جل شکتی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پارلیمنٹ کا سوال: 'ہر گھر نل سے جل' اور 'سوچھ بھارت مشن' کے تحت اہداف

Posted On: 27 MAR 2025 2:58PM by PIB Delhi

حکومت ہنداگست 2019سے ریاستوں کےساتھ شراکت داری میں جَل جیون مشن (جے جے ایم) نافذ کررہی ہے تاکہ دیہی گھروں میں معیاری پانی کی سپلائی کی فراہمی کی جائے۔ اس مشن کا مقصد یہ ہے کہ دیہی علاقوں میں ہر گھر کو مناسب مقدار میں، مقررہ معیار کے مطابق اور باقاعدہ و طویل مدتی بنیادوں پر پائپ کے ذریعے پینے کا پانی فراہم کیا جائے۔

مرکزی  کابینہ نے 2019-20 سے 2023-24 تک پانچ سال کے لیے جَل جیون مشن کے نفاذ کی منظوری دی تھی۔ مزید برآں، 2025 کے بجٹ میں معزز وزیر خزانہ نے جَل جیون مشن کی توسیع 2028 تک کرنے کا اعلان کیا اور اس کے لیے اضافی فنڈز مختص کیے ہیں۔ توسیعی مدت میں مشن کے باقی کاموں کو مکمل کرنے پر زور دیا جائے گا، جس میں بنیادی ڈھانچے کے معیار اور دیہی پائپ پانی کی اسکیموں کی آپریشن اور دیکھ بھال (او اینڈ ایم) کو ترجیح دی جائے گی، تاکہ پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے اور شہریوں پر مرکوز  پانی کی فراہمی کو بہتر بنایا جا سکے۔

پانی چونکہ ریاستی معاملہ ہے، اس لیے پینے کے پانی کی اسکیموں/کام کی منصوبہ بندی، منظوری، عمل درآمد، آپریشن اور دیکھ بھال کی ذمہ داری ریاستوں/ مرکز کے زیرانتظام علاقوں  کی حکومتوں پر ہے، جن میں جَل جیون مشن کے تحت ہونے والے کام بھی شامل ہیں۔ حکومت ہند ریاستوں کو تکنیکی اور مالی معاونت فراہم کرتی ہے۔

تمام دیہی گھروں کو پانی کے  ٹیپ کنکشن کی فراہمی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے جَل جیون مشن کے نفاذ میں مختلف اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان اقدامات میں ریاستی حکومتوں کے ساتھ باقاعدگی سے اعلی سطحی مشترکہ جائزہ  میٹنگ  منعقد کرنا اور محکمے کی کثیر الشعبہ ٹیموں کا دورہ کرنا شامل ہے تاکہ ان علاقوں کی نشاندہی کی جا سکے جن پر عمل درآمد کو تیز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ تمام گھروں تک پانی کی فراہمی کو وقت پر مکمل کیا جا سکے۔

جَل جیون مشن کے آغاز میں اگست 2019 میں صرف 3.23 کروڑ (16.8فیصد) دیہی گھروں میں نل سے پانی کنکشنز فراہم کیے گئے  تھے ۔ ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں  کی طرف سے 23.03.2025 تک رپورٹ کی گئی معلومات کے مطابق، جَل جیون مشن کے تحت تقریباً 12.31 کروڑ اضافی دیہی گھروں میں  نل سے پانی کے   کنکشنز فراہم کیے جاچکے  ہیں۔ 24.03.2025 تک ملک میں 19.37 کروڑ دیہی گھروں میں سے تقریباً 15.54 کروڑ (80.29فیصد) گھروں کو پانی کی سپلائی حاصل ہو چکی ہے۔

سوچھ بھارت مشن (گاؤں) [ایس بی ایم(جی )] 2 اکتوبر 2014 کو شروع کیا گیا تھا جس کا مقصد دیہی علاقوں میں 2 اکتوبر 2019 تک کھلے میں رفع حاجت کے خاتمے کو یقینی بنانا تھا۔ ایس بی ایم(جی ) کو ایک عوامی تحریک کے طور پر نافذ کیا گیا۔ ایس بی ایم(جی ) کے پہلے مرحلے میں 10 کروڑ انفرادی گھریلو بیت الخلاء (آئی ایچ ایچ ایل) تعمیر کیے گئے اور ملک کے تمام گاؤں 2 اکتوبر 2019 تک کھلے میں رفع حاجت  سے پاک  (او ڈی ایف) قرار دیے گئے۔ او ڈی ایف کی حیثیت حاصل کرنے کے بعد، ایس بی ایم(جی ) کے دوسرے مرحلے کو 2020-21 سے 2025-26 کے دوران نافذ کیا جا رہا ہے جس میں او ڈی ایف کی پائیداری پر زور دیا جا رہا ہے اور تمام گاؤں میں ٹھوس اور مائع فضلہ کے انتظام کا احاطہ کیا جا رہا ہے، یعنی گاؤں کو او ڈی ایف پلس (ماڈل) میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔

کچھ معروف اداروں جیسے کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)، بین الاقوامی لیبر  تنظیم، آئی آئی ایم بنگلور، ڈیولپمنٹ  انوویشن لیب -یونیورسٹی آف شکاگو نے جَل جیون مشن کے عوامی زندگیوں پر اثرات کا جائزہ لیا ہے۔ ان اداروں نے جَل جیون مشن کے اثرات کو روزگار کی تخلیق، صحت اور اسہال   سے ہونے والی اموات  میں کمی کے حوالے سے جائزہ لیا ہے۔ یہ رپورٹس  عوامی ڈومین میں درج ذیل لنک پر دستیاب  ہیں :

https://jaljeevanmission.gov.in/sites/default/files/2024-01/Potential-Impact-of-JJM.pdf

اس کے علاوہ، جَل جیون مشن کے تحت یہ محکمے باقاعدگی سے 'ٹیپ کنکشنز کی فعالیت کا تجزیہ ' ایک آزاد تیسری پارٹی ایجنسی کے ذریعے کراتا ہے۔ اس جائزہ میں ٹیپ کنکشنز کی فعالیت کو تین اہم پیمانوں پر پرکھا جاتا ہے: مقدار (55 لیٹر فی کس یومیہ  یا اس سے زیادہ)، معیار اور باقاعدگی یعنی پانی کی فراہمی سال بھر یا روزانہ کی بنیاد پر۔ ان تمام پیمانوں کو ہدف بنا کر گھریلو ٹیپ واٹر کنکشنز کی فعالیت کا تعین کیا جاتا ہے۔ آخری فعالیت کا جائزہ رپورٹ عوامی ڈومین میں درج ذیل لنک پر دستیاب ہے:

https://jaljeevanmission.gov.in/functionality-reports

 

پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے شعبے میں ریاستوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے محکمہ پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی (ڈی ڈی ڈبلیو ایس) 'سوچھ سرویکشن  گرامین' (ایس ایس جی) کراتا ہے جو تیسری پارٹی ایجنسی کے ذریعے دیہاتوں میں صفائی ستھرائی کے اہم پیرا میٹرز کا جائزہ لیتا ہے جن میں فضلہ کا انتظام (ایف ایس ایم)، بایوڈیگریڈ ایبل اور نان بایوڈیگریڈ ایبل فضلہ کا انتظام، اور گرے واٹر مینجمنٹ (جی ڈبلیو ایم) شامل ہیںایس ایس جی کے حصے کے طور پر، ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی درجہ بندی ان کی کارکردگی کی بنیاد پر کی جاتی ہے جو کلیدی مقداری اور معیاری سوچھتا پیرامیٹرز پر ہوتی ہے۔

مؤثر نگرانی اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ایک آن لائن 'جے جے ایم ڈیش بورڈ' بنایا گیا ہے جو ریاست/مرکز کے زیرانتظام علاقوں ، ضلع اور گاؤں کی سطح پر پیشرفت اور دیہی گھروں کو پانی کی سپلائی کی حیثیت فراہم کرتا ہے۔

ایس بی ایم (جی )کا انٹیگریٹڈ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم(آئی ایم آئی ایس ) ایس بی ایم (جی )کی ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی  سرگرمیوں یعنی  انفرادی اور کمیونٹی/گھریلو بیت الخلاء کی تعمیر، ایس ایل ڈبلیوایم انفراسٹرکچر، آئی ای سی ، صلاحیت سازی اور انتظامیہ سے متعلق سرگرمیوں، بشمول مالیاتی پیش رفت پر نظر رکھتاہے ۔

یہ معلومات جل شکتی کے وزیرمملکت  جناب وی سومننا نے آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں۔

 

************

 

ش ح ۔ ف ا۔  م  ص

 (U:9054)


(Release ID: 2115846) Visitor Counter : 25


Read this release in: English , Hindi , Tamil