ریلوے کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ریلوے کے کام کاج میں حفاظت اور کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اصلاحات


گتی شکتی اقدام کے ذریعے، جنرل منیجرز اور ڈویژنل ریلوے منیجرز کو اضافی اختیارات، کوچ اور رولنگ بلاکس جیسے اقدامات سے ریلوے منصوبوں کی منظوری اور عمل درآمد میں تیزی آرہی ہے

Posted On: 26 MAR 2025 8:16PM by PIB Delhi

بھارتی ریلوے میں اصلاحات ایک مسلسل اور جاری رہنے والا عمل ہے۔ یہ اصلاحات ٹرین  کے کام کاج میں حفاظتی اقدامات اور کارکردگی کو بڑھانے، مسافروں کے تجربے کو بہتر بنانے، نیٹ ورک کی توسیع کو تیز کرنے وغیرہ کے لیے کی گئی ہیں۔ حالیہ ماضی  قریب میں  بھارتی ریلوے میں درج ذیل اصلاحات کی گئی ہیں: -

(i) گتی شکتی ڈائریکٹوریٹ/یونٹس: پی ایم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان (این ایم پی) کو 21 اکتوبر میں شروع کیا گیا تھا، تاکہ نقل و حمل کے شعبے سے متعلق بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد کے نقطہ نظر میں ایک تبدیلی لانے والےپہل کا آغاز کیا جاسکے۔

بھارتی ریلوے نے اپنے پروجیکٹ کی منصوبہ بندی کے عمل میں فوری طور پر گتی شکتی کے اصولوں کو اپنایا ہے۔ موجودہ وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے، بھارتی ریلوے میں ایک کثیر الضابطہ گتی شکتی ڈائریکٹوریٹ بنایا گیا ہے۔ اسی طرح زونل ریلوے میں گتی شکتی یونٹس بنائے گئے ہیں۔ پروجیکٹ ڈی پی آر تمام  شراکتداروں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی وزارتوں اورمحکموں کے ساتھ مشاورت کے بعد بنائے جاتے ہیں۔

مذکورہ بالا اقدامات سے پروجیکٹوں کی تشخیص،منظوری کے عمل اور ان پر عمل درآمد میں تیزی آئی ہے ۔

(ii) جی ایم اور ڈی آر ایم کو پروجیکٹوں کی منظوری کے اختیارات میں توسیع: پروجیکٹوں کی تیزی سے تکمیل کے لیے جی ایم اور ڈی آر ایم کے لیے مختلف پروجیکٹوں کی منظوری کے اختیارات میں اضافہ کیا گیا ہے ۔

(iii) معاہدوں کو حتمی شکل دینا اور اس کا بندوبست: ٹینڈرز کو حتمی شکل دینے کے لیے مکمل اختیارات جنرل منیجرز کو سونپے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ورکس کنٹریکٹ مینجمنٹ سسٹم (آئی آر ڈبلیو سی ایم ایس) اور کنٹریکٹرکےای-ایم بی کو شفاف، فوری اورتیز  رفتاری سے کنٹریکٹ کو منظم بنانے کے لیے اور ٹھیکیدار کی بلنگ کے لیے  نافذ کیا گیا ہے۔

(iv) کوچ کی  ترویج وترقی اور نفاذ: ٹرین کے کام کاج میں حفاظت کو بہتر بنانے کے لیے، کوچ کو بھارتی ریلوے میں نیشنل آٹومیٹک ٹرین پروٹیکشن (اے ٹی پی) سسٹم کے طور پر تیار کیا گیا ہے۔ کوچ کے نفاذ کا کام بھارتی ریلوے میں مشن موڈ میں لیا گیا ہے۔

(v) لیول کراسنگ کا خاتمہ: ٹرین کے کام کاج اور سڑک کا استعمال کرنے والوں کی حفاظت کو بہتر بنانے کے لیے، براڈ گیج پر تمام بغیر پائلٹ لیول کراسنگ کو ختم کر دیا گیا ہے۔ مزید یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ تمام انسانی لیول کراسنگ کو مرحلہ وار آراوبی ایس اورآر یو بی ایس کی تعمیر کے ذریعے تبدیل کیا جائے۔

(vi) اسٹیشن کی بحالی: بھارتی ریلوے نے امرت بھارت اسٹیشن اسکیم کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد مسافروں کو عالمی معیار کی سہولیات فراہم کرنا اور ریلوے اسٹیشنوں پر ٹرین  کے کام کاج میں کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔ امرت بھارت اسٹیشن اسکیم میں اب تک 1,337 اسٹیشنوں کو دوبارہ ترقی دینے کے لیے لیا گیا ہے۔

(vii) جدید ٹرینوں کا تعارف: مسافروں کے تجربے کو بڑھانے اور آرام دہ سفر فراہم کرنے کے لیے، جدید خصوصیات کے ساتھ  جدیدوندے بھارت ٹرینیں، امرت بھارت ٹرینیں اور نمو بھارت ریپڈ ریل متعارف کرائی گئی ہیں۔

(viii) بھارت گورو ٹرینیں: بھارتی  ریلوے نے موضوع پر مبنی ٹورسٹ سرکٹ ٹرینیں شروع کی ہیں جن کا نام بھارت گورو ٹرینز (بی جی ٹی) رکھا گیا ہے جس کا مقصد سیاحت کے شعبے کے پیشہ ور افراد اور دیگر ممکنہ خدمات فراہم کرنے والوں کے ذریعے ہندوستان اور دنیا کے لوگوں کو بھارت کے  مالامال ثقافتی ورثے اور شاندار تاریخی مقامات کی نمائش کرنا ہے۔

(ix) اسٹیشنوں اور ٹرینوں پر ڈیجیٹل لین دین کو فروغ دینا: مختلف کسٹمر انٹرفیس پوائنٹس پر ڈیجیٹل ادائیگی کی سہولت جیسے کہ ٹکٹنگ  اور کیٹرنگ یونٹس وغیرہ کی سہولت فراہم کرنا۔

(x) مال کی نقل و حمل:بھارتی ریل نے مال برداری میں اضافہ کے پیش نظر کئی اہم اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔ ان اصلاحات میں مال برداری پر چھوٹ، یقینی کاروبار پر رعایت، قلیل فاصلے پر رعایت، منی ریک لوڈنگ، گڈز شیڈ کی ترقی، جنرل پرپز ویگن انویسٹمنٹ اسکیم (جی پی ڈبلیو اآئی ایس) ، بزنس ڈیولپمنٹ پورٹل وغیرہ جیسے آزادانہ مراعات شامل ہیں۔

(xi) گتی شکتی کارگو ٹرمینلز: گتی شکتی کارگو ٹرمینل پہل شروع کی گئی ہے تاکہ اس سے متعلق منظوریوں کو تیز کیا جا سکے اور آئی آر کے فرائٹ لوڈنگ شیئر کو بڑھانے کے لیے کارگو ٹرمینلز کے قیام میں آسانی ہو۔ اب تک 95 جی سی ٹیز پر کام کیا جا چکا ہے۔

(xii) "مشترکہ پارسل پروڈکٹ" تیار کرنے کے لیے ریلوے کا انڈیا پوسٹ انضمام:کاروبار کرنے کیلئے دو سرکاری محکموں کے درمیان ایک مشترکہ باہمی تعاون کے اقدام کے طور پر پارسل کی فراہمی کا ایک مکمل حل شروع کیا گیا ہے جس میں محکمہ ڈاک کے ذریعے فرسٹ میل-لاسٹ میل کنیکٹیویٹی اور ریلوے کے ذریعے ایک اسٹیشن سے دوسرے اسٹیشن تک انٹرمیڈیٹ کنیکٹیویٹی فراہم کی گئی     ہے۔

(xiii) کول چین کوآرڈینیشن گروپ: کول چین میں شامل شراکت داروں کی بڑی تعداد، یعنی۔ کوئلہ کمپنیاں، کیپٹیو اور کمرشیل کانیں، بندرگاہیں، پاور ہاؤسز، صنعتیں اور بھارتی ریلوے۔ تمام شراکت داروں کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے وزارت ریلوے میں کول چین کوآرڈینیشن گروپ قائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

(xiv) سال میں تقرری سے متعلق کیلنڈر:  بھارتی ریلوے نے تقرریوں کے لیے ایک سالانہ کیلنڈر جاری کیا ہے جو نہ صرف امیدواروں کے لیے غیر یقینی صورتحال اور انتظار کی مدت کو کم کرے گا بلکہ ریلوے کو بروقت اسامیوں کو پُر کرنے کے قابل بنائے گا۔

(xv) ریلوے کی زمین کی پالیسی: پی ایم گتی شکتی فریم ورک کے تحت ملک بھر میں تیز تر مربوط منصوبہ بندی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو قابل بنانے کے لیے ریلوے کی زمین کی لیز پالیسی کو مناسب اور آسان بنانے کے لیے، طویل مدت کے لیے زمین لیز پر دینے کی پالیسی جاری کی گئی ہے۔

(xvi) رولنگ بلاکس کا تعارف: رولنگ بلاکس کا تصور بھارتی ریلوے میں گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعہ 2023 میں متعارف کرایا گیا ہے جس میں اثاثوں کی مربوط، دیکھ بھال، مرمت اورتبدیلی  کےکام رولنگ کی بنیاد پر 52 ہفتے پہلے تک پلان کیا جاتا ہے اور ڈویژنوں کے منصوبے کے مطابق عمل میں لایا جاتا ہے۔

یہ اطلاع ریلوے، اطلاعات و نشریات اور الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر جناب اشونی ویشنو نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی۔

********

ش ح۔م م ع  ۔ ص ج

U-9021


(Release ID: 2115645) Visitor Counter : 12


Read this release in: English , Hindi