مواصلات اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت
ٹی آر اے آئی نے اسپام اور سائبر فراڈ کے مسائل پر ریگولیٹروں کی نوویں مشترکہ کمیٹی (جے سی او آر) کا اجلاس طلب کیا
ڈجیٹل رضامندی کے حصول کے لیے پائلٹ پروجیکٹ ٹریک پر ہے، 1600 سیریز کال اپنانے کے لیے بڑا قدم، ایس ایم ایس میں بھیجے گئے سبھی یو آر ایل، او ٹی ٹی لنک، اے پی کے اور کال بیک نمبر وائٹ لسٹنگ ضروری، اداروں کی بلیک لسٹنگ اور بہتر پی ای-اینڈ سیکورٹی اقدامات
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
16 OCT 2025 6:09PM by PIB Delhi
ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی آف انڈیا (ٹی آر اے آئی) نے آج ٹی آر اے آئی ہیڈکوارٹر، نئی دہلی میں جوائنٹ کمیٹی آف ریگولیٹرز (جے سی او آر) کی 9ویں میٹنگ طلب کی۔
اس اجلاس میں ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی)، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی)، پنشن فنڈ ریگولیٹری اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (پی ایف آر ڈی اے) اور وزارت الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی (میٹی) کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ، محکمۂ ٹیلی کمیونیکیشنز (ڈی او ٹی)، وزارت داخلہ (ایم ایچ اے)، صارفین کے امور کی وزارت اور نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا (این پی سی آئی) کے افسران بھی اجلاس میں موجود تھے۔
صنعتی نمائندوں کے ساتھ ایک اجلاس بھی منعقد کیا گیا، جس میں گوگل، میٹا، جی ایس ایم اے، اور سی او اے آئی کے ساتھ مختلف اقدامات پر تبادلۂ خیال کیا گیا جن کا مقصد صارفین کے بااختیار بنانے، اعتماد کے فروغ، اور ڈیجیٹل ذرائعٔ ابلاغ کے ذریعے کی جانے والی اسپام اور فریب دہ سرگرمیوں سے صارفین کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
کمیٹی نے 22 جولائی 2025 کو منعقدہ آٹھویں جے سی او آر اجلاس میں کیے گئے اہم فیصلوں پر عمل درآمد کی صورتِ حال کا بھی جائزہ لیا اور نئے ایجنڈا نکات پر غور کیا جن میں 1600 سیریز نمبرنگ پلان کے نفاذ کی آخری تاریخ، مختصر یو آر ایل کے غلط استعمال، ایس ایم ایس کے ذریعے بھیجے جانے والے یو آر ایل، او ٹی ٹی لنک، اے پی کے فائلوں اور کال بیک نمبروں کی لازمی وائٹ لسٹنگ، اور بلیک لسٹ کردہ اداروں کی تفصیلات کی اشاعت شامل ہیں۔
بات چیت کے کلیدی نتائج
- کمیٹی نے مرحلہ وار سنگ میل کے ساتھ فروری 2026 تک ڈیجیٹل رضامندی کے حصول کے پائلٹ کو مکمل کرنے پر اتفاق کیا۔
- کمیٹی نے بینکنگ، فنانشل سروسز، اور انشورنس (بی ایف ایس آئی) سیکٹر میں 1600 سیریز نمبرنگ پلان میں منتقلی کے لیے ایک مرحلہ وار ٹائم لائن پر اتفاق کیا۔ شعبہ جاتی ریگولیٹروں نے طے شدہ ٹائم لائن پر اپنے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
- کمیٹی نے 1600 سیریز مینڈیٹ سے چھوٹے پیمانے پر مالیاتی/ کاروباری اداروں کے لیے امتیازی سلوک پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ٹرائی اس سلسلے میں ضروری ہدایات جاری کرے گا۔
- اراکین نے تجارتی مواصلات میں استعمال ہونے والے تمام یو آر ایل، او ٹی ٹی لنک، اے پی کے اور کال بیک نمبروں کی لازمی وائٹ لسٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔ ٹرائی نے ان لنک کو منظور شدہ ایس ایم ایس ٹیمپلیٹس میں ٹیگ کر کے ان وسائل کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے اپنی مہم کے بارے میں اراکین کو آگاہ کیا جس کے لیے دوسرے اراکین سے قریبی تعاون کی ضرورت ہے۔ اراکین نے مشق کے لیے اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔
- کمیٹی نے اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ ٹرائی اور ٹی ایس پی اپنی متعلقہ ویب سائٹوں پر اسپیمنگ سرگرمیوں کے لیے بلیک لسٹ کیے گئے اداروں کی فہرست شائع کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔ یہ غلطی کرنے والے اداروں کے لیے ایک اضافی رکاوٹ کا کام کرے گا۔
- کمیٹی نے ٹرائی کے ڈرافٹ ڈائریکشن پر غور کیا جس میں پی ای-اینڈ حفاظتی اقدامات کو لازمی قرار دیا گیا ہے، بشمول ریئل ٹائم اسناد کی توثیق، او ٹی پی سسٹم کے لیے کیپچا نفاذ وغیرہ۔ ٹرائی نے ان حفاظتی اقدامات کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے اراکین سے تعاون کی درخواست کی۔
ٹرائی کے چیئرمین جناب انیل کمار لاہوتی نے کہا، ”ڈیجیٹل منسلک معیشت میں، ڈیجیٹل خدمات، مالیاتی خدمات، صارفین کے تحفظ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ریگولیٹروں کے درمیان تعاون سب سے اہم ہے۔ جوائنٹ کمیٹی آف ریگولیٹر (جے سی او آر) ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی کے منظم استعمال اور اسپیم اور سائبر فراڈ کے خلاف کارروائی کے لیے ایک اہم باہمی تعاون کے پلیٹ فارم کے طور پر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ کمیٹی صنعت کے نمائندوں کے ساتھ بھی بات چیت کر رہی ہے کیونکہ وہ اہم اسٹیک ہولڈر ہیں۔ آج کے فیصلے ایک محفوظ اور شفاف ڈیجیٹل کمیونیکیشن ایکو سسٹم کی تعمیر کے لیے ہمارے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتے ہیں“۔
********
ش ح۔ ف ش ع
U: 9972
(ریلیز آئی ڈی: 2180135)
وزیٹر کاؤنٹر : 29