مواصلات اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت
مرکزی وزیر مواصلات جناب جیوترادتیہ ایم سندھیا نے آئی آئی آئی ٹی-دہلی ٹیک فیسٹ میں نوجوانوں سے ’وشو گرو بھارت‘ بنانے کی اپیل کی
آئی آئی آئی ٹی -دہلی ٹیک فیسٹ میں نوجوانوں کو متاثر کرتے ہوئے کہا ’حوصلہ مند بنیں، اپنی جڑوں سے جڑے رہیں، بھارت کے لیے تخلیق کریں‘
ٹیلی کام ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ فنڈ (ٹی ٹی ڈی ایف) نے اب تک 120 سے زائد جدید منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ہے: جناب سندھیا
Posted On:
29 AUG 2025 3:11PM by PIB Delhi

شمال مشرقی خطے کی ترقی اور مواصلات کے مرکزی وزیر، جناب جیوترادتیہ ایم سندھیا نے آئی آئی آئی ٹی-دہلی کے ٹیک فیسٹ ’’ایس وائی اے‘‘میں خطاب کرتے ہوئے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ وشو گرو بھارت کے طور پر ملک کے اگلے سنہرے باب کی قیادت کریں۔ ہندوستان کی علم و حکمت کی عظیم وراثت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’آریہ بھٹ کے صفر کی دریافت سے لے کر طبی سائنس اور سرجری میں انقلابی ترقی تک، اور نالندہ و تکشیلا جیسے قدیم تعلیمی مراکز، جنہوں نے دنیا بھر کے علم کے متلاشیوں کو اپنی جانب کھینچا — یہ سب ہماری تہذیب کا حصہ ہیں۔ علم کی یہ جستجو ہمارے ڈی این اے میں شامل ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’اگر نالندہ کی لائبریری سے موازنہ کیا جائے تو ہارورڈ کے محلات بھی ماند پڑ جاتے ہیں۔ وہ چمک، وہ روشنی، آج بھی ہمارے اندر موجود ہے — بس اسے پہچاننے اور جگانے کی ضرورت ہے۔‘‘

ٹیک فیسٹ کو ’’جرات مندانہ خوابوں کو عملی جامہ پہنانے کا لانچ پیڈ‘‘ قرار دیتے ہوئے جناب سندھیا نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان کا عروج اس کے نوجوانوں کے کندھوں پر ہے ۔
اے آئی ، جی 6 اور کوانٹم: اگلی صدی کے لیے تعمیر
ٹیکنالوجی کے میدان میں بات کرتے ہوئے، وزیر موصوف نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح 40 سال قبل انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) نے دنیا کو بدل دیا تھا، آج وہی انقلابی کردار اے آئی ادا کر رہی ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ محض اے آئی کی تخلیق کافی نہیں، بلکہ ایک ذمہ دار اے آئی کی تشکیل وقت کی اہم ضرورت ہے — ایسی ٹیکنالوجی جو انسانیت کو بلندی عطا کرے، نہ کہ اس پر حاوی ہو۔ جناب سندھیا نے سرحدی ٹیکنالوجی(فرنٹائر ٹکنالوجی) کے شعبے میں بھارت کی بڑھتی ہوئی قیادت کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ ٹیلی کام ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ فنڈ (ٹی ٹی ڈی ایف) اب تک 120 سے زائد مستقبل بین منصوبوں میں سرمایہ کاری کر چکا ہے۔ ان منصوبوں میں کوانٹم کمپیوٹنگ، ٹیرا ہرٹز کمیونیکیشن، بایو نینو سسٹمز، دیسی چپ سیٹس، اور اینکرپٹڈ راؤٹرز جیسے جدید ترین موضوعات شامل ہیں۔ انہوں نے اس بات کی بھی توثیق کی کہ بھارت کا ہدف جی 6 میں عالمی قیادت حاصل کرنا ہے اور 2030 تک دنیا بھر میں دائر کیے جانے والے پیٹنٹس میں کم از کم 10 فیصد حصہ بھارت کا ہو۔ اس حوصلہ افزاء سفر کا مرکز بھارت کے باصلاحیت طلباء ہیں، جو قوم کے مستقبل کے معمار بھی ہیں۔

بنیادی اقدار: بھارت کے لیے تعمیر
جناب سندھیا نے طلباء کو یاد دلایا کہ ہندوستان کا عروج اُس کی گہری تہذیبی اقدار میں پیوست ہے۔ انہوں نے کہا ، ’’ہم اُس دھرتی کے سپوت ہیں جس نے کبھی کسی جنگ کی شروعات نہیں کی، جو ’واسودھیو کٹمبکم‘ یعنی ساری دنیا کو ایک کنبہ ماننے کے اصول پر یقین رکھتی ہے۔‘‘ انہوں نے طلباء کو مخاطب کرتے ہوئے زور دیا کہ وہ صرف جدید ٹیکنالوجی ہی نہ بنائیں، بلکہ بھارت کے لیے اور بھارت سے جڑے لوگوں کے لیے تخلیق کریں۔ انہوں نے کہا ’’ایسا بھارت بنائیں جو اُس کسان کے لیے امید بنے جو درست زراعت کے حل کا منتظر ہے؛ اُس بچے کے لیے روشنی بنے جو ڈیجیٹل کلاس روم میں سیکھ رہا ہے؛ اور اُس مریض کے لیے سہارا بنے جو ایک چھوٹے شہر میں ٹیلی ہیلتھ پر انحصار کرتا ہے۔‘‘
برین ڈرین سے برین گین تک
مستقبل کے اختراع کاروں سے خطاب کرتے ہوئے جو بیرون ملک تعلیم حاصل کر سکتے ہیں، وزیر موصوف نے اپیل کی کہ وہ بہترین یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر سکتے ہیں، بہترین لیبز میں کام کر سکتے ہیں لیکن انہیں گھر واپس آنا چاہیے اور اپنے علم، اپنے عزائم کو لے کر آنا چاہیے، اور ہندوستان کو سنہری چڑیا کے طور پر دوبارہ تعمیر کرنا چاہیے جو کبھی برین ڈرین کو برین گین میں تبدیل کر کے تھا۔
بی آر بی کے تین منتر
آخر میں، جب جناب سندھیا نے نوجوانوں کو تین رہنما اصولوں’’بی بولڈ، بی روٹڈ، اینڈ بلڈ فار انڈیا‘‘ کا پیغام دیا، تو پورا آڈیٹوریم پرجوش تالیوں سے گونج اُٹھا۔ انہوں نے اپنے خطاب کا اختتام ان الفاظ کے ساتھ کیا: ’’اگلے سو سالوں کا سنہری موقع ہندوستان کے ہاتھ میں ہے۔ آیئے، ایشیا کی روح اور خاص طور پر بھارت کی روح کو عالمی منظرنامے پر نئی روشنی عطا کریں۔‘‘

*****
ش ح۔ ش ت ۔ ت ح
U. No-5437
(Release ID: 2161853)
Visitor Counter : 23