شمال مشرقی ریاستوں کی ترقی کی وزارت
مرکزی وزیر جناب جیوتر آدتیہ ایم سندھیا نے شمال مشرق میں اعلٰی کارکردگی والے کھیلوں کی ترقّی اور دودھ، انڈوں، مچھلی اور گوشت میں خود کفالت سے متعلق دو اعلیٰ سطحی ٹاسک فورس اجلاسوں میں شرکت کی
کھیلوں میں 60–40 ماڈل اپنایا جائے گا: 60 فیصد توجہ انسانی وسائل کی ترقی پر مرکوز : جناب سندھیا
ہندوستان کی اگلی نسل کو کھیلوں کے چیمپئن بنانے کے لیے شمال مشرقی کھیلوں کی متحد حکمت عملی: جناب سندھیا
علاقائی غذائی نظام کی حکمت عملی کے لیے مربوط اور ہمہ گیر نقطۂ نظر کی ضرورت
प्रविष्टि तिथि:
19 NOV 2025 6:40PM by PIB Delhi
شمال مشرقی خطے کے مواصلات اور ترقی کے مرکزی وزیر(ڈونیر) جناب جیوتر آدتیہ ایم سندھیا نے 19 نومبر 2025 کو حکومت کی اس حکمتِ عملی کے تحت دو اعلیٰ سطحی ٹاسک فورس (ایچ ایل ٹی ایف) اجلاسوں میں شرکت کی، جس کا مقصد شمال مشرقی خطے (این ای آر) میں مربوط، مشاورتی اور مؤثر ترقی کو فروغ دینا ہے۔اس سال کے اوائل میں، وزارتِ ڈونیر نے 72ویں این ای سی کے کل رکنی اجلاس کے اتفاقِ رائے کے بعد آٹھ اعلیٰ سطحی ٹاسک فورسز تشکیل دی تھیں، جن میں سے ہر ایک کی قیادت شمال مشرقی ریاست کے وزیر اعلیٰ کے سپرد کی گئی تھی، یہ اجلاس اگرتلہ میں منعقد ہوا تھا۔
کھیلوں سے متعلق اعلیٰ سطحی ٹاسک فورس (ایچ ایل ٹی ایف) کے اجلاس میں، جس کی صدارت منی پور کے گورنر جناب اجے کمار بھلا نے کی، مرکزی وزیر مملکت برائے کھیل و امورِ نوجواناں محترمہ رکشا کھڈسے، میزورم کے کھیلوں کے وزیر جناب لالنگھنگلووا ہمر، میگھالیہ کے کھیلوں کے وزیر جناب شاکلیار ورجری، وزارتِ ڈونیر کے سکریٹری، آسام حکومت کے سینئر عہدیداران اوربھارت کی کھیل اتھارٹی (سائی) کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس میں "ایک کھیل، ایک ریاست" کے نظریے کو مزید مضبوط کیا گیا، جس کے تحت ہر شریک ریاست نے اپنی بنیادی کھیلوں کی شاخ منتخب کی ہے تاکہ اس کی مکمل اور جامع ترقی ممکن ہو سکے۔ اس فریم ورک کی بنیاد پر وزیر جناب سندھیا نے شریک ریاستوں پر زور دیا کہ وہ اپنے منتخب کردہ کھیلوں کے مطابق توجہ مرکوز مختصر تجویز تیار کریں،میزورم (فٹبال)، منی پور (باکسنگ اور ویٹ لفٹنگ)، تریپورہ (جڈو)، میگھالیہ (تیرا اندازی)، ناگالینڈ (تیرا اندازی اور تائیکوانڈو)، اور سکم (تائیکوانڈو) میں اپنی تجویز پیش کریں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ تجاویز ریاستی کھیلوں کے وزراء اور سکریٹریز کی طرف سے مشترکہ طور پر تیار کی جائیں، اور محترمہ رکشا کھڈسے، وزیر مملکت برائے کھیل، اور سائی کے ڈائرکٹر جنرل کے ساتھ قریبی تال میل کے ساتھ کام کیا جائے تاکہ منصوبوں میں ہم آہنگی، ملکیت اور پائیداری یقینی بنائی جا سکے۔


وزیرموصوف جناب سندھیا نے اس بات پر زور دیا کہ روڈ میپ میں خطے کی قدرتی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جائے، اور ریاستوں کے درمیان مشترکہ کھیلوں—جیسے فٹبال، ویٹ لفٹنگ، جوڈو، تیرا اندازی اور تائیکوانڈو—کی نشاندہی کرتے ہوئے کھیل مخصوص حکمتِ عملیاں تیار کی جائیں، جن میں وزارتی سطح پر واضح جواب دہی شامل ہو۔وزیر موصوف نے اس بات کی وضاحت کی کہ تجویز میں “60–40 ماڈل” اپنایا جانا چاہیے، یعنی 60 فیصد توجہ انسانی وسائل کی ترقی، عالمی معیار کی کوچنگ، ہنر کی تلاش اور ٹیکنالوجی پر مبنی تربیت پر دی جائے، جبکہ صرف 40 فیصد حصہ جسمانی بنیادی ڈھانچے کے لیے مختص ہو۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ملک بھر میں بنیادی ڈھانچے موجود ہیں، لیکن حقیقی کھیلوں کا کمال جدید کوچنگ سسٹمز، کھلاڑی مرکوز طریقۂ کار اور جدید ٹیکنالوجی کے انضمام سے ہی حاصل ہو سکتا ہے۔وزیر موصوف نے زور دیتے ہوئے کہا:“اس حکمت عملی سے ہمیں ایک واضح اور مرکوز تجویز تیار کرنی ہوگی۔ 60–40 کی تقسیم ہونی چاہیے، جس میں 60 فیصد ان افراد کے لیے ہو جو کوچنگ فراہم کرتے ہیں اور ٹیکنالوجی پر مبنی رہنمائی دیتے ہیں، جبکہ صرف 40 فیصد بنیادی ڈھانچے کے لیے۔ ملک میں سہولیات موجود ہیں، مگر اصل ترجیح اعلیٰ معیار کی کوچنگ اور مؤثر انسانی مداخلت ہے۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ اگرچہ بنیادی ڈھانچے میں اضافہ ہو رہا ہے، کھلاڑیوں کو اکثر وہ معیاری اور جدید تربیت نہیں مل پاتی جس کی انہیں بہترین کارکردگی کے لیے ضرورت ہوتی ہے۔ شمال مشرقی خطہ کی ترقی کی وزارت اس وژن کو آگے بڑھانے کے لیے مکمل تعاون فراہم کرنے میں خوشی محسوس کرے گی۔”
وزیرموصوف نے مزید کہا کہ ہر ریاست ایک جامع اسپورٹس کیلنڈر تیار کرے، جو نچلی سطح سے تشکیل پائے—
پری اسکول، اسکول اور یونیورسٹی کی سطح سے لے کر بلاک سطح کے ٹورنامنٹس تک—اور جس میں بین الریاستی مقابلے، مقابلوں اور تبادلے کے پروگراموں کو بھی شامل کیا جائے۔انہوں نے زور دیا کہ شمال مشرقی ریاستوں کی جانب سے منتخب کردہ کھیلوں کو فروغ دینے کے لیے پورے نظامِ حکومت اور پورے ملک پر مشتمل ایک ہمہ گیر طریقہ اپنایا جائے، تاکہ آنے والے برسوں میں خطے کا کم از کم ایک کھیل قومی سطح پر ایک کامیاب ماڈل کے طور پر ابھر کر سامنے آئے۔جناب سندھیا نے مزید کہا کہ حکمتِ عملی میں آٹھ شمال مشرقی ریاستوں کے لیے ایک وسیع میکرو نقطۂ نظر کے ساتھ ساتھ ہر ریاست کے منتخب کردہ ایک کھیل میں گہرائی سے کام کرنے کا جزوی نقطہء نظر شامل ہونا چاہیے، تاکہ نچلی سطح سے لے کر اعلیٰ سطح تک بہترین کارکردگی کو فروغ دیا جا سکے۔


گفت و شنید حکومت کے اس غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ مربوط منصوبہ بندی، ہنر کی ترقی اور ہدف بند سرمایہ کاری کے ذریعے شمال مشرقی خطے کی کھیلوں کی صلاحیت کو ابھارا جائے، تاکہ یہ خطہ اعلیٰ کرکردگی کے کھیلوں کا مرکز بن کر وِکست بھارت 2047 کے وژن میں اہم کردار ادا کر سکے۔
دودھ، انڈے، مچھلی اور گوشت میں خود کفالت سے متعلق اعلیٰ سطحی ٹاسک فورس کے اجلاس کی صدارت اروناچل پردیش کے وزیر اعلیٰ جناب پیما کھانڈو نے کی۔ اس میں وزارتِ ڈونیرکے سکریٹری، ناگالینڈ کے حکام، محکمۂ ماہی پروری کے نمائندوں اور شمال مشرق کی تمام آٹھ ریاستوں کے مندوبین نے شرکت کی۔
ٹاسک فورس نے تمام آٹھ ریاستوں کے لیے طلب و رسد کا تفصیلی تجزیہ کیا، جس کی بنیاد پر ایک ایسا جامع طریقہء کار تیار کیا جا رہا ہے جو واحد طریقۂ کار سے آگے بڑھ کر حقیقی ہمہ گیر حکمتِ عملی تشکیل دے۔ بحث و مباحثہ میں رابطے اور نقل و حمل، بنیادی ڈھانچے اور ویلیو چینز، انسانی وسائل، افزائش اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور قرض تک رسائی اور نجی سرمایہ کاری کے فروغ جیسے موضوعات شامل تھے۔ یہ مربوط نقطۂ نظر خطے کی غذائی نظام کی حکمت عملی کے لیے ناگزیر ہے۔وزیر موصف نے زور دیتے ہوئے کہا:“ہمارا مقصد شمال مشرق کے لیے ایک مربوط، کارگر اور مضبوط غذائی نظام قائم کرنا ہے، جو روزگار کو مستحکم کرے، منڈیوں تک رسائی کو بڑھائے اور ہر شہری کو بہتر غذائیت یقینی بنائے۔”


تیز رفتار ترقی کو یقینی بنانے کے لیے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دودھ، انڈے و پولٹری، گوشت اور ماہی پروری کے ہر شعبے میں ابتدا میں دو ریاستوں میں تبادلہٗ خیال شروع کیا جائے، تاکہ زمینی سطح پر حقیقی نتائج حاصل ہوں جنہیں بعد میں پورے خطے میں توسیع دی جا سکے اور توسیع کا عمل زیادہ درست، مؤثر اور شواہد پر مبنی ہو۔
ایک واضح نفاذ کا ڈھانچہ بھی پیش کیا گیا، جس میں مرکزی وزارتوں، ریاستی محکموں اور نجی شراکت داروں کی مربوط شرکت شامل ہوگی۔ ہر مداخلت کو ویلیو چین کے مخصوص مراحل سے ہم آہنگ کیا جائے گا، تاکہ ابتدا سے لے کر صارف تک ہر قدم پر ذمہ داریاں واضح رہیں۔ ان پائلٹ منصوبوں کی فنڈنگ بھی تینوں فریقین کی مشترکہ شراکت سے منظم کی جائے گی۔
مباحثے کے دوران اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ شمال مشرقی خطے کو ایک یکجا، مربوط مارکیٹ کے طور پر دیکھا جائے۔ فاضل پیداوار کو کمی والے علاقوں تک بہتر ترسیل، ہر ریاست کی مسابقتی صلاحیتوں کی نشاندہی، اور اندرونی و بین الریاستی تجارتی روابط کو مضبوط بنانا اس خطے کو ایک مؤثر غذائی معیشت کے طور پر فعال بنانے کے لیے ضروری ہیں۔وقت کے ساتھ یہ مربوط مارکیٹ نقطۂ نظر بہتر لاجسٹکس، وسیع تر منڈی تک رسائی اور زیادہ معاشی مواقع پیدا کرنے میں محرک کا کردار ادا کرے گا۔


جناب سندھیا نے نیچے سے اوپر تک جانے والے طریقۂ کار کی اہمیت پر زور دیا، جس میں ہر ریاست کی بصیرت اور زمینی تجربات کو بنیاد بنا کر انہیں قومی ترجیحات اور نجی شعبے کی مہارت کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے۔اجلاس کے اختتام پر انہوں نے کہا:“پیداوار کو مضبوط بنا کر، ویلیو چینز کو جدید بنا کر اور نقل و حمل کو بہتر بنا کر ہم وہ بنیاد رکھ رہے ہیں جس کے ذریعے مستقبل میں شمال مشرق کی غذائی معیشت خود کفیل، مارکیٹ کے لیے تیار اور مشترکہ خوشحالی سے تقویت پانے والی بنے گی۔”
************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U : 1521 )
(रिलीज़ आईडी: 2191864)
आगंतुक पटल : 26