لوک سبھا سکریٹریٹ
لوک سبھا اسپیکر نے قانون سازوں سے قومی مفاد کے معاملات پر پارٹی لائن سے اوپر اٹھنے کی اپیل کی
لوک سبھا اسپیکر نے اجلاسوں کی تعداد میں کمی اور قانون ساز اداروں کی کمیٹیوں میں ممبروں کے خلل ڈالنے والا رویے پر تشویش کا اظہار کیا
کمیٹیاں پارلیمنٹ کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، جو پارٹی لائن اوپر اٹھ کر احتساب اور بااختیاری کو یقینی بناتے ہوئے غیر جانب دارانہ انداز میں کام کرتی ہیں: لوک سبھا اسپیکر
بابا صاحب بی آر امبیڈکر کا وقار اور سب کے لیے مساوی مواقع کا وژن بھارت کی ترقی کی تشکیل جاری رکھے ہوئے ہے: لوک سبھا اسپیکر
وکست بھارت 2047 تک سب کے لیے انصاف، مساوات اور وقار کے ساتھ ہی ممکن ہے: لوک سبھا اسپیکر
بھونیشور میں 140 مندوبین کے ساتھ ایس سی / ایس ٹی ویلفیئر کمیٹیوں کی تاریخی قومی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا
لوک سبھا اسپیکر نے ایس سی اور ایس ٹی کی بہبود پر پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں کی کمیٹیوں کے چیئرپرسنز کی قومی کانفرنس کا افتتاح کیا
Posted On:
29 AUG 2025 5:45PM by PIB Delhi
لوک سبھا اسپیکر جناب اوم برلا نے آج ملک کے قانون سازوں پر زور دیا کہ وہ قومی مفاد کے مسائل پر پارٹی لائن سے اوپر اٹھیں۔ انھوں نے مقننہ کے اجلاسوں کی تعداد میں کمی اور قانون ساز اداروں میں ارکان کے خلل ڈالنے والے رویے پر برہمی کا اظہار کیا۔ اوڈیشہ کے بھوبنیشور میں درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کی بہبود کے بارے میں پارلیمنٹ اور ریاستی قانون سازوں کی کمیٹیوں کے چیئرپرسنز کی قومی کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے جناب برلا نے کہا کہ مقننہ میں بحث اور مکالمے کی سطح میں گراوٹ تشویش کا باعث ہے۔
جناب برلا نے آئین کے لازوال وژن کا اعادہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ سماجی انصاف اور مواقع کی مساوات نہ صرف ہمارے آئین کی واضح خصوصیات ہیں بلکہ گذشتہ 75 برسوں سے بھارت کے جمہوری سفر کی رہ نما روح بھی ہیں۔ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے ایک ایسے بھارت کے وژن کو یاد کرتے ہوئے جہاں درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل اور پسماندہ طبقات وقار، احترام اور مساوی مواقع کے ساتھ رہیں گے، جناب برلا نے کہا کہ اس وژن نے دہائیوں میں ٹھوس شکل اختیار کی ہے، جس سے ان برادریوں کے ممبروں کو ملک کے سب سے بڑے عہدوں پر فائز ہونے کا موقع ملا ہے، جس سے بھارتی جمہوریت کی پختگی اور شمولیت کی عکاسی ہوتی ہے۔
ایس سی اور ایس ٹی کی بہبود سے متعلق کمیٹیوں کے چیئرپرسنوں کی پہلی کانفرنس 1976 میں نئی دہلی میں منعقد ہوئی تھی۔ اس کے بعد 1979، 1983، 1987 اور 2001 میں برابر کانفرنسوں کا انعقاد کیا گیا، جس سے ایس سی اور ایس ٹی کے لیے فلاحی اور آئینی تحفظ کے مختلف پہلوؤں پر مضبوط مکالمے میں مدد ملی۔ حالاں کہ یہ پہلا موقع ہے کہ دہلی سے باہر اس طرح کی کانفرنس منعقد کی جا رہی ہے۔
جناب برلا نے اسے یقینی بنانے کے لیے سرکاری فنڈز کے موثر استعمال اور نگرانی کے مضبوط میکانزم کی اشد ضرورت پر زور دیا کہ بہبودی اسکیمیں صحیح معنوں میں معاشرے کے پسماندہ طبقوں تک پہنچیں اور بااختیار بنائیں اور جامع ترقی کو آگے بڑھانے میں مالیاتی نظم و ضبط اور انتظامی احتساب کے اہم کردار کو نمایاں کیا۔ انھوں نے کہا کہ درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل اور دیگر پسماندہ طبقوں کی ترقی کے مقصد سے سماجی بہبود کے اقدامات کے لیے ہر سال خاطر خواہ عوامی وسائل مختص کیے جاتے ہیں اور ترقی کے فوائد کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے بروقت نفاذ اور باقاعدگی سے نگرانی کی اہمیت پر زور دیا۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ حقیقی بااختیار بنانا مالی امداد سے آگے بڑھ کر ہے اور اس میں خود کفیلی، وقار اور ترقی کے مواقع کو فروغ دینا ضروری ہے، اسپیکر نے زیادہ ذمہ دارانہ اور نتیجہ خیز پالیسی کے نفاذ کے ذریعے سماجی انصاف اور جامع حکم رانی کے لیے پارلیمنٹ کے عزم کا اعادہ کیا۔
کمیٹیوں کے اہم رول پر روشنی ڈالتے ہوئے جناب برلا نے کہا کہ وہ پارلیمانی جمہوریت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سیاسی مجبوریوں کے برعکس جو ایوان میں بحث کا باعث بنتی ہیں، انھوں نے کہا کہ کمیٹیاں جانب دارانہ سیاست سے آزاد ہوکر معاملات کا تفصیلی جائزہ لیتی ہیں اور اتفاق رائے پر مبنی سفارشات تک پہنچتی ہیں۔ انھوں نے اس بات پر تفصیل سے روشنی ڈالی کہ کس طرح کمیٹیاں، خاص طور پر درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کی بہبود سے متعلق کمیٹیاں بجٹ اہتماموں کی باریک بینی سے جانچ کرتی ہیں، اسکیموں کی کارکردگی کا جائزہ لیتی ہیں، اور اس بات کا جائزہ لیتی ہیں کہ آیا مختص رقم کا مکمل اور مؤثر طریقے سے استعمال کیا گیا ہے یا نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان کی رپورٹیں نہ صرف حکومت کا احتساب کرتی ہیں بلکہ آئندہ کی اصلاح کے لیے قابل قدر رہ نمائی بھی فراہم کرتی ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں کی کمیٹیاں غیر جانب دارانہ انداز میں کام کرتی ہیں اور سیاسی خطوط سے اوپر اٹھ کر صرف عوام کے مفاد میں فیصلے کرتی ہیں۔ ایوان میں ہونے والی گفت و شنید سے زیادہ تفصیلی اور منظم ان کی گفت و شنید حکومتی پالیسیوں کو واضح اور سمت فراہم کرتی ہے اور حساس معاملات پر اتفاق رائے حاصل کرنے میں مدد دیتی ہے۔ جناب برلا نے اس کی نشان دہی کی کہ ہمارے اداروں کی اس طاقت نے بھارت کو پالیسیوں کو حقیقی بااختیار بنانے کے قابل بنایا ہے، جس کی عکاسی پسماندہ برادریوں کے رہ نماؤں کے اعلیٰ عہدوں تک پہنچنے سے ہوتی ہے۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ قانون کے سامنے مساوات، قوانین کے مساوی تحفظ اور انصاف – سماجی، اقتصادی اور سیاسی – کی ضمانت دینے والی آئینی دفعات بھارت کی ترقی کی بنیاد ثابت ہوئی ہیں۔ آئین کے دیباچے میں درج یہ نظریات حکم رانی کے لیے سنگ میل اور اداروں کے لیے مشعل راہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جب مساوات اور انصاف کے اصول آخری شہری تک پہنچیں گے تب ہی جمہوریت اپنے مکمل معنی اور طاقت حاصل کرے گی۔
جناب برلا نے کہا کہ گذشتہ ساڑھے سات دہائیوں میں بھارت کا سفر سب سے زیادہ پسماندہ لوگوں کو بااختیار بنانے کی مسلسل کوشش رہی ہے۔ آج سرکاری شعبے کے ادارے، مالیاتی ادارے اور قومی تعلیمی پالیسی جیسے تعلیمی اصلاحات درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کے لیے مواقع بڑھانے کی سمت میں ہیں۔ انھوں نے اس کا اعادہ کیا کہ تعلیم اور سماجی انصاف ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور کم زور طبقوں کے حقوق کا تحفظ ملک کے پالیسی ایجنڈے کا مرکز ہونا چاہیے۔
جناب برلا نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ کانفرنس بامعنی قراردادوں، عملی تجاویز اور اختراعی خیالات کا باعث بنے گی جس سے سماجی انصاف کو یقینی بنانے میں کمیٹیوں کے رول کو مزید تقویت ملے گی۔ انھوں نے کہا کہ یہ تبادلہ خیال ایک جامع اور مساوی سماج کے لیے روڈ میپ کی تعمیر میں مدد کرے گا اور 2047 تک بھارت کی وکست بھارت کی خواہش کو رفتار دے گا، جس کی جڑیں انصاف، مساوات اور سب کے لیے وقار کی اقدار پر پختہ ہیں۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ کانفرنس کے نتائج درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کی بہبود کے لیے طویل مدتی پالیسی سازی میں رہ نمائی کریں گے۔
اوڈیشہ کے وزیر اعلی ٰ جناب موہن چرن مانجھی۔ آدیواسی امور کے مرکزی وزیر جناب جوال اورمرکزی وزیر تعلیم جناب دھرمیندر پردھان۔ راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین جناب ہری ونش اور ایس سی اور ایس ٹی کی بہبود سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کے چیئر پرسن ڈاکٹر فگن سنگھ کلاستے نے بھی اس موقع پر مجمع سے خطاب کیا۔ پارلیمنٹ اور ریاستی / مرکز کے زیر انتظام قانون سازوں میں ایس سی اور ایس ٹی کی بہبود سے متعلق کمیٹیوں کے چیئرپرسن اور ممبران؛ اوڈیشہ حکومت کے وزراء اور اوڈیشہ قانون ساز اسمبلی کے ارکان نے افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔
اوڈیشہ قانون ساز اسمبلی کی اسپیکر محترمہ سورما پادھی نے استقبالیہ خطاب کیا اور اوڈیشہ قانون ساز اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر جناب بھابانی شنکر بھوئی نے افتتاحی اجلاس کے دوران شکریہ ادا کیا۔
کانفرنس کا موضوع ’’ایس سی اور ایس ٹی کی بہبود، ترقی اور بااختیار بنانے میں پارلیمانی اور مقننہ کمیٹیوں کا کردار‘‘ ہے۔ کانفرنس کا اختتام 30 اگست 2025 کو اڈیشہ کے گورنر ڈاکٹر ہری بابو کمبھمپتی کے اختتامی خطاب کے ساتھ ہوگا۔
***
(ش ح – ع ا)
U. No. 5453
(Release ID: 2162055)
Visitor Counter : 16