سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ہندوستان کے جی ڈی پی کو بڑھانے کے لیے زرعی ٹیکنالوجی کو تیزی سے اپنانے پر زور دیا


پل بنائیں، سائلو نہیں: وزیر نے زرعی تحقیق میں ہموار تعاون پر زور دیا

بھدرواہ میں لیوینڈر سے لے کر جنوری میں ٹیولپس تک: ہندوستان کی نئی نسل کاشتکاری جڑ پکڑ چکی ہے

Posted On: 07 JUL 2025 5:28PM by PIB Delhi

سائنس اور ٹیکنالوجی ، ارضیاتی علوم کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور پی ایم او ، ایٹمی توانائی ، خلا ، عملہ ، عوامی شکایات اور پنشن کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج دارالحکومت میں این اے ایس سی کمپلیکس میں آئی سی اے آر سوسائٹی کی 96 ویں سالانہ جنرل میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے جدید ترین ٹیکنالوجی کو اپنانے اورمتعلقہ فریقوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ ہم آہنگی کو فروغ دے کر زراعت کے شعبے میں ایک مثالی تبدیلی لانے پر زور دیا ۔

مرکزی وزیر زراعت جناب شیوراج سنگھ چوہان کی صدارت میں منعقدہ ہ اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی سطح پر دستیاب ہر ٹیکنالوجی اب ہندوستان کے اندر قابل رسائی ہے ۔  انہوں نے کہا کہ ‘‘یہ اب اس بارے میں نہیں ہے کہ ٹیکنالوجی دستیاب ہے یا نہیں، بلکہ یہ اس بارے میں ہے کہ ہم اسے کتنی تیزی سے اپناتے ہیں اور اسے اپنی معیشت میں قدر بڑھانے کے لیے اپنے زرعی ماحولیاتی نظام میں ضم کرتے ہیں۔’’

7.jpg

وزیر موصوف نے ذہنی اور ادارہ جاتی خامیوں کو  دور کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ زرعی ویلیو چین میں بہت سے لوگ نہ صرف نئی ٹیکنالوجی سے بے خبر ہیں بلکہ اس بات سے بھی بے خبر ہیں کہ وہ بے خبر ہیں ۔’’گزشتہ 11برسوں میں وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں زرعی شعبےمیں ٹیکنالوجی نے تیزی سے ترقی کی ہے  اور یہاں کے کسان زراعت میں ٹکنالوجی کا سہارا لے رہے ہیں ،لیکن اس کے با وجود اس کی مکمل صلاحیت زمینی سطح پر غیر استعمال شدہ ہے ۔’’

جموں و کشمیر میں لیوینڈر انقلاب جیسی کامیاب کہانیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، جہاں لیوینڈر کی کاشت کے ارد گرد 3,500 سے زائد اسٹارٹ اپس ابھرے ہیں، ڈاکٹر سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ کس طرح جدید دور کی کاشتکاری،سیٹلائٹ امیجنگ، ریموٹ کنٹرول ٹریکٹرز، اور آرڈر پر مبنی فصل کی پیداوار کے ذریعےزرعی کہانی کو نیا رُخ دے رہی ہے۔انہوں نے کہا ‘‘بھدرواہ میں لیوینڈر سے لے کر مندروں میں چڑھاوے کے لیے اگائے جانے والے آف سیزن ٹیولِپ تک، ہمارے پاس ایسے مثالیں موجود ہیں جہاں سائنس اور حکمتِ عملی نے مل کر آمدنی اور جدت دونوں کو فروغ دیا ہے۔’’

8.jpg

انہوں نے یہ بھی اجاگر کیا کہ بایو ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی جیسے کہ محکمہ بایو ٹیکنالوجی کی جانب سے تیار کردہ کیڑوں سے محفوظ کپاس، اور محکمہ جوہری توانائی کی ریڈی ایشن پر مبنی خوراک کو محفوظ رکھنے کی تکنیک  اب فصلوں کی پیداوار، ذخیرہ اندوزی، اور برآمدات کے طریقے بدل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ‘‘آج ہماری آم کی فصل ان ٹیکنالوجیز کی بدولت امریکہ تک پہنچ رہی ہے۔ لیکن اس کے باوجود کئی ریاستیں ابھی تک ان ٹیکنالوجیز سے بھرپور فائدہ اٹھانے سے قاصر نظر آ رہی ہیں ۔’’

ریاستی وزرائے زراعت اور ادارہ جاتی شراکت داروں سے ایک مخلصانہ اپیل کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے وزارتوں کے درمیان زیادہ کثرت سے اور غیر رسمی سطح پر بات چیت کی تجویز دی تاکہ جدید اختراعات کا بروقت تبادلہ ممکن ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ  ‘‘ہمیں صرف سالانہ اجلاسوں کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ آئیں ورکنگ گروپس بنائیں اور جب بھی حل میسر ہوں اُنہیں فوری اور عملی طور پر بانٹیں۔’’

9.jpg

ساحلی ریاستوں میں میرین ایگریکلچر (سمندری زراعت) کے اقدام اور منی پور میں آم یا آندھرا پردیش میں سیب کی کاشت کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر موصوف نے ان منصوبوں کو ‘‘غیر روایتی لیکن انتہائی قابلِ عمل’’ قرار دیا، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت کا زرعی نقشہ اب سائنس کے ذریعے دوبارہ ترتیب دیا جا رہا ہے۔

اس اجلاس میں مرکزی اور ریاستی وزراء، سائنس دان، آئی سی اے آر اور متعلقہ وزارتوں کے اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔ اس موقع پرآئی سی اے آر کی اہم مطبوعات اور سالانہ رپورٹوں اور مالیات پر پریزنٹیشنز کا اجراء بھی دیکھا گیا۔

وزیر موصوف نے کہا کہ ‘‘ہمارا سب سے بڑا چیلنج ٹیکنالوجی کی کمی نہیں ہے، بلکہ اُن لوگوں کے درمیان رابطے کی کمی ہے جو ٹیکنالوجی تیار کرتے ہیں اور جو اسے استعمال کرنے کے محتاج ہیں۔ اب ہمیں یہی پُل تعمیر کرنا ہوگا۔’’

اجلاس کا اختتام شکریہ کی تحریک اور اس عزم کے ساتھ ہوا کہ بھارت کی سائنسی صلاحیت کو زرعی پائیداری اور معاشی ترقی کے لیے مکمل طور پر بروئے کار لایا جائے گا۔

 

******

 

 

ش ح۔م ح ۔ن ع

U-NO. 2528

 


(Release ID: 2142960) Visitor Counter : 2
Read this release in: English , Hindi , Marathi