قومی انسانی حقوق کمیشن
بھارت کے انسانی حقوق کے قومی کمیشن نے سنکلپ فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام نیتی آیوگ، وزارت سماجی انصاف و تفویض اختیارات، اور وزارت صحت و خاندانی بہبود کے اشتراک سے منعقدہ ایک روزہ قومی کانفرنس ’’ہندوستان میں بڑھاپا: ابھرتی ہوئی حقیقتیں، ارتقائی ردعمل‘‘ کی حمایت کی
این ایچ آر سی کے چیئرمین جسٹس جناب وی۔ راماسبرامنیم نے بزرگ شہریوں کی عزت، تحفظ اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے قدیم ہندوستانی ثقافتی اصولوں کو جدید پالیسی فریم ورک میں ضم کرنے کی ضرورت پر زور دیا جو انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے این ایچ آر سی کے عزم کے عین مطابق ہے
عمر رسیدگی کو ایک قومی اثاثہ قرار دیتے ہوئے این ایچ آر سی کے سیکریٹری جنرل جناب بھارت لال نے بھارت کے ثقافتی تناظر کے مطابق اسکینڈِنیوین اور جاپانی ماڈلز کو ملکی پالیسی میں شامل کرنے کی وکالت کی
’’ہندوستان میں بڑھاپا: چیلنجز اور مواقع‘‘ کے عنوان سے ایک رپورٹ اس کانفرنس میں جاری کی گئی جو بزرگوں کی جامع اور پائیدار دیکھ بھال پر مبنی ہے اور متعدد ممتاز ماہرین نے اس موقع پر خطاب کیا
प्रविष्टि तिथि:
02 AUG 2025 2:22PM by PIB Delhi
بھارت کے حقوق انسانی کے قومی کمیشن (این ایچ آر سی) نے نیتی آیوگ، وزارت سماجی انصاف و تفویض اختیارات اور وزارت صحت و خاندانی بہبود کے اشتراک سے سنکلپ فاؤنڈیشن کی معاونت سے یکم اگست 2025 کو نئی دہلی میں ایک روزہ قومی کانفرنس ’’ہندوستان میں بڑھاپا: ابھرتی ہوئی حقیقتیں، ارتقائی ردعمل‘‘ کا انعقاد کیا۔
اس کانفرنس کا مرکزی موضوع بزرگ شہریوں کے انسانی حقوق اور ان کی عزت نفس کے تحفظ کے ساتھ ساتھ بڑھاپے کو ایک موقع کے طور پر از سر نو متعین کرنا تھا۔ اس کا مقصد نئی اور اختراعی پالیسیوں کو فروغ دینا، متعلقہ فریقین کے مابین مکالمے کی حوصلہ افزائی کرنا اور بھارت کی عمر رسیدہ آبادی کے بدلتے ہوئے چیلنجز اور مواقع کے تناظر میں قابل توسیع بہترین عملی مثالوں کو اجاگر کرنا تھا۔
اپنے افتتاحی خطاب میں نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن (این ایچ آر سی) کے چیئرمین جسٹس جناب وی۔ راماسبرامنیم نے کہا کہ ہندوستان ایک عظیم ثقافتی روایت کا حامل ہے جو بزرگوں کی دیکھ بھال اور ان کے احترام کو معاشرتی اقدار کا بنیادی حصہ تصور کرتی ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے سنگم لٹریچر اور یجر وید سے بھی حوالے دیے۔
انہوں نے ان قدیم اقدار اور اصولوں کو جدید پالیسی فریم ورک میں ضم کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ بزرگ شہریوں کی عزت، تحفظ اور فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جا سکے جو انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے این ایچ آر سی کے مینڈیٹ کے عین مطابق ہے۔ بزرگوں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق کمیشن کی وابستگی کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے اس کے مختلف اقدامات جیسے مشاورتی ہدایات، کور گروپ میٹنگز، تحقیقی مطالعات اور ازخود نوٹس کے معاملات کو نمایاں کیا۔
اپنے خصوصی خطاب میں نیتی آیوگ کے رکن (صحت، تغذیہ اور تعلیم) ڈاکٹر ونود کے۔ پال نے عمر رسیدہ آبادی کے لیے صحت کی دیکھ بھال اور سماجی تحفظ کے فریم ورک کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ خاندانوں کو اس قابل بنانا کہ وہ اپنے بزرگوں کی بہتر دیکھ بھال کر سکیں، بھارت کے نقطۂ نظر کی بنیاد ہونی چاہیے۔
اس سے قبل، اپنے کلیدی خطاب میں نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن (این ایچ آر سی) کے سکریٹری جنرل جناب بھارت لال نے کانفرنس کا ایجنڈا پیش کرتے ہوئے کہا کہ 2050 تک بھارت میں تقریباً 35 کروڑ بزرگ شہری ہوں گے، یعنی ہر پانچ میں سے ایک فرد معمر ہوگا، جو پالیسی کے اعتبار سے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خاندانی اقدار پر مبنی نگہداشت کے ایسے ماڈلز تیار کیے جائیں جو خاندان اور کمیونٹی کی سطح پر کارآمد ہوں اور جنہیں عالمی بہترین طریقوں سے تقویت دی جائے۔
انہوں نے 2024 میں جاری کردہ این ایچ آر سی کی ’’بیواؤں کے حقوق‘‘ سے متعلق ایڈوائزری کا حوالہ دیا، جس میں ریاستی حکام پر زور دیا گیا تھا کہ وہ نادار اور عمر رسیدہ بیواؤں کو پنشن، رہائش اور صحت کی سہولیات تک رسائی یقینی بنائیں۔
انہوں نے این ایچ آر سی کی ایک اور ایڈوائزری کا بھی ذکر کیا جو ’’کووڈ-19 عالمی وبا کے دوران بزرگ افراد کے تحفظ‘‘ سے متعلق تھی، جس میں ویکسین کی مساوی دستیابی، گھر پر دیکھ بھال، ذہنی صحت کی معاونت اور لاک ڈاؤن کے دوران نظراندازی یا ترک کیے جانے سے بچاؤ پر زور دیا گیا تھا۔
بزرگ افراد کو علم، تجربے اور دانش کے حامل مرد و خواتین قرار دیتے ہوئے جناب بھارت لال نے بزرگوں کی نگہداشت کے لیے کمیونٹی پر مبنی خدمات اور بین النسلی روابط کو فروغ دینے پر زور دیا، جیسا کہ اسکینِڈنیوین ممالک اور جاپان کے ماڈلز میں دیکھا گیا ہے لیکن ان ماڈلز کو بھارتی ثقافتی تناظر کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے متعلقہ فریقین سے اپیل کی کہ وہ افتتاحی اجلاس میں جاری کی گئی رپورٹ ’’ہندوستان میں بڑھاپا: چیلنجز اور مواقع‘‘ کا مطالعہ کریں تاکہ صحت کی نگہداشت کو جامع اور کمیونٹی کی قیادت میں فروغ دیا جا سکے اور بزرگوں کو قوم کی تعمیر میں مؤثر اور مسلسل کردار ادا کرنے کے قابل بنایا جا سکے۔
ابتداء میں جناب دیویندر کمار نم، ڈائریکٹر، سنکلا فاؤنڈیشن نے کانفرنس کے مقاصد بیان کیے۔ یہ کانفرنس چار موضوعاتی اجلاسوں پر مشتمل تھی جنہیں ممتاز ماہرین نے خطاب کیا۔ ان میں شامل تھے:‘بزرگوں کی فلاح و بہبود کو مضبوط بنانا: پالیسی اور عملی اقدامات’ جس کی صدارت جناب امیت یادو، سکریٹری، وزارتِ سماجی انصاف و فلاح نے کی؛’بزرگوں کی صحت اور ذہنی بہبود‘ جس پر محترمہ پریتی سودن، سابق چیئرپرسن، یو پی ایس سی اور سابق سکریٹری، وزارت صحت و خاندانی بہبود نے اظہارِ خیال کیا؛’عمر رسیدگی کو ترقی و خوشحالی کے لیے بروئے کار لانا‘ جس پر جناب امیتابھ کنٹ، سابق جی-20 شیرپا، بھارت اور سابق سی ای او، نیتی آیوگ نے گفتگو کی؛اور ’مستقبل کی تشکیل: عمر رسیدہ معاشرے کے لیے تیاری‘ جس پر ڈاکٹر ونود کے. پال، رکن (صحت، تغذیہ اور تعلیم)، نیتی آیوگ نے خطاب کیا۔
دیگر ممتاز مقررین میں ڈاکٹر کرن بیدی، سابق لیفٹیننٹ گورنر پڈوچیری؛ جناب امرجیت سنہا، سابق سکریٹری، دیہی ترقیات کا محکمہ اور سابق مشیر، دفتر وزیر اعظم؛ جناب وی۔ سرینیواس، سکریٹری، محکمہ پنشن اور فلاحِ پنشنرز؛ جناب منوج یادو، سابق ڈی جی پی، ہریانہ اور ڈی جی، ریلوے پروٹیکشن فورس، نیز سابق ڈی جی (تفتیش)، قومی انسانی حقوق کمیشن؛ معزز سفیر لم سانگ وو، ناظم الامور، جمہوریہ کوریا کے سفارتخانے، نئی دہلی؛ جناب وجے نہرا، جوائنٹ سکریٹری، وزارتِ صحت و خاندانی بہبود؛ محترمہ پریتی ناتھ، اکنامک ایڈوائزر، وزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی (ایم ای آئی ٹی وائی)؛ ڈاکٹر سنجے ودھوا، پروفیسر و سربراہ، شعبہ فزیکل میڈیسن و بازآبادکاری، ایمس، نئی دہلی؛ جناب میتھیو چیرین، گلوبل ایمبیسیڈر فار ایجنگ، ہیلپ ایج انٹرنیشنل؛ ڈاکٹر منوہر اگنانی، سابق ایڈیشنل سکریٹری، وزارت صحت و خاندانی بہبود اور پروفیسر آف پبلک ہیلتھ، عظیم پریم جی یونیورسٹی، بھوپال؛ پروفیسر ٹی وی شیکھر، انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار پاپولیشن سائنسز، ممبئی؛ سمت پویترہ ریڈی، چیف آپریٹنگ آفیسر، ویاہ وکاس، بنگلورو؛ جناب جے دیپ بسواس، چیف آف پالیسی، ایڈوکیسی اینڈ پارٹنرشپس، یو این ایف پی اے انڈیا؛ جناب اشیش گپتا، بانی و منیجنگ ڈائریکٹر، سمرتھ ایلڈر کیئر؛ جناب یدھشٹھیر گووند داس، ڈائریکٹر آف کمیونیکیشن، آئی ایس کے سی او این انڈیا اور دیگر معزز شخصیات شامل تھے۔
شرکاء میں سینئر سرکاری عہدیداران، ماہرینِ تعلیم، تحقیقاتی ادارے، اسٹارٹ اَپس، ٹیکنالوجی اور صحت کی دیکھ بھال سے وابستہ کمپنیاں، سول سوسائٹی کے نمائندے، بزرگوں کی نگہداشت اور معاون علاج کے ادارے، اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے۔
غور و خوض کے کچھ اہم نتائج درج ذیل تھے:
- بہتر غذائیت اور معیاری طبی سہولیات کی بدولت متوقع عمر میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں بزرگوں کی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ صورتحال ایک ترقی پذیر ملک جیسے بھارت کے لیے چیلنجز کے ساتھ ساتھ مواقع بھی پیدا کرتی ہے، خاص طور پر ’’غربت کے ساتھ عمر رسیدگی‘‘کے پس منظر میں۔
- عمر رسیدگی کو باوقار اور قابلِ رشک بنانے کی ضرورت ہے، جس کے لیے ابتدائی تیاری، متحرک اور کارآمد عمر رسیدگی، طرزِ زندگی پر مبنی طریقہ اپنانا اور جوانی سے ہی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔
- تکنیکی ترقی نے محنت طلب کاموں میں کمی کی ہے، تاہم علم، مہارت اور دانائی کے استعمال سے کارکردگی اور پیداواریت میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ 60 سال سے زائد عمر کے افراد کو بامقصد کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
- بزرگوں کو مزید مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ معاشرے میں بامعنی کردار ادا کرتے رہیں۔
- ریاستوں کے درمیان بزرگوں کی نگہداشت بہتر بنانے کے لیے مسابقتی ماحول قائم کرنے کی ضرورت ہے، ساتھ ہی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کو فروغ دینا ہوگا تاکہ مقامی خود حکومتی ادارے زیادہ ذمہ داریاں سنبھال سکیں۔
- بزرگوں کی نگہداشت کے لیے کیرالہ کے معاون علاج جیسے ماڈل پروگرام کو اپنایا جا سکتا ہے۔
- مالی تحفظ، ڈیجیٹل خواندگی، طویل مدتی نگہداشت کا بیمہ، ڈیجیٹل ہیلتھ کیئر، معاون آلات اور مشغولیت کے پلیٹ فارمز کو فروغ دینا ’’سلور اکانومی‘‘ میں بزرگوں کو شامل کرنے کے لیے ضروری ہے۔
- بھارت میں بزرگوں کی نگہداشت اور معاونت کے ماڈل میں خاندان اور کمیونٹی پر مبنی اقدامات کو مرکزی حیثیت دی جانی چاہیے۔
کانفرنس نے تمام فریقین بشمول سرکاری اداروں، سول سوسائٹی تنظیموں اور عوام سے اپیل کی کہ وہ بزرگ آبادی کے وقار اور حقوق کے تحفظ کے لیے کی جانے والی کوششوں میں بھرپور طور پر شریک ہوں تاکہ ایک منصفانہ اور مساوی معاشرے کے قیام میں مؤثر کردار ادا کیا جا سکے۔
******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-3855
(रिलीज़ आईडी: 2151736)
आगंतुक पटल : 21