات کے انتظام، بشمول موافقت اور تخفیف کے اقدامات کی منصوبہ بندی کے لیے ایک آلے کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔ یہ خطرے کی لائن نئی ساحلی زون انتظامی منصوبے میں شامل ہے، جنہیں ایم او ای ایف اینڈ سی سی نے ساحلی ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے منظور کیا ہے۔
ایم او ای ایف اینڈ سی سی نے کوسٹل ریگولیشن زون نوٹیفکیشن 2019 جاری کیا ہے، جس کا مقصد ساحلی علاقوں، سمندری خطوں کے تحفظ اور ماہی گیر و مقامی برادریوں کے معاش کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ تاہم ساحلی قواعد ساحل پر کٹاؤ کو روکنے کے اقدامات کی اجازت دیتے ہیں۔ اس نوٹیفکیشن میں ساحلی علاقوں کی مختلف اقسام کے ساتھ کوئی ترقی نہ کرنے والے علاقوں کی بھی وضاحت کی گئی ہے تاکہ بھارت کے ساحلی علاقوں کو قبضے اور کٹاؤ سے محفوظ رکھا جا سکے۔
سیلاب کے انتظام کے ڈھانچہ جاتی اقدامات کو مضبوط کرنے کے لیے وزارتِ جل شکتی نے گیارہویں اور بارہویں منصوبہ بندی کے دوران فلڈ مینجمنٹ پروگرام نافذ کیا، جس کے تحت ریاستوں کو دریا کے نظم و نسق، سیلاب کنٹرول، کٹاؤ سے بچاؤ، نکاسی آب کی بہتری، سمندری کٹاؤ سے بچاؤ وغیرہ جیسے کاموں کے لیے مرکزی امداد فراہم کی گئی۔ یہ پروگرام بعد میں "سیلاب کے انتظام اور سرحدی علاقوں کے پروگرام" کے ایک جزو کے طور پر 2017-18 سے 2020-21 تک جاری رہا اور محدود بجٹ کے ساتھ ستمبر 2022 تک توسیع دی گئی۔ مرکزی کابینہ نے "فلڈ مینجمنٹ اینڈ بارڈر ایریاز پروگرام" کو منظور کیا ہے جس کا کل بجٹ 4100 کروڑ روپے (جس میں ایف ایم پی کا حصہ 2923.56 کروڑ روپیہ) ہے، اور یہ پروگرام 2021-22 سے 2025-26 تک پانچ برسوں کے لیے نافذ العمل ہے۔
سیلاب کے انتظام کے غیر ڈھانچہ جاتی اقدامات کے طور پر، سنٹرل واٹر کمیشن (سی ڈبلیو سی) متعلقہ ریاستی حکومتوں کو مختصر مدت کے سیلابی پیش گوئیاں (24 گھنٹے پہلے تک) فراہم کرتا ہے۔ سی ڈبلیو سی مشخص ذخائر کے لیے پانی کی آمد کی پیش گوئی بھی جاری کرتا ہے تاکہ ذخائر کی بہتر نگرانی کی جا سکے۔ فی الحال، سی ڈبلیو سی 350 اسٹیشنوں پر سیلابی پیش گوئیاں جاری کرتا ہے (150 ان فلو اسٹیشن + 200 لیول اسٹیشن) جو اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر کے مطابق ہیں۔ یہ نیٹ ورک ریاستی حکومتوں اور پروجیکٹ حکام کے مشورے سے قائم کیا گیا ہے۔
سی ڈبلیو سی اس وقت اپنے ویب پورٹل https://aff.india-water.gov.in/ کے ذریعے سات روزہ مشاورتی سیلابی پیش گوئی فراہم کر رہا ہے، جو ملک کے بڑے دریائی بیسن کے لیے 1ڈی بارش پر مبنی ماڈلنگ سے تیار ہوتی ہے، جن میں 200 پانی کی سطح اور 150 ذخائر کی آمد کی پیش گوئی کے اسٹیشن شامل ہیں۔ سی ڈبلیو سی مختلف ذرائع استعمال کرتا ہے تاکہ سیلابی وارننگ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائی جا سکے، تاکہ ریاستی حکومتیں، ایس ڈی ایم اےئ، این ڈی ایم اے اور عوام بروقت اقدامات کر سکیں۔ سی ڈبلیو سی کی تیار کردہ سیلابی پیش گوئیاں تمام اسٹیک ہولڈرز تک فلڈ فورکاسٹنگ ویب سائٹ (https://ffs.india-water.gov.in/)، فلڈ واچ انڈیا 2.0 ایپ، ای میل، واٹس ایپ، فیس بک ، ایکس سابق ٹوئٹر یوٹیوب چینل ، اور این ڈی ایم اے ساچت پورٹل کے ذریعے سی اے پی الرٹ کے طور پر پہنچائی جاتی ہیں۔
ساحلی لچک کو مضبوط کرنے کے مزید اقدامات—جیسے سیلابی رکاوٹوں، پشتوں، نکاسی آب کے نظام کی تعمیر، موسمیاتی لچک رکھنے والی شہری منصوبہ بندی وغیرہ—متعلقہ سمندری ریاستیں/مرکز کے زیر انتظام علاقے خود منصوبہ بندی اور نافذ کرتے ہیں۔ ایسے پروجیکٹس عام طور پر ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے اپنے فنڈز، کثیر ملکی فنڈنگ یا مرکزی امداد سے چلائے جاتے ہیں۔ وزارتِ جل شکتی کی ہدایات کے مطابق ایف ایم بی اے پی اسکیم کے تحت اہم سمندری کٹاؤ کے کاموں کے لیے مرکزی امداد کی فراہمی کا بھی بندوبست موجود ہے۔
حکومت نے مارچ 2019 میں "کلائمٹ چینج ایڈاپٹیشن گائیڈ لائنز برائے کوسٹل پروٹیکشن اینڈ مینجمنٹ ان انڈیا" یعنی بھارت میں ساحلی تحفظ اور انتظام کیلئے موسمی تبدیلیوں کے موزوں ضابطے کے عنوان سے ایک حوالہ جاتی رسالہ جاری کیا ہے۔ یہ رہنما اصول ایشیائی ترقیاتی بینک کی تکنیکی معاونت کے تحت "کلائمٹ ریزیلینٹ کوسٹل پروٹیکشن اینڈ مینجمنٹ پروجیکٹ" کے تحت تیار کیے گئے ہیں۔ ان ہدایات میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ساحلی تحفظ کے لیے انجینیئرنگ اور قدرتی حل کو یکجا کیا جائے تاکہ ڈھانچہ جاتی اقدامات پائیدار اور موسمیاتی لچک والے ہوں۔
قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے قومی اتھارٹی(این ڈی ایم اے) نے وزارتِ داخلہ کے تحت ’’کمیٹی آن ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن‘‘ تشکیل دی ہے تاکہ مختلف مرکزی اور ریاستی محکموں کے ساتھ مل کر گلائشیائی جھیلوں کے پھٹنے (جی ایل او ایف) کے خطرات کم کرنے کے لیے کثیر شعبہ جاتی طریقہ اختیار کیا جا سکے۔
این ڈی ایم اے نے 2020 میں جی ایل او ایف مینجمنٹ کے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروٹوکول (ایس اوپی) کی شکل میں رہنما اصول جاری کیے اور جی ایل او ایف کی تیاری اور ردعمل کے لیے ٹاسک فورس رپورٹ کا مجموعہ بھی تیار کیا۔ ایس او پی میں مختلف اسٹیک ہولڈرز کے کردار اور ذمہ داریاں، اور آفات کے انتظام کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی وضاحت کی گئی ہے۔ ان میں سیٹلائٹ کی بنیاد پر گلائشیائی جھیلوں کی باقاعدہ نگرانی، نگرانی کی رپورٹوں کی اشاعت، گلیشیئر کی نگرانی اور رسک میپنگ کے لیے کثیر ایجنسی اسٹیئرنگ کمیٹی کی تشکیل، اور خطرے والے علاقوں کے لیے بلیٹن کی باقاعدہ اشاعت شامل ہے۔ ان اقدامات کا مقصد جی ایل او ایف اور اس سے جڑے سیلاب و تلچھٹ کے اثرات کی نشاندہی اور ان کی روک تھام ہے۔
مرکزی آبی کمیشن، وزارتِ موسمیاتی علوم اور این ڈی ایم اے کے ساتھ مل کر ہمالیائی خطے میں 10 ہیکٹر سے بڑے رقبے والی 902 گلائشیائی جھیلوں/آبی ذخائر کی نگرانی، وارننگ اور تخفیفی پروگرام چلا رہا ہے، تاکہ گلیشیئر سے متعلق خطرات کی نشاندہی کی جا سکے۔
نیشنل ریموٹ سینسنگ مرکز اور سی ڈبلیو سی بھی گلائشیائی جھیلوں کی فہرستیں برقرار رکھتے ہیں تاکہ جھیلوں کے خطرے میں کمی کے اقدامات—مثلاً پانی کی نکاسی، کنٹرولڈ بریکنگ، یا ڈھانچہ جاتی مداخلتوں—کی نشاندہی کی جا سکے۔
مرکزی آبی کمیشن نے وزارتِ جل شکتی کے تحت 12ویں منصوبے کے دوران "کوسٹل مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم" (سی ایم آئی ایس) کا آغاز کیا، جو ڈیولپمنٹ آف واٹر ریسورسز انفارمیشن سسٹم اسکیم کے تحت ہے۔ سی ایم آئی ایس کے تحت اب تک آٹھ ساحلی مقامات قائم کیے جا چکے ہیں۔ سی ایم آئی ایس کے مقامات متعلقہ ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے مشورے سے منتخب کیے جاتے ہیں، اور جمع کیا گیا ساحلی ڈیٹا ساحلی شہروں کے آفات سے محفوظ ڈھانچہ جاتی منصوبے کی تیاری اور دیگر متعلقہ کاموں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سی ایم آئی ایس مقامات پر نو ساحلی معیارات کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ یہ ڈیٹا سمندری ریاستیں/مرکز کے زیر انتظام علاقے اور دیگر شراکت داروں کو مناسب تخفیفی اقدامات کے انتخاب میں مدد دیتا ہے۔
مزید برآں، ’’کوسٹل پروٹیکشن اینڈ ڈیولپمنٹ ایڈوائزری کمیٹی‘‘ ، جو سنٹرل واٹر کمیشن کے تحت ایک اعلیٰ سطحی بین الوزارتی ادارہ ہے، مرکزی ایجنسیوں، ساحلی انجینیئرنگ کے ماہرین، سمندری ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور متعلقہ مرکزی محکموں کے نمائندوں کے لیے ایک مشترکہ پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے، تاکہ ساحلی کٹاؤ کے مسائل پر گفتگو اور ان کا حل تلاش کیا جا سکے۔
************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U : 2887 )
(ریلیز آئی ڈی: 2201997)
وزیٹر کاؤنٹر : 34