بجلی کی وزارت
بجلی اور نئی و قابل تجدید توانائی کے مرکزی وزیر مملکت جناب شری پد یسو نائک نے ملک میں تقسیم کار کمپنیوں کی پائیداری سے متعلق مسائل کے حل کے لیے تشکیل شدہ وزارتی گروپ کے تیسرے اجلاس کی صدارت کی
مہنگائی سے ہم آہنگ اور لاگت کی عکاسی کرنے والے بجلی کے نرخ وقت کی ضرورت ہیں
بجلی کے شعبے کی مالی پائیداری کے لیے مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل اختراعات کا استعمال ناگزیر ہے
نیٹ میٹرنگ اور قابل تجدید توانائی کی ذمہ داری سے متعلق ضوابط کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے
سالانہ ریونیو کی ضروریات میں محتاط آپریشن اور مینٹیننس اخراجات اور مناسب منافع کی اجازت دی جانی چاہیے
Posted On:
30 MAR 2025 11:17AM by PIB Delhi
بجلی اور نئی و قابل تجدید توانائی کے مرکزی وزیر مملکت جناب شری پد یسو نائک نے آج لکھنؤ میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی پائیداری سے متعلق مسائل کے حل کے لیے تشکیل شدہ وزارتی گروپ کے تیسرے اجلاس کی صدارت کی۔
اجلاس میں اتر پردیش کے وزیر توانائی جناب اے. کے. شرما، آندھرا پردیش کے وزیر توانائی جناب گوٹی پتی روی کمار، مدھیہ پردیش کے وزیر توانائی جناب پردیومن سنگھ تومر، مہاراشٹر کی وزیر مملکت برائے توانائی محترمہ میگھنا ساکورے بورڈیکر، اور اتر پردیش کے وزیر مملکت برائے توانائی جناب سومنڈرا تومر نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے سینئر افسران، رکن ریاستوں کے پاور یوٹیلیٹیز ، پاور فنانس کارپوریشن (پی ایف سی) لمیٹڈ اور آر ای سی لمیٹڈ کے نمائندے بھی موجود تھے۔
اپنے افتتاحی خطاب میں مرکزی وزیر مملکت نے رکن ریاستوں کے وزرائے توانائی کا خیرمقدم کیا اور اتر پردیش کے وزیر توانائی کا اجلاس کی میزبانی پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے وزیروں کے گروپ کی پہلی دو میٹنگوں میں ہونے والی گفتگو اور بجلی کی تقسیم کے شعبے میں بہتری کے لیے رکن ریاستوں کی اجتماعی کوششوں پر زور دیا۔ انہوں نے تقسیم کار کمپنیوں کے مالیاتی خسارے کے ازالے، سودکے بوجھ میں کمی، توانائی ذخیرہ کرنے کے حل کی ترقی، اور زراعت کے لیے دن کے وقت بجلی کی فراہمی کو ممکن بنانے جیسے نکات پر روشنی ڈالی تاکہ بجلی خریدنے کی مجموعی لاگت اور سبسڈی کے بوجھ میں کمی لائی جا سکے۔
عزت مآب وزیر نے بجلی کے شعبے کی مالیاتی پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈیجیٹل اختراعات کے نفاذ اور لاگت کی عکاسی کرنے والے نرخوں کے نفاذ کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کے نفاذ سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی مالیاتی استحکام میں بہتری آئے گی۔ انہوں نے یو ڈی اے وائی جیسی ایک نئی اسکیم کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
اپنے خطاب میں اتر پردیش کے وزیر توانائی نے وزیروں کے گروپ کی تیسری میٹنگ لکھنؤ میں منعقد کرانے پر مرکزی وزیر مملکت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اتر پردیش کے توانائی کے شعبے میں حاصل کردہ کامیابیوں، بشمول قابل تجدید توانائی (آر ای) ٹیکنالوجیز کے اپنانے، پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہند کے اقدامات ملک کے تقسیم کار شعبے کو مضبوط اور مستحکم بنانے میں دور رس اثرات مرتب کریں گے۔ انہوں نے توانائی کی منتقلی اور بڑھتی ہوئی بجلی کی طلب کے مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قابل تجدید توانائی کے ذرائع اور توانائی ذخیرہ کرنے کے حل کی تیز تر ترقی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ معزز وزیر نے بہتر نتائج حاصل کرنے کے لیے انسانی وسائل کی ترقی میں حکومت ہند کے کردار کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
جوائنٹ سیکریٹری (ڈسٹری بیوشن)، وزارتِ توانائی، حکومتِ ہند نے ایک پریزنٹیشن پیش کی، جس میں گروپ آف منسٹرز (جی او ایم) کی پہلی دو میٹنگوں میں شناخت کیے گئے کلیدی مداخلتی نکات کو اجاگر کیا گیا۔ اس میں متعلقہ فریقین(مرکزی حکومت، ریاستی حکومتیں، اور ریگولیٹری کمیشنز) کے لیے قابل عمل تجاویز پیش کی گئیں تاکہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکامس) کی پائیداری کے مسائل پر غور و خوض کیا جا سکے۔
ٹاٹا پاور ڈسٹری بیوشن، اوڈیشہ نے خصوصی مہمان کے طور پر اپنے بہترین طریقہ کار اور اپنی تقسیم کار کمپنیوں کو منافع بخش بنانے کے سفر کو شیئر کیا۔
رکن ریاستوں نے اجلاس میں بھرپور شرکت کی اور اپنے اپنے ریاستی ڈسکامس کا جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے تقسیم کار کمپنیوں کی مالی حالت کو بہتر بنانے کے لیے قیمتی تجاویز دیں۔ اتر پردیش، مدھیہ پردیش، آندھرا پردیش، مہاراشٹر، اور تمل ناڈو کی جانب سے اس موضوع پر تفصیلی پریزنٹیشنز دی گئیں۔
عملی طور پر حکمت عملی کے خدوخال پر تفصیلی گفتگو کی گئی، جس میں تقسیم کار کمپنیوں کے بقایا قرضوں اور خسارے کو کم کرنے اور انہیں منافع بخش بنانے کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ریگولیٹرز کی کارکردگی کا جائزہ لینے اور ٹیرف (بجلی کے نرخوں) کے تعین کے عمل کو مؤثر بنانے پر زور دیا گیا۔ ریاستوں میں نجکاری کی حوصلہ افزائی کے لیے حکومتِ ہند کی مدد کی تجویز دی گئی۔ اس کے علاوہ، بجلی کے شعبے میں ہونے والی جدید پیش رفت، قابل تجدید توانائی (آر ای) کے انضمام، گنجائش سازی کی ضروریات، اور آپریشن و مینٹیننس (او اینڈ ایم) اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے ریگولیٹرز کو ٹیرف پالیسی میں اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
یہ بھی زیرِ بحث آیا کہ حکومتی محکموں کے بقایا واجبات اور سبسڈی کی ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے تقسیم کار کمپنیاں ورکنگ کیپیٹل لون لینے پر مجبور ہیں، جنہیں ٹیرف میں شامل نہیں کیا جا رہا۔ اس کے علاوہ ، ایندھن اور بجلی کی خریداری کے اخراجات کو ٹیرف میں ایڈجسٹ کرنے میں تاخیر سے بھی مالی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے سالانہ مہنگائی سے منسلک ٹیرف میں خودکار اضافے کی تجویز دی گئی تاکہ مستقبل میں بجلی کے نرخوں میں اچانک اضافے سے بچا جا سکے۔
گروپ آف منسٹرز نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی مالی پائیداری کے لیے ضروری اقدامات کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اپنے اختتامی خطاب میں معزز مرکزی وزیر مملکت نے ریاستوں پر زور دیا کہ وہ زیادہ سیاسی عزم اور عہد کا مظاہرہ کریں تاکہ بجلی کے شعبے کو پائیدار بنایا جا سکے۔ انہوں نے رکن ریاستوں پر زور دیا کہ وہ اجلاس کے دوران سامنے آنے والے خیالات پر کام کریں۔ آل انڈیا ڈسکام ایسوسی ایشن (اے آئی ڈی اے) کو اگلی جی او ایم میٹنگ میں مدعو کرنے کی سفارش کی گئی تاکہ ان کی تجاویز بھی شامل کی جا سکیں۔
اجلاس میں اتفاقِ رائے سے فیصلہ کیا گیا کہ گروپ آف منسٹرز کی چوتھی میٹنگ اپریل میں آندھرا پردیش میں منعقد کی جائے گی۔
******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-9189
(Release ID: 2116803)
Visitor Counter : 39