حکومت ہند کے سائنٹفک امور کے مشیر خاص کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

پی ایس اے پروفیسر اجے کمار سود نے طبی مصنوعات کے لیے ہندوستان کے ریگولیٹری ماحولیاتی نظام کو بہتر بنانے کی پیشرفت پر چوتھی جائزہ میٹنگ کی صدارت کی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 20 AUG 2025 6:26PM by PIB Delhi

چوبیسویں پی ایم-ایس ٹی آئی اے سی اجلاس کے سلسلے میں چوتھی فالو اپ میٹنگ بعنوان ’ہندوستان میں میڈیکل مصنوعات کے ریگولیٹری ایکو سسٹم کی تبدیلی‘، 19 اگست 2025 کو حکومتِ ہند کے پرنسپل سائنٹفک ایڈوائزر (پی ایس اے) پروفیسر اجے کمار سود کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ پی ایم-ایس ٹی آئی اے سی اجلاس میں یہ سفارش کی گئی کہ میڈیکل پراسیس کے ضوابط کو بہتر بنایا جائے تاکہ ایک ایسا نظام تشکیل دیا جا سکے جو شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنائے، ساتھ ہی ہندوستان اور دنیا کے لیے قابلِ اعتماد میڈیکل مصنوعات میں اختراع کو فروغ دیا جا سکے۔

 

 

ڈاکٹر راجیو رگھوونشی، ڈرگ کنٹرولر جنرل آف انڈیا، سینٹرل ڈرگ اسٹینڈرڈ کنٹرول آرگنائزیشن نے ترجیحی شعبوں میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا اور جاری اقدامات کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔ ان اقدامات میں 12 اگست 2025 کو اسٹیٹ ڈرگ ریگولیٹری انڈیکس کا کامیاب آغاز شامل ہے، جس میں ریاستوں کو ریاستی ڈرگ ریگولیٹرز کی کارکردگی کی بنیاد پر ایک معروضی جانچ کے طریقہ کار کے ذریعے بینچ مارک کیا جائے گا۔ پروفیسر سود نے کہا کہ اس طرح کا مسابقتی بینچ مارکنگ تمام ریاستوں کو اس نظام میں شامل کرے گا اور ہندوستان میں ڈرگ ریگولیشن کے مجموعی معیار کو نمایاں طور پر بلند کرے گا۔

ڈاکٹر رگھوونشی نے سبجیکٹ ایکسپرٹ کمیٹیوں کے لیے ایک جامع رہنما فریم ورک کے اجرا کے بارے میں بتایا جو ایپلیکیشن ریویو پراسیس کے لیے رہنما اصول فراہم کرتا ہے۔ مزید یہ بھی بتایا کہ ٹریکنگ اور ترجیحی بنیاد پر فیصلہ سازی کے لیے ڈیجیٹل ڈیش بورڈز کے نفاذ سے ایپلیکیشن کے پراسیسنگ ٹائم لائن میں کمی آئی ہے۔ مثال کے طور پر، سی ٹی-04 ایپلیکیشن جو سیل اور جین تھراپی کے گلوبل کلینیکل ٹرائلز کے لیے تھیں، ان میں ایپلیکیشن جمع کرانے سے لے کر ایس ای سی کی ڈسکشن تک کا وقت 2022 میں 226 دن سے کم ہو کر 2024 میں 40 دن رہ گیا ہے۔ اسی طرح، سی جی ٹی میں بڑے پوسٹ اپروول چینجز کے منظوری عمل کو بھی تیز کیا گیا ہے، جو 2022 میں 218 دن سے کم ہو کر 2024 میں 98 دن ہو گیا ہے۔

 

 

پروفیسر سود نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کے ریگولیٹری نظام کے لیے طویل مدتی اور قابلِ پیمائش سنگِ میلوں کو واضح کرنا نہایت اہم ہے، تاکہ اسے بین الاقوامی گولڈ اسٹینڈرڈ کے مطابق بنایا جا سکے، جن میں وقتاً فوقتاً اندرونی آڈٹ اور قابلِ پیمائش اہداف شامل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جاری تبدیلی سے مریضوں کی حفاظت اور ملکی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا، ساتھ ہی ہندوستانی مینوفیکچرر کو عالمی منڈیوں میں مسابقتی برتری بھی حاصل ہوگی۔ پیش رفت کا اعتراف کرتے ہوئے پرنسپل سائنٹفک ایڈوائزر نے دہرایا کہ یہ اصلاحات ہندوستان کے ریگولیٹری فریم ورک پر اعتماد کو مزید مضبوط کریں گی، پیش بینی اور عالمی ساکھ کو بہتر بنائیں گی اور ملک کے اندر جدت کے ذریعے محفوظ اور سستی میڈیکل مصنوعات تک تیز تر رسائی کو ممکن بنائیں گی۔

اس جائزہ اجلاس میں ڈاکٹر پرویندر مائنی، سائنٹفک سیکریٹری، آفس آف پی ایس اے؛ ڈاکٹر سندورا گنپتی، پی ایس اے فیلو؛ ڈاکٹر سنگیتا اگروال، سائنسدان اور جناب اپورَو چوہان، پروجیکٹ منیجر، ون ہیلتھ پی ایم یو نے شرکت کی۔ ان کے ساتھ جناب نکھل گجراج، جوائنٹ سیکریٹری، محکمہ صحت و خاندانی فلاح و بہبود بھی شریک ہوئے۔

 

                                      **************

ش ح۔ ف ش ع

20-08-2025

                                                                                                                                       U: 5040

 


(ریلیز آئی ڈی: 2158811) وزیٹر کاؤنٹر : 30
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी