بھارت کا مسابقتی کمیشن
azadi ka amrit mahotsav

مسابقتی کمیشن آف انڈیا نے فیڈریشن آف پبلشرز اینڈ بک سیلرز ایسوسی ایشن ان انڈیا (‘ایف پی بی اے آئی’) اور اس کے عہدیداروں کو مسابقتی -  مخالف طرز عمل کے لئے دوبارہ جرمانہ کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 01 JUL 2025 6:15PM by PIB Delhi

مسابقتی کمیشن آف انڈیا (‘سی سی آئی’) نے فیڈریشن آف پبلشرز اینڈ بک سیلرز ایسوسی ایشن ان انڈیا (‘ ایف پی بی اے آئی’) اور اس کے تین عہدیداروں کے خلاف مسابقتی مخالف  سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر حتمی حکم جاری کیا ہے۔

(i) اس کے ممبر بک سیلرز/پبلشرز کے ذریعہ بین الاقوامی جرائد اور کتابوں کی درآمد ات کے لیے معمول کے بینک/آر بی آئی کی شرح سے زیادہ تبادلوں کی شرحوں کا تعین جو صنعت میں تمام بک سیلرز/پبلشرز کا بڑا حصہ ہے،

(ii) قیمت، کریڈٹ مدت، سود کی شرح وغیرہ کے حوالہ سے شرائط و ضوابط کا تعین کرنا جن کی پیروی اس کے ممبر بک سیلرز/پبلشرز کو لائبریریوں، اسکولوں اور دیگر صارفین کو کتابیں، جرائد اور ای وسائل فراہم کرتے وقت کرنی چاہیے، اور

(iii) اس کے سرکلر کے ساتھ جرائد کے منظور شدہ سپلائرز/سبسکرپشن ایجنٹس کی فہرست جاری کرنا، اس کے پہلے سے موجود مشورے/لائبریریوں اور دیگر اداروں کو صرف اس کے منظور شدہ دکانداروں سے کتابیں خریدنے کی اپیلوں کو آگے بڑھانا۔

ایف پی بی اے آئی کی طرف سے کئے جانے والے اس طرح کے طرز عمل -  ایکٹ کے سیکشن 3 (1) کے ساتھ  دیئے گئے سیکشن 3 (3) ( الف) اور 3 (3) ( ب) کی دفعات کے خلاف پائے گئے۔

ایف پی بی اے آئی کی جانب سے ڈسکاؤنٹ کنٹرول اور  الزامات کے حوالے سے سی سی آئی کی جانب سے پہلے کیس میں اس  طرح کے طرز عمل  پر روک لگانے اور روکنے کا حکم منظور کرنے کے باوجود جہاں جرمانے بھی عائد کیے گئے تھے، سی سی آئی نے پایا کہ اگرچہ ایف پی بی اے آئی کے ممبران کی جانب سے پیش کیے جانے والے ڈسکاؤنٹس کا ذکر کرنے والے کوئی نئے سرکلر کا پتہ نہیں چل سکا، تاہم اس سلسلے میں تیسری  ویب سائٹ پر دستیاب سرکلرز کو بھی ہٹایا نہیں گیا تھا۔  اس طرح، سی سی آئی نے ایف پی بی اے آئی کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے پہلے آرڈر میں کمیشن کے خلاف مسابقتی- مخالف طور پر کیے گئے طرز عمل کے بارے میں آگاہی پھیلانے کے ساتھ ساتھ اس کے اراکین کے درمیان موجودہ آرڈر میں بھی موجود ہے۔

ایف پی بی آئی کی جانب سے چھوٹ کنٹرول کے الزامات  کے سلسلہ میں جبکہ سی سی آئی نے پہلے کے ایک معاملہ میں روک لگانے اور روکنے کے احکامات جاری کئے تھے ، جس میں  جرمانہ بھی لگایا گیا تھا  سی سی آئی نے پایا کہ تفتیش کے دوران ایف پی بی اے آئی کے ممبران کی جانب سے دی جاسکنے والی رعایت کا ذکر کرنے والے کوئی نئے پروفارما سامنے نہیں آئے ، تیسرے فریق کی ویب سائٹوں پر اس سلسلہ میں پہلے کے پروفارموں کو بھی ایف پی بی اے آئی واپس نہیں لیا /ہٹاگیا تھا۔ اس طرح سی سی آئی نے ایف پی بی آئی اے کو کمیشن کی جانب سے گزشتہ احکامات میں مسابقتی مخالف مانے جانے والے رویہ کے بارے میں بیداری پھیلانے حکم دیا  تھا اور ساتھ ہی حالیہ احکامات میں  بھی اپنے اراکین کے درمیان بیداری پھیلانے کا حکم دیا ہے۔

اس کے مطابق، ایف پی بی اے آئی اور اس کے تین عہدیداروں پر (ہندوستانی روپے میں)  6.33 لاکھ کے جرمانے عائد کیے گئے۔

اس کے ساتھ ہی ، یہ دیکھتے ہوئے کہ سی سی آئی نے پہلے ہی ایف پی بی آئی اے پر مسابقتی- مخالف  کارروائیوں  پر روک لگادی تھی ، جس میں رعایت کو کنٹرول کرنا اور اپنے ممبران کو ان ٹینڈرز میں شرکت کرنے سے روکنے کے لئے اپیل/ مشورے جاری کرنا شامل تھا  جن کی شرائط ایف پی بی آئی اے کے مطابق نہیں تھیں ، لیکن اس کے باوجود بھی اسی طرح کے ایشوز پھر سے ابھررہے ہیں ۔ سی سی آئی نے ایف پی بی آئی اے کو اپنے ممبران کے درمیان  مسابقتی قانون کے بارے میں بیداری پھیلانے اور اپنے سبھی پہلے کے مسابقتی- مخالف پروفارمااور مشورے/ اپیل کو واپس لینے کے سلسلہ میں کچھ اور ہدایات جارے کئے۔

****

 ش ح –  ظ ا م ذ

UR No. 2347


(ریلیز آئی ڈی: 2141337) وزیٹر کاؤنٹر : 32
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी