ریلوے کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ریلوے کی برق کاری میں تیزی: 29 میں سے 22 ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 100فیصد نیٹ ورک کی برق کاری، باقی 7 ریاستوں میں کام تیزی سے جاری


ٹریکشن ایندھن کی کھپت میں 2018-19 سے 2023-24 تک  136 کروڑ لیٹر کی کمی

Posted On: 26 MAR 2025 8:13PM by PIB Delhi

ریلویز، اطلاعات و نشریات اور الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر جناب اشونی ویشنو نے آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ فی الحال ، ہندوستانی ریلوے کے (آئی آر) براڈ گاج (بی جی) نیٹ ورک کے تقریبا 98فیصد حصے کی برق کاری کی گئی ہے اور بقیہ حصوں میں یہ کام شروع کر دیا گیا ہے ۔ حالیہ برسوں میں ریلوے کی برق کاری میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، 2014 سے پہلے اور بعد میں برق کاری کا موازنہ مندرجہ ذیل ہے:

مدت

روٹ کلومیٹر

2014 سے پہلے (تقریباً 60 سال)

21,801

2014-25 (فروری 2025 تک)

45,922

 

آج تک جن ٹریکس کی پہلے ہی برق کاری کی جاچکی ہے اُن کا ریاست کے لحاظ سےفیصد درج ذیل ہے:

نمبر شمار

ریاست

فیصد پر برق کاری کی گئی

 

نمبر شمار

ریاست

فیصد پر برق کاری کی گئی

1

آندھرا پردیش

100فیصد

 

16

اوڈیشہ

100 فیصد

2

اروناچل پردیش

100 فیصد

 

17

پڈوچیری

100 فیصد

3

بہار

100 فیصد

 

18

پنجاب

100 فیصد

4

چنڈی گڑھ

100 فیصد

 

19

تلنگانہ

100 فیصد

5

چھتیس گڑھ

100 فیصد

 

20

اترپردیش

100 فیصد

6

دہلی

100 فیصد

 

21

اتراکھنڈ

100 فیصد

7

ہریانہ

100 فیصد

 

22

تریپورہ

100 فیصد

8

ہماچل پردیش

100 فیصد

 

23

مغربی بنگال

100 فیصد

9

جموں وکشمیر

100 فیصد

 

24

راجستھان

98 فیصد

10

جھارکھنڈ

100 فیصد

 

25

گجرات

97 فیصد

11

کیرالا

100 فیصد

 

26

کرناٹک

96 فیصد

12

مدھیہ پردیش

100 فیصد

 

27

تملناڈو

96 فیصد

13

مہاراشٹر

100 فیصد

 

28

گوا

88 فیصد

14

میگھالیہ

100 فیصد

 

29

آسام

79 فیصد

15

ناگالینڈ

100 فیصد

 

 

 

 

تمل ناڈو میں واقع ریلوے لائنوں کی برق کاری کا تقریبا 96 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے ۔ تمل ناڈو میں واقع بقیہ حصوں میں برق کاری کا کام 444 کروڑ روپے کی لاگت سے شروع کیا گیا ہے ۔

سڑک کے ذریعے نقل و حمل کے مقابلے ریلوے کے ذریعے نقل و حمل میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج درج ذیل ہے:

نقل و حمل کا ذریعہ

1 کلومیٹر کے لیے 1 ٹن کی نقل و حمل کے لیےسی او 2 کا اخراج

سڑک

101 گرام

ریل

11.5 گرام (تقریباً 89 فیصد کم)

مزید برآں، ریلوے پٹریوں کی برق کاری سے فوزل ایندھن پر انحصار کم ہوتا ہے، ڈیزل کی کھپت میں کمی آتی ہے جس کے نتیجے میں کاربن کا اخراج کم ہوتا ہے۔ برق کاری سے بارکشی کی صلاحیت اور ٹرین کی رفتار میں اضافہ ہوتا ہے، جس سے سفر کا وقت کم ہوتا ہے اور کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔ ہندوستانی ریلوے میں 2018-19 کے مقابلے 2023-24 کے دوران ٹریکشن مقصد کے لیے ایندھن کی کھپت میں 136 کروڑ لیٹر کی کمی ہوئی ہے۔

 

مشن 100فیصد برق کاری ایک انتہائی چیلنجنگ پروجیکٹ ہے، کیونکہ اس میں ان ریلوے لائنوں کو بجلی فراہم کرنا شامل ہے جو پہلے سے چل رہی ہیں اور اس پر عمل درآمد کے دوران مختلف غیر متوقع چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ریلوے کی برق کاری کے کام کو تیز کرنے کے لیے، ہندوستانی ریلوے کی طرف سے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں جن میں کمیشننگ کے دوران درپیش رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے پروجیکٹ مانیٹرنگ گروپ (پی ایم جی) پورٹل کی تشکیل، پروجیکٹ کی نگرانی کے موثر طریقۂ کار کو یقینی بنانا، یقینی فنڈنگ اور فیلڈ یونٹوں کو مالی اختیارات میں اضافہ شامل ہیں۔

 

برق کاری پروجیکٹ کی تکمیل مختلف عوامل پر منحصر ہوتی ہے جیسے محکمۂ جنگلات کے عہدیداروں کی طرف سے جنگلات سے متعلق منظوری، غیر قانونی چیزوں کو ہٹانا، مختلف حکام سے قانونی منظوری، علاقے کے ارضیاتی اور ٹپوگرافیکل حالات، پروجیکٹ سائٹ کے علاقے میں امن و امان کی صورتحال، آب و ہوا کے حالات کی وجہ سے مخصوص پروجیکٹ سائٹ کے لیے سال میں کام کے مہینوں کی تعداد وغیرہ۔ یہ تمام عوامل اس پروجیکٹ کی تکمیل کے دورانیے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

 

-----------------------

ش ح۔ک ح ۔ ع ن

U No. 9017


(Release ID: 2115669) Visitor Counter : 11


Read this release in: English , Hindi