مکانات اور شہری غریبی کے خاتمے کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر جناب منوہر لال نے مرکزی مشاورتی کونسل کے پانچویں اجلاس میں  یونیفائیڈ ریرا پورٹل کا آغاز کیا


کونسل نے ریرا کے نفاذ، رکے ہوئے منصوبوں، گھر خریداروں کی شکایات اور ڈیولپرز کے مسائل کا جائزہ لیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 04 SEP 2025 7:18PM by PIB Delhi

رئیل اسٹیٹ (ریگولیشن اینڈ ڈویلپمنٹ) ایکٹ 2016 [ریرا] کے تحت قائم کی گئی مرکزی مشاورتی کونسل (سی اے سی) کی پانچویں  میٹنگ  آج سنکلپ بھون، کے۔جی۔ مارگ، نئی دہلی میں منعقد ہوئی ۔  میٹنگ کا آغاز وزارت ہاؤسنگ و شہری امور (موہوا) کے جوائنٹ سیکریٹری جناب کلدیپ نارائن کے خیرمقدمی خطاب سے ہوا، جس کے بعد سیکریٹری (ایچ یو اے) جناب سرینواس کاتکیتھالا نے ریرا کے نفاذ کے 8 سالہ سفر پر روشنی ڈالی۔

معزز مرکزی وزیر برائے ہاؤسنگ و شہری امور جناب منوہر لال اور معزز وزیر مملکت برائے ہاؤسنگ و شہری امور جناب ٹوکھن ساہو نے کونسل سے خطاب کیا اور بحث و مباحثے کی رہنمائی کی۔  میٹنگ  میں مختلف ریرا چیئرمین، ریاستی حکومتوں کے سیکریٹری، مرکزی حکومت کے مختلف محکموں کے نمائندے، گھر خریداروں کے نمائندے اور صنعتوں کی انجمنوں کے اراکین نے شرکت کی۔

اس موقع پر مرکزی وزیر جناب منوہر لال نے متحدہ ریرا پورٹل rera.mohua.gov.inکا افتتاح کیا، جو تمام شراکت داروں کے لئے ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے، شفافیت کو بڑھاتا ہے اور ریاستوں/مرکز کے زیرانتظام علاقوں (یو ٹیز) کے درمیان بہترین عملی مثالوں کے تبادلے کو ممکن بناتا ہے۔

وزیر مملکت برائے ہاؤسنگ و شہری امور جناب ٹوکھن ساہو نے کہا کہ گزشتہ آٹھ برسوں میں ریرا رئیل اسٹیٹ کے شعبے کے لیے ایک انقلابی اصلاح کے طور پر ابھرا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب ترجیح یہ ہے کہ گھرخریداروں کی شکایات کا تیز تر حل تلاش کیا جائے اور رکے ہوئے منصوبوں کو دوبارہ شروع کیا جائے تاکہ خریداروں اور ڈیولپرز کے درمیان اعتماد مزید مضبوط ہو۔

سیکریٹری ہاؤسنگ و شہری امور جناب سرینواس کاٹکیتھالا نے اپنے خطاب میں کہا کہ ریرا نے منصوبوں کی رجسٹریشن، انکشافات اور شکایات کے ازالے کو لازمی قرار دے کر نظام میں بنیادی تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سی اے سی اجلاس گھر خریداروں کے مفاد اور شعبے کی ترقی کے لیے حکمت عملی وضع کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔

اہم مباحثہ:

میٹنگ میں اراکین نے گزشتہ 8 برسوں میں ریاستوں/یو ٹیز میں ریرا کی شاندار پیش رفت کو سراہا:

  • 35 ریاستوں/یو مرکز کے زیرانتظام علاقوں نے رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹیز قائم کی ہیں۔
  • 29 ریاستوں/مرکز کے زیرانتظام علاقوں نے اپیلٹ ٹربیونلز قائم کئے ہیں جبکہ 27 نے ایڈجوڈی کیٹنگ افسران مقرر کئے ہیں۔
  • 1,51,113 منصوبے اور 1,06,545 ایجنٹس ریرا کے تحت رجسٹرڈ ہیں۔
  • 1,47,383 شکایات ملک بھر میں رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹیز نے نمٹائیں۔
  • کونسل نے پرانے رکے ہوئے منصوبوں اور جی 20 شیرپا جناب امیتابھ کانت کی سربراہی میں قائم کمیٹی کی رپورٹ کے نفاذ پر بھی گفتگو کی۔ کونسل نے مشاہدہ کیا کہ اتر پردیش نے سفارشات کو نافذ کیا ہے۔ دیگر ریاستوں میں جہاں منصوبے رکے ہوئے ہیں، انہیں بھی یہ سفارشات آگے بڑھانی چاہئیں۔
  • کونسل نے معیاری عملی طریقۂ کار (ایس او پی) کی سفارش کی تاکہ ریرا اتھارٹیز کی مؤثر کارکردگی کو یقینی بنایا جا سکے، ریرا کے ذریعے احکامات پر عملدرآمد کو مضبوط کیا جا سکے اور رکے ہوئے منصوبوں کی تکمیل کے لیے تفصیلی فریم ورک تیار کیا جا سکے۔
  • نئے لانچ کیے گئے ریرا پورٹل کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے زور دیا گیا کہ مؤثر پالیسی سازی اور مالی مراعات کے لیے قومی سطح پر منصوبوں کا ڈیٹا بیس پورٹل کے ذریعے تیار کیا جانا چاہیے تاکہ گھر خریدار باخبر فیصلے کر سکیں۔ مزید یہ کہ ریاستی ریرا ویب سائٹس کے انضمام کے ذریعے جمع کردہ اعداد و شمار کا تجزیہ کرکے یہ پورٹل منصوبوں کی تاخیر کا اندازہ لگانے اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) و دیگر ٹولز کی مدد سے رکے ہوئے منصوبوں کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
  • کونسل نے تجویز دی کہ ریرا کے احکامات پر مؤثر عملدرآمد اور گمراہ کن اشتہارات پر قابو پانے کے لیے موزوں اقدامات کئے جائیں۔
  • کونسل نے منصوبوں کی رجسٹریشن میں تاخیر، مقامی حکام سے منظوریوں، منصوبہ مکمل ہونے کے بعد ریرا اکاؤنٹس سے رقم نکالنے اور پروموٹرز کی جانب سے سہ ماہی ترقیاتی رپورٹس جمع کرانے جیسے مسائل پر بھی غور کیا۔
  • کونسل نے زور دیا کہ ریرا کے نفاذ میں یکسانیت، تیز تر رجسٹریشن، احکامات پر عملدرآمد اور تعریفوں میں وضاحت لانے کے اقدامات کئے جائیں۔ کونسل نے مشورہ دیا کہ اس بات کا مطالعہ کیا جائے اور یقین دہانی کرائی جائے کہ قانون کے تحت بنائے گئے قواعد و ضوابط اصل ایکٹ کے مطابق ہوں۔ اس مقصد کے لئے مرکزی سطح پر موہوا میں ایک کمیٹی تشکیل دی جانی چاہیے، جس میں تمام شراکت داروں کے نمائندے شامل ہوں، تاکہ ریرا کے فریم ورک میں اصلاحات کو آگے بڑھایا جا سکے۔
  • کونسل نے سفارش کی کہ چونکہ ریرا کے 8 برس مکمل ہو چکے ہیں، اس لئے اب ضرورت ہے کہ ریرا میں نئی نسل کی اصلاحات پر توجہ دی جائے۔ اس کے مطابق وزارت ہاؤسنگ و شہری امور کو ایک جامع مشق کرنی چاہیے تاکہ ریرا کو مزید مضبوط بنانے اور رئیل اسٹیٹ شعبے کو شراکت داروں کے ساتھ مشاورت کے ذریعے ترقی دینے کے لیے ضروری اقدامات وضع کیے جا سکیں۔
  • اجلاس کا اختتام اس اپیل کے ساتھ ہوا کہ گھریلو خریداروں کے مفاد کے تحفظ اور رئیل اسٹیٹ شعبے میں شفافیت و جواب دہی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ریرا کو صحیح معنوں میں نافذ کیا جائے۔

*************

ش ح ۔   ف ا    ۔  م  ص

(U : 5688)


(ریلیز آئی ڈی: 2163913) وزیٹر کاؤنٹر : 27
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी