قبائیلی امور کی وزارت
قبائلی ہندوستان کو بااختیار بنانا: ‘آدی کرمایوگی ابھیان’ کے تحت تیسری علاقائی عمل لیبارٹری کا دہرادون میں آغاز
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
01 AUG 2025 8:12PM by PIB Delhi
وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی دور اندیش قیادت میں 2047 تک ترقی یافتہ ہندوستان کی طرف ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے قبائلی امور کی وزارت نے دہرادون، اتراکھنڈ میں ‘آدی کرمایوگی ابھیان’ کی تیسری علاقائی پروسیس لیبارٹری (آر پی ایل) کا آغاز کیا۔ اس اہم اقدام کا مقصد 20 لاکھ قبائلی نچلی سطح کے کارکنوں اور گاؤں کی سطح پر تبدیلی لانے والے رہنماؤں کا ایک کیڈر تیار کرنا ہے جو قبائلی علاقوں میں جامع ترقی کو آگے بڑھائیں گے اور آخری سرے خدمات کی فراہمی کو مضبوط بنائیں گے۔
ریجنٹا ہوٹل، دہرادون میں منعقدہ آر پی ایل اس قومی مشن کے آپریشنل آغاز کی علامت ہے۔ یہ اتراکھنڈ، ہماچل پردیش، جموں و کشمیر اور اتر پردیش کے ریاستی ماسٹر ٹرینرز( ایس ایم ٹیز) کے لیے صلاحیت سازی کے مرکز کے طور پر کام کرے گا۔
گراس روٹس پر گورننس کا از سر نو تصور کرنا
‘آدی کرمایوگی ابھیان’ ایک پروگرام سے بڑھ کر ہے، یہ نچلی سطح سے گورننس کا دوبارہ تصور کرنا ایک قومی مشن ہے، جس کی بنیاد ہندوستان کے قبائلی روایات واخلاقیات میں ہے اور جس کی قیادت مقامی رہنما کرتے ہیں۔ پی ایم – جن من اورڈی اے جے جی یو اے جیسے تبدیلی کے اقدامات کے ساتھ مشن کو کنورژن، کمیونٹی اور صلاحیت کے تین ستونوں پر بنایا گیا ہے۔
یہ روح اور ڈھانچے دونوں کے ساتھ حکمرانی کی علامت ہے، جہاں قبائلی نوجوانوں کی امنگوں کو ذمہ دار اداروں کے ذریعے پورا کیا جاتا ہے اور پالیسیوں کو وقار، بروقت اور مقصد کے ساتھ نافذ کیا جاتا ہے۔
جناب ویبھو نائر، سکریٹری، قبائلی امور کی وزارت نے عملی طور پر ایس ایم ٹی سے خطاب کیا اور ‘آدی کرمایوگی ابھیان’ کو ہندوستان میں قبائلی نظم و نسق کے منظر نامے کو نئے سرے سے متعین کرنے کا ایک‘‘تاریخی موقع’’ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ پہل زیادہ ذمہ دار، جامع اور نچلی سطح پر چلنے والے گورننس ماڈل کی طرف ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس کا مقصد مقامی اور سیاق و سباق سے متعلق مخصوص حل تیار کرنا ہے جو قبائلی برادریوں کی زندہ حقیقتوں سے نکلتے ہیں۔
انہوں نے قبائلی برادریوں کو درپیش کثیر جہتی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مختلف سرکاری محکموں کے درمیان تعاون کو یقینی بناتے ہوئے بین محکمہ جاتی ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا۔ قبائلی برادریوں سے ‘‘تبدیلی کے شہاب ثاقب’’ بننے کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے انہیں آخری سرے کے گورننس کے خلاء کو ختم کرنے میں کلیدی عنصر کے طور پر بیان کیا اور ان پر زور دیا کہ وہ مشن کی ذمہ داری سنبھالیں، تبدیلی کے محرک کے طور پر کام کریں اور فعال شرکت اور قیادت کے ذریعے قبائلی برادریوں کو بااختیار بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ موثر پالیسی سازی کو لوگوں کی آوازوں اور تجربات سے آگاہ کیا جانا چاہیے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ گورننس نیچے سے اوپر تک تیار ہو اور اس کے نتیجے میں گہرے اثر انگیز اور اچھی طرح سے باخبر پالیسیاں سامنے آئیں۔

ڈاکٹر سریدھر بابو اڈانکی، سکریٹری، محکمہ سماجی بہبود، حکومت اتراکھنڈ نے ابھیان کے شرکاء کا پرتپاک خیر مقدم کیا اور اسے ایک بروقت اور تبدیلی کی پہل قرار دیا جس میں ریاست میں قبائلی ترقی کو نئی شکل دینے کی صلاحیت ہے۔
انہوں نے ثقافتی طور پر جڑے ہوئے اور مقامی طور پر متعلقہ پروگراموں کو ڈیزائن کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کا نقطہ نظر اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ مداخلتیں قبائلی برادریوں کی مخصوص شناخت اور ضروریات کی عکاسی کرتی ہیں اور بامعنی اور باوقار مشغولیت کو فروغ دیتی ہیں۔
اتراکھنڈ کی مکمل حمایت کی تصدیق کرتے ہوئے ڈاکٹر اڈانکی نے اعلان کیا کہ ریاست ریاستی اور ضلعی ماسٹر ٹرینرز ( ڈی ایم ٹیز اور ایس ایم ٹیز) دونوں کے لیے جامع تربیت کے ذریعے ادارہ جاتی مدد فراہم کرے گی۔ ہم اس کوشش کی حمایت کے لیے پاپولیشن سروسز انٹرنیشنل (پی ایس آئی) کو سول سوسائٹی آرگنائزیشن ( سی ایس او) کے طور پر شامل کریں گے۔
انہوں نے اپنے پیغام کا اختتام یہ کہہ کر کیا کہ انہیں یقین ہے کہ آج یہاں جمع ہونے والے ٹرینرز حقیقی تبدیلی لانے والے بنیں گےاور ہم جامع اور پائیدار قبائلی ترقی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔

جناب پرسنا راما سوامی جی، سکریٹری، قبائلی بہبود محکمہ، جموں و کشمیر نے عوامی خدمات کو تبدیل کرنے میں ارادے، لگن اور یقین کی اہمیت کے بارے میں بات کی۔ قبائلی ترقی میں قابل ذکر پیش رفت کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ‘ آدی کرمایوگی ابھیان’ ‘‘ایک مضبوط، کیڈر پر مبنی صلاحیت سازی کے ماڈل کے ذریعے آخری سرے تک پہنچنے میں اہم خلا کو پُر کرنے میں مدد کرے گا’’۔
انہوں نے سیکھنے کے مواقع کے بارے میں پرجوش انداز میں بات کی اور کہا کہ سات روزہ رہائشی ورکشاپ نہ صرف مواد سیکھنے کا بلکہ ہمارے کام کرنے کے طریقے کو بدلنے کا زندگی بھر کا موقع ہے۔ یہ کمیونٹی پر مبنی طرز حکمرانی کے نئے کلچر کا آغاز ہے۔
لانچنگ تقریب میں قبائلی امور کی وزارت کے افسران بشمول ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (ڈی ڈی جی) محترمہ انشو سنگھ اور ڈپٹی سکریٹری ( ڈی ایس) جناب گنیش ناگ راجن نے شرکت کی جو قبائلی علاقوں میں گورننس کو مضبوط بنانے کے لیے وزارت کے مضبوط ادارہ جاتی عزائم کی عکاسی کرتے ہیں۔

آدی کرمایوگی ابھیان: ہر اسٹیک ہولڈر کے لیے ایک مشن
آدی کرمایوگی ابھیان درج ذیل کے ذریعہ جوابدہ حکمرانی کو فروغ دیتا ہے:
- نیچے تک اپروچ
- ریئل ٹائم شکایات کا ازالہ
- باہمی تعاون پر عمل درآمد
یہ کلیدی وزارتوں اور محکموں کے درمیان ہم آہنگی پر مبنی ہے، جس میں؛
- قبائلی امور
- دیہی ترقی
- خواتین اور بچوں کی ترقی
- جل شکتی
- اسکول کی تعلیم
- ماحولیات اور جنگلات
دہرادون میں آر پی ایل صلاحیت بڑھانے کے مراکز کی ایک سیریز میں تیسرا ہے۔ یہاں تربیت یافتہ ایس ایم ٹیز اپنی متعلقہ ریاستوں میں اسٹیٹ پروسیس لیبارٹریز ( ایس پی ا ایلس) قائم کریں گی، جو بدلے میں ڈسٹرکٹ ماسٹر ٹرینرز (ڈی ایم ٹیز) کو تربیت دیں گی۔ یہ پروگرام سول سوسائٹی کی تنظیموں ( سی ایس اوسیز) کو بھی ضم کرتا ہے تاکہ مشترکہ طور پر سیکھنے کی سہولت فراہم کی جا سکے اور مواد کی مقامی سیاق و سباق کو یقینی بنایا جا سکے۔

*******
ش ح- ظ ا-ش ب ن
UR No.3892
(ریلیز آئی ڈی: 2152069)
وزیٹر کاؤنٹر : 32