قومی انسانی حقوق کمیشن
azadi ka amrit mahotsav

‘جیل میں قیدیوں کے انسانی حقوق’ پر قومی انسانی حقوق کمیشن کی قومی کانفرنس میں بہتری کی متعدد تجاویزپیش


قیدیوں کی  بازآبادکاری ، جیلوں کی بھیڑمیں کمی ، اصلاحی خدمات کی حوصلہ افزائی، قیدیوں کی دماغی صحت کی بہتری، خواتین قیدیوں اور ان کے بچوں سے متعلق مسائل کے حل  اور نشے کی لت سے بچاؤ پر روشنی ڈالی گئی

کمیشن اب جیلوں میں اصلاحات کے لیے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو ایک ایڈوائزری پر کام کرے گا اور پیش رفت کی نگرانی کے لیے ایک طریقہ کار بھی تیار کرے گا: این ایچ آر سی کے چیئرپرسن جسٹس وی راما سبرامنیم

کمیشن مختلف مسائل پر بات چیت کومرکزی دھارے میں لانے کے مقصد سے کانفرنسوں کا اہتمام کرتا ہے تاکہ معاشرے کے مختلف طبقات کے انسانی حقوق کی صورت حال میں مجموعی بہتری کے لیے حل تلاش کیا جا سکے:این ایچ آر سی کے سکریٹری جنرل، جناب بھرت لال

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 17 OCT 2025 9:39PM by PIB Delhi

قومی انسانی حقوق کمیشن(این ایچ آر سی)نے نئی دہلی میں‘جیلوں میں قیدیوں کے  انسانی حقوق’کے موضوع  پر ایک قومی کانفرنس کا انعقاد کیا۔ بات چیت کے دوران قیدیوں کی  بازآبادکاری ، جیلوں کی بھیڑ کو کم کرنے، اصلاحی خدمات کی حوصلہ افزائی، قیدیوں کی دماغی صحت کو بہتر بنانے، خواتین قیدیوں اور ان کے بچوں سے متعلق مسائل کو حل کرنے اور نشے کی لت سے نجات کے حوالے سے بہت ساری قیمتی تجاویز سامنے آئیں۔ کانفرنس کی صدارت کرتے ہوئے این ایچ آر سی کے چیئرپرسن جسٹس وی راما سبرامنیم نے کہا کہ کانفرنس کا مقصد جیل کے قیدیوں کو درپیش مسائل کے بارے میں تمام متعلقہ فریقوں کا موقف جاننا تھا اور یہ کہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو کس طرح اور کیا مناسب سفارشات بھیجی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن اب جیلوں میں اصلاحات کے لیے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو ایڈوائزری جاری کرنےپر کام کرے گا اور پیش رفت کی نگرانی کے لیے ایک طریقہ کار بھی تیار کرے گا۔

 

11.jpg

 

اس سے قبل، کانفرنس میں بحث کا آغاز کرتے ہوئے، جسٹس راما سبرامنیم نے کہا کہ اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات اور جرائم کی رپورٹ کے مطابق، 2022 میں جیلوں کی عالمی آبادی 11.5 ملین تک پہنچ گئی۔جیلوں کی عالمی آبادی کی تقریباً ایک تہائی تعداد قبل از مقدمہ کے قیدیوں کی ہے جن کے نظم پر ریاست،برادریوں،خاندانوں اور افراد کو بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ دنیا بھر کے بیشتر ممالک کی جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی موجود  ہیں۔ بجٹ، وسائل اور گنجائش کی رکاوٹیں ناقابلِ رہائش حالات اور جیل کی خراب صحت کا باعث بنتی ہیں۔ جیلوں میں پسماندہ برادریوں کے زیادہ افراد کی موجودگی  اور خواتین، نوجوانوں، معذور افراد اور خصوصی ضروریات والے دیگر قیدیوں پر ناکافی توجہ کی صورت میں موجود عدم مساوات کو تقویت ملتی ہے۔

 

22.jpg

 

انہوں نے دسمبر 2023 میں نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے ذریعہ جاری کردہ جیل کی شماریات انڈیا 2022 کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2020 میں ملک میں جیلوں میں قیدیوں کی شرح 1306 جیلوں کی اصل گنجائش سے 118 فیصد زیادہ تھی۔ یہ تعداد مزید بڑھ کر 2022 میں 1330 جیلوں کی اصل گنجائش کے 131.4 فیصد تک پہنچ گئی۔ جیلوں کی تعداد میں اضافے کے باوجود صورتحال کچھ  بہتر نہیں ہوئی۔

جسٹس راما سبرامنیم نے جیلوں کے حوالے سے نوآبادیاتی دور اور آزادی کے بعدکے مختلف قوانین کاتذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ پہل میں مرکزی حکومت کی طرف سے سال 2023 میں تیار کیا جانے والا ماڈل جیل اور اصلاحی خدمات ایکٹ شامل ہے جس کا مقصد جیل انتظامیہ سے متعلق تمام مسائل کو جامع طریقے سے حل کرنا ہے۔ اسے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ اپنے متعلقہ جیل ایکٹ میں ترمیم کرنے کے لیے شیئر کیا گیا ہے۔

 

33.jpg

 

کانفرنس کو تین تکنیکی سیشنز میں تقسیم کیا گیاتھا۔ جسٹس وی راما سبرامنیم نے ‘‘قیدیوں کے معیار زندگی کی بہتری:سلاخوں کے پیچھے عزت، بہبود اور انسانی حقوق کی یقین دہانی’’کے موضوع پر پہلے سیشن کی صدارت کی۔اس سیشن کے پینلسٹس میں جناب راکیش کمار پانڈے، جوائنٹ سکریٹری، وزارت داخلہ، جناب والی سنگھ، شریک بانی اور لیڈ، انڈیا جسٹس رپورٹ، پروفیسر (ڈاکٹر)ورٹیکانندا،انڈیا پریزن ریفارمر،میڈیا ایجوکیٹراورکمنٹیٹراور محترمہ میتری مشرا، ڈائریکٹر آف مٹیگیشن اینڈ مینٹل ہیلتھ اینڈ کریمنل جسٹس،اسکوائر سرکل کلینک شامل تھے۔بات چیت کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ ماڈل جیلوں اور اصلاحی خدمات ایکٹ کے نفاذ کے علاوہ تخلیقی اورعملی طریقوں کے درست  امتزاج کے ساتھ اس کا حل تلاش کرنا ہوگا۔ قیدیوں کی دماغی صحت پر تمام اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے باہمی تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

‘خواتین قیدیوں اور ان کے بچے:جیلوں میں صنفی لحاظ سےحساس  اصلاحات کے لیے ادارہ جاتی ڈھانچے کی مضبوطی’ کے موضوع پر دوسرے سیشن کی صدارت محترمہ میران چڈھا بوروانکر،سابق ڈی جی، بی پی آر ڈی اور کور گروپ ممبر،این ایچ آر سی نے کی۔انہوں نے حفظان صحت، دماغی صحت اور مہارت سازی  تک رسائی کے مسائل کو اجاگر کیا۔ انہوں نے جیلوں کو شہروں سے دور علاقوں میں منتقل کرنے کے رجحان پر سوال اٹھایا، جو قیدیوں کو ان کے اہل خانہ سے مزید الگ کر دیتا ہے۔اس سیشن کے پینلسٹس میں محترمہ ترپتی گورہا، چیئرپرسن، این سی پی سی آر، ڈاکٹر کے پی سنگھ (آئی پی ایس)، سابق ڈی جی پی، ہریانہ، پروفیسر وجے راگھون، این ایچ آر سی کے کور گروپ کے رکن اور پروجیکٹ ڈائریکٹر، پریاس اور محترمہ مونیکا دھون، ڈائریکٹر، انڈیا ویژن فاؤنڈیشن شامل تھیں۔سیشن میں  جن نکات پر زور دیا گیا ہے ان میں جیلوں میں کےاندر اپنی ماؤں کے ساتھ رہنے والے 6 سال کی عمر کے بچوں کے بارے میں قابل اعتماد ڈیٹا کی کمی پرتشویش، زیر حراست خواتین کے بارے میں قومی پالیسی کی ضرورت، طبی اور دماغی  صحت کی بہتر نگہداشت، ماہواری کی صفائی اور ضرورت پر مبنی گرفتاریوں کے علاوہ حاملہ یا دودھ پلانے والی خواتین کے لیے عبوری ضمانت اور رہائی کے بعد باز آبادکاری میں زیادہ وقار کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔

 

44.jpg

 

تیسرے سیشن کی صدارت ہماچل پردیش ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس جناب راجیو شکدھر نے کی ، جو‘انڈر ٹرائل قیدی:عدالتی تاخیرکا ازالہ ، قانونی امداد کو مضبوط بنانا اور قید کے متبادل کو فروغ دینے’کے موضوع پر منعقد ہوا تھا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عدالتی تقرریوں اورکارروائیوں میں میرٹ کو ترجیح دینےسےعدالتی تاخیرکاموثر حل  فراہم کرنےمیں مد مل سکتی ہے۔2017 کے بعد سے، عدالتوں میں کیس کلیئرنس کی شرح مسلسل 100فیصدیا اس سے اوپر رہی ہے، جو مستحکم کارکردگی کی نشاندہی کرتی ہے لیکن پرانے زیر التواء فوجداری مقدمات کی وجہ سے مسلسل بیک لاگ  جاری ہے۔اس سیشن کے پینلسٹ میں جناب  منوج یادو، سابق ڈی جی(آئی)، این ایچ آر سی،جناب نیرج ورما، سکریٹری (انصاف)، وزارت قانون و انصاف، ڈاکٹر راکیش کمار،نیشنل ایگزیکٹیو ڈائریکٹر، ایس پی وائی ایم شامل تھے۔بات چیت کے دوران جن مسائل پر روشنی ڈالی گئی ان میں عدالتی تاخیر کی ایک اہم وجہ کے طور پر بار بار التوا، انصاف تک رسائی میں مالی رکاوٹیں، ابتدائی مرحلے پر کیس نمٹانے میں بارگیننگ کی عرضی، منشیات کے غلط استعمال میں خطرناک حد تک اضافہ، وکلاء کے درمیان نااہلی اور دیگرامور شامل ہیں۔

 

55.jpg

 

اپنے اختتامی کلمات میں، سکریٹری جنرل، جناب بھرت لال نے کہا کہ کانفرنس میں پیش کی جانے والی تجاویز سے کمیشن کو اپنی سفارشات کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن مختلف مسائل پر گفتگو کو مرکزی دھارے میں لانے کے مقصد سے کانفرنسوں کا انعقاد کرتا ہے تاکہ معاشرے کے مختلف طبقات کے انسانی حقوق کی صورتحال میں مجموعی بہتری کے لیے حل تلاش کیا جا سکے۔

 

66.jpg

 

انسانی حقوق کی کانفرنس میں این ایچ آر سی کی ممبر محترمہ وجے بھارتی سیانی، ڈی جی(آئی)،جناب آنند سوروپ، رجسٹرار (قانون)، جناب جوگندر سنگھ، جوائنٹ سکریٹری،جناب سمیر کمار، ریاستی انسانی حقوق کمیشن اور دیگر کمیشنوں کے چیئرپرسن اور ممبران، ہائی کورٹس کے جج، اعلیٰ سرکاری افسران، اکیڈمی، این جی او، جیل کے سینئر افسران اوردیگر نے شرکت کی۔

 

77.jpg

*******

ش ح۔ م ش ع۔م ش

U.NO.153


(ریلیز آئی ڈی: 2181455) وزیٹر کاؤنٹر : 30
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी