ایٹمی توانائی کا محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

پارلیمانی سوال:جوہری توانائی سے متعلق پلانٹس کی تکمیل میں تاخیر

प्रविष्टि तिथि: 03 DEC 2025 6:36PM by PIB Delhi

راجستھان ایٹمک پاور پروجیکٹ ، آر اے پی پی-8 (700 میگاواٹ) کی تکمیل/کمیشننگ میں بنیادی طور پر جاپان میں فوکوشیما حادثے کے مکمل تجزیے کے نتیجے میں ڈیزائن کے وسیع جائزوں اور نئے اپ گریڈ کو شامل کرنے کی وجہ سے تاخیر ہوئی ہے۔  ایک اور پروجیکٹ ، کڈانکولم نیوکلیئر پاور پروجیکٹ ، کے کے این پی پی-3 اور 4 (2 X 1000 میگاواٹ) روس-یوکرین کے جاری تنازعہ اور ضلع انتظامیہ کی طرف سے کان کنی کی کارروائیوں کے رکنے کی وجہ سے چٹان کی مصنوعات کی عدم دستیابی کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہے ۔  اس کے علاوہ  ٹھیکیداروں کی مالی قلت اور کووڈ- 19 کے اثرات نے بھی پروجیکٹ پر عمل درآمد میں تاخیر کی وجہ بنی ۔

تمل ناڑو کے کلپکم میں بھاوینی کے ذریعے قائم کیے جانے والے 500 میگا واٹ کے پروٹوٹائپ فاسٹ بریڈر ریئیکٹر کی تعمیر اور کمیشننگ کے مراحل میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑا، جو اس کے ’پہلی نوعیت‘ کے ہونے کی وجہ سے فطری ہے۔  تاخیر کا باعث بننے والے ان تکنیکی چیلنجوں پر منظم طریقے سے کامیابی کے ساتھ قابو پایا گیا ۔  فی الحال ، پہلی مرتبہ کریٹیکلیٹی حاصل کرنے کے لیے ایندھن کی لوڈنگ جاری ہے ۔ اس پروجکیٹ کا 97.90 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔

ان پروجیکٹوںکوجوہری توانائی کے محکمہ (ڈی اے ای) کی سرکاری شعبے کی کمپنیوں، یعنی این پی سی آئی ایل اور بھاوینی کے ذریعے نافذ کیے گئے ہیں۔ حکومتِ ہند کی ایکویٹی سرمایہ کاری یا قرض کی بدولت یہ سرکاری شعبے کی کمپنیاں کام کر رہی ہیں اور ان سے حاصل ہونے والا منافع یا سود حکومت کو واپس ملتا ہے۔ اس لیے یہ سرکاری خزانے پر کوئی بوجھ نہیں ہے۔

***

ش ح۔ت ف۔ ش ت

U NO: 2349


(रिलीज़ आईडी: 2198602) आगंतुक पटल : 25
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Tamil