پوسٹ کرنے کی تاریخ:
01 JUN 2025 6:20PM by PIB Delhi
یونین وزیر ڈاکٹر جتندر سنگھ نے جموں کے بھدرواہ میں آج سی ایس آئی آر-آئی آئی آئی ایم جموں کے زیر اہتمام منعقدہ دو روزہ لیوینڈر فیسٹیول 2025 کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ ‘‘لیوینڈر نے جموں و کشمیر کے چھوٹے سے قصبے بھدرواہ کو نہ صرف ایک قومی شناخت دی ہے بلکہ بھارت کی اقتصادی ترقی میں ایک قومی کردار بھی عطا کیا ہے۔’’
ڈاکٹر جتندر سنگھ، جو کہ سائنس و ٹیکنالوجی، ارضیاتی علوم، وزیر اعظم کے دفتر، جوہری توانائی، خلائی امور، اور عملہ، عوامی شکایات و پنشن کے ریاستی وزیر (آزادانہ چارج) ہیں، نے لیوینڈر کی کاشت کے زرعی اسٹارٹ اپ ماڈل کو ایک انقلابی قوت قرار دیا، جس نے دور دراز اور پہاڑی علاقوں میں کاروبار کی روایت کو بدل کر رکھ دیا ہے۔
ڈاکٹر سنگھ نے کہا، کہ ‘‘بھدرواہ، جو کبھی ایک پُرسکون پہاڑی قصبہ تھا، اب بھارت کے دیہی اسٹارٹ اپ انقلاب کا علمبردار بن چکا ہے۔ لیوینڈر نے ان پہاڑوں میں صرف خوشبو ہی نہیں، بلکہ شناخت، آمدنی اور حوصلہ بھی شامل کر دیا ہے۔’’

ڈاکٹر جتندر سنگھ نے کہاکہ ‘‘اس ایک مشن نے کئی چیلنجز کا حل پیش کیا ہے۔ اس نے یہ غلط فہمی دور کر دی کہ اسٹارٹ اپس صرف آئی ٹی کے شعبے تک محدود ہیں یا ان کے لیے غیر ملکی ڈگریاں ضروری ہیں۔ ہمارے جموں و کشمیر کے نوجوانوں نے، سی ایس آئی آر-آئی آئی آئی ایم کے تعاون سے، یہ ثابت کر دیا ہے کہ جذبہ، مستقل مزاجی اور سیکھنے کا عمل دونوں مل کر زرعی شعبے میں پائیدار کاروبار قائم کر سکتے ہیں۔’’
انہوں نے فخر کے ساتھ بتایا کہ بھدرواہ کے نوجوان کاروباری افراد لیونڈر کی کاشت اور اس سے تیار کردہ مصنوعات کے ذریعے سالانہ اوسطاً 65 لاکھ روپے کما رہے ہیں، جس سے کئی لوگ روایتی ملازمتیں چھوڑ کر زراعت کو ایک منافع بخش کاروبار کے طور پر اختیار کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر جتندر سنگھ نے وزیراعظم نریندر مودی کو بھدرواہ اور پرپل ریولوشن کو قومی سطح پر روشناس کرانے کا کریڈٹ دیا۔ انہوں نے کہاکہ‘‘جب وزیراعظم نے ‘من کی بات’ میں تقریباً دس منٹ تک اس لیونڈر مشن پر تفصیل سے بات کی، تو اس نے بھدرواہ کو دنیا بھر میں وہ تعارف دیا جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔’’
وزیر موصوف نے اس بات پر زور دیا کہ یہ وزیراعظم مودی کا ‘اسٹارٹ اپ انڈیا’ اور‘اسٹینڈ اپ انڈیا’ کا وژن تھا، جس کا اعلان انہوں نے لال قلعہ کی فصیل سے کیا تھا، جس نے ان علاقوں میں کاروباری جذبہ پیدا کیا جو کبھی ترقیاتی نقشے پر اپنی موجودگی ثابت کرنے کے لیے طویل وضاحتوں کے محتاج ہوتے تھے۔

ڈاکٹر جتندر سنگھ نے انکشاف کیا کہ اس وقت بھدرواہ میں 50 کشیدگی (ڈسٹلیشن) یونٹس کام کر رہے ہیں، اور لیونڈر سے تیار کردہ مصنوعات مہاراشٹرا اور دیگر ریاستوں کی منڈیوں میں فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس ماڈل نے نہ صرف ہمسایہ ریاستوں جیسے ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ کی توجہ حاصل کی ہے، بلکہ شمال مشرقی ریاستوں کے نمائندے بھی اس فیسٹول میں شریک ہوئے تاکہ براہِ راست مشاہدہ کرنے اور سیکھنے کا موقع حاصل کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ ‘‘یہ ایک نیا منظرنامہ ہے جسے دنیا دیکھ رہی ہے — ایک دیہی، زرعی بنیاد پر مبنی اسٹارٹ اپ انقلاب، جو نہ صرف قابلِ توسیع ہے بلکہ پائیدار بھی ہے۔’’ ڈاکٹر جتندر سنگھ نے ایک اور عام غلط فہمی کی بھی نشاندہی کی، کہ اسٹارٹ اپس صرف نوجوانوں کے لیے ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فیسٹول کے اگلے ایڈیشن میں 60 سال یا اس سے زائد عمر کے کاروباری افراد کی ایک خصوصی نمائش پیش کی جائے گی، تاکہ اس تصور کو بھی چیلنج کیا جا سکے۔
معاشی تناظر میں بات کرتے ہوئے، ڈاکٹر جتندر سنگھ نے کہاکہ‘‘بھارت پانچویں بڑی معیشت سے چوتھی بڑی معیشت بن چکا ہے، اور لیونڈر کی کاشت جیسے شعبے ہمارے عروج میں مزید اضافہ کریں گے۔ یہ غیر دریافت شدہ علاقے اگر بااختیار بنائے جائیں تو ویلیو ایڈیشن اور روزگار کے مضبوط ستون بن سکتے ہیں۔’’
انہوں نے بھارت کی معاشی مضبوطی پر شکوک کا اظہار کرنے والوں کو بھی جواب دیا۔انہوں نے کہاکہ ‘‘مشکل حالات میں ‘سندور’ جیسی کارروائیوں کے درمیان، بھارت کی معیشت نہ صرف مستحکم رہی ہے بلکہ اس میں ترقی بھی ہوئی ہے۔ یہی شکوک و شبہات رکھنے والوں کے لیے بہترین جواب ہے۔’’

اپنے خطاب کے اختتام پر ڈاکٹر جتندر سنگھ نے ڈاکٹر زبیر اور سی ایس آئی آر-آئی آئی آئی ایم کی ٹیم کو بھدرواہ میں ایک بے مثال اور تاریخی پروگرام کے انعقاد پر سراہا، جس نےملک بھر سےمندوبین کو اپنی طرف متوجہ کیا۔انہوں نے سب کو دعوت دی کہ اگلے 10 سے 15 دنوں کے دوران جب لیونڈر پوری طرح کھل رہا ہو، بھدرواہ کے ان خوبصورت کھیتوں کا دورہ کریں اور خود ان کاروباری افرادسے ملیں جنہوں نے اس انقلاب کو ممکن بنایا ہے۔
************
UN-1348
(ش ح۔ ع و۔ف ر)