الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
سودیشی تکنالوجی بھارت کی مستقبل کی نقل و حرکت کو تقویت بہم پہنچائے گی: سینٹر فار ڈیولپمنٹ آف ایڈوانسڈ کمپیوٹنگ (سی ڈی اے سی) اور انٹرنیشنل سینٹر فار آٹو موٹیو ٹکنالوجی (آئی سی اے ٹی) نے سودیشی آٹو موٹیو حل تیار کرنے کے لیے اشتراک قائم کیا
یہ شراکت داری تحقیق و ترقی، جانچ اور سودیشی آٹو موٹیو تکنالوجی کی سند بندی پر مرتکز ہوگی، اور اس سے غیر ملکی حلوں پر انحصار کم ہوگا اور آتم نربھر بھارت کی تصوریت آگے بڑھے گی
प्रविष्टि तिथि:
09 OCT 2025 8:39PM by PIB Delhi
جیسے جیسے دنیا بہتر، صاف ستھرا، اور زیادہ مربوط نقل و حرکت کی طرف منتقل ہو رہی ہے، ہندوستان اس بات کو یقینی بنانے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کر رہا ہے کہ اس کی تکنیکی ریڑھ کی ہڈی مقامی اختراعات پر استوار ہے۔ اس سمت میں، سینٹر فار ڈیولپمنٹ آف ایڈوانسڈ کمپیوٹنگ (سی – ڈی اے سی) نے الیکٹرانکس اور اطلاعاتی تکنالوجی کی وزارت(ایم ای آئی ٹی وائی) کے تحت اہم تحقیق و ترقی سے متعلق تنظیم اور بھاری صنعتوں کی وزارت کے ماتحت ایک خودمختار ادارہ انٹرنیشنل سینٹر فار آٹوموٹیو ٹیکنالوجی (آئی سی اے ٹی ) نے ایک نئی مفاہمتی عرضداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے ہیں۔
نئی دہلی میں واقع بھارت منڈپم میں ٹریفک انفرا ٹیک ایکسپو- 2025 کے دوران مفاہمتی عرضداشت پر دستخط سے متعلق تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر ایم ای آئی ٹی وائی کی گروپ کوآرڈی نیٹر (الیکٹرانکس اور آئی ٹی میں تحقیق و ترقی)محترمہ سنیتا ورما ، آئی سی اے ٹی کے ڈائرکٹر ڈاکٹر سوربھ دلیلا، سی-ڈی اے سی حیدرآباد، سینٹر ہیڈ، ڈاکٹر پی آر لکشمی ایشوری، اور حکومت و صنعت کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔ اس شراکت داری میں سودیشی تکنالوجی ترقی کے توسط سے مستقبل کے لیے نقل و حمل کے تغیر کے مقصد کے ساتھ مشترکہ تحقیق و ترقی کو انجام دینا شامل ہوگا۔

اس مفاہمتی عرضداشت میں وسیع پیمانے پر مشترکہ ٹیکنالوجی کی ترقی، نئے تحقیق و ترقی ک ےشعبوں کی نشاندہی، جانچ کے معیارات کی ترقی، اور آٹوموٹیو سیکٹر کے لیے سائبر سکیورٹی حل کا احاطہ کیا گیا ہے، جبکہ اس ڈومین میں ابھرتے ہوئے کاروباری مواقع کی تلاش بھی ہے۔

اس شراکت داری کے تحت، آئی سی اے ٹی تکنیکی ضروریات کی وضاحت کے لیے آٹوموٹیو انڈسٹری کے ساتھ تعاون کرے گا، جبکہ سی – ڈی اے سی ان ضروریات کے مطابق مقامی حل تیار اور تیار کرے گا۔ نئی ٹیکنالوجیز کے لیے، سی – ڈی اے سی ترقی اور اختراعی جزو کا کام کرے گا، اور آئی سی اے ٹی جانچ، تصدیق، اور سرٹیفیکیشن کی سہولیات فراہم کرے گا، ساتھ ہی ساتھ صارف کے اختتامی آٹوموبائل کمپنیوں کے ساتھ صنعت کے روابط کو آسان بنائے گا۔
اس تعاون سے، غیر ملکی حلوں پر انحصار میں نمایاں کمی متوقع ہے، کیونکہ اندرونِ ملک تیار کردہ "سودیشی" ٹیکنالوجیز ہندوستان کی آٹو موٹیو ایجادات کو تیزی سے تقویت دیں گی۔ یہ شراکت داری آتم نربھر بھارت اور میک ان انڈیا کے قومی وژن کے ساتھ ہم آہنگی میں خود انحصاری، مستقبل کے لیے تیار نقل و حرکت کی طرف ہندوستان کے سفر کو تشکیل دینے میں ایک اہم پیش رفت کی نشاندہی کرتی ہے۔
**********
(ش ح –ا ب ن- ع ر)
U.No:7351
(रिलीज़ आईडी: 2177131)
आगंतुक पटल : 27