سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
پارلیمنٹ سوال: قومی قابل رسائی لائبریری اقدام
Posted On:
25 MAR 2025 2:52PM by PIB Delhi
حکومت نے نیشنل ایکسیس ایبل لائبریری انیشیٹو کے تحت لائبریریوں کی تعداد بڑھانے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ بصارت سے محروم افراد کو مختلف قابل رسائی فارمیٹس میں سیکھنے کے مواد تک رسائی حاصل ہو۔ فی الحال، 16 لائبریریاں' سگمیہ پستکالیہ' کے ساتھ درج ہیں، جو قابل رسائی کتابوں کا ایک ڈجیٹل ذخیرہ ہے۔ بصارت سے محروم افراد کو بااختیار بنانے کے قومی ادارے (این آئی ای پی وی ڈی) نے بصارت سے محروم افراد کے لیے اس آن لائن ذخیرہ کی سہولت کے لیے ڈیزی فارم آف انڈیا( ڈی ایف آئی) کے ساتھ شراکت کی ہے۔
رسائی کو مزید بہتر بنانے کے لیے این آئی ای پی وی ڈی نے کئی سرکردہ یونیورسٹیوں اور اداروں کے ساتھ مفاہمت ناموں پر دستخط کیے ہیں، جن میں وردھمان مہاویر اوپن یونیورسٹی (کوٹہ، راجستھان)، سبھاش اوپن یونیورسٹی (کولکاتہ)، اتراکھنڈ اوپن یونیورسٹی اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیچر ایجوکیشن (آئی آئی ٹی ای)، یونیورسٹی فار ٹیچر ایجوکیشن، گاندھی نگر (گجرات اسٹیٹ یونیورسٹی آف ٹیچر ایجوکیشن) شامل ہیں۔ ان شراکتوں کا مقصد بصارت سے محروم افراد کے لیے ان کی متعلقہ لائبریریوں میں قابل رسائی کتابوں کے مجموعے تیار کرنا ہے۔
نیشنل بک ٹرسٹ (این بی ٹی)، نئی دہلی کے ساتھ مل کر این آئی ای پی وی ڈی نے دہرادون، اتراکھنڈ میں پڑھنے کے لیے ایک یونیورسل ڈیزائن سینٹر قائم کیا ہے۔ یہ مرکز این بی ٹی کی اشاعتوں کے وسیع ذخیرے کی نمائش کرتا ہے جو بصارت سے محروم افراد کے لیے قابل رسائی ہے۔ مزید برآں، این آئی ای پی وی ڈی نے نابینا افراد کے لیے شراون، آئی وی آر پر مبنی آڈیو لائبریری بنانے کے لیے این بی ایس ، دہلی کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔
بیداری پیدا کرنے اور قابل رسائی لائبریریوں کی تعداد بڑھانے کے لیے این آئی ای پی وی ڈی دہرادون باقاعدگی سے سرکاری، نیم سرکاری، کالجوں، یونیورسٹیوں اور این جی اوز کے اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل سیمینار اور کانفرنسوں کا اہتمام کرتا ہے۔ یہ جاری کوششیں ہندوستان بھر میں بصارت سے محروم افراد کے لیے ادب اور تعلیمی وسائل تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے حکومت کے عزائم کی عکاسی کرتی ہیں۔
قومی قابل رسائی لائبریری ( این اے ایل) پورے ہندوستان میں ادارہ جاتی رکنیت بڑھانے میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے، اس طرح جامع پڑھنے کے وسائل تک رسائی کو بڑھاتی ہے۔ گزشتہ 3 سالوں کے دوران، ادارہ جاتی رکنیت کی تعداد 18 تک پہنچ گئی ہے، جس میں درج ذیل ریاستیں/ مرکز کے زیر انتظام علاقے شامل ہیں: مغربی بنگال-07، مہاراشٹر-03، اتر پردیش-01، میزورم-01، پنجاب-01، ہریانہ-01، کیرالہ-02، اتراکھنڈ-01 اور جموں و کشمیر-01 ہیں۔
حکومت بریل کی نصابی کتابیں اور تعلیمی مواد بریل فارمیٹ اور دیگر قابل رسائی فارمیٹس (ای پب، ٹاکنگ بک، بڑی پرنٹ) میں مفت فراہم کر رہی ہے۔ "قابل رسائی لرننگ میٹریلز کی ترقی و فروغ کے لیے مالی امداد کے منصوبے ( ڈی اے ایل ایم ؛ پہلے بریل پریس پروجیکٹ)" کے ذریعے ملک بھر میں پھیلی 25 نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے ذریعے 2014 سے لے کر اب تک ڈی اے ایل ایم پروجیکٹ کے تحت 13,68,01,098 بریل والے صفحات بصارت سے محروم طلباء میں تقسیم کیے جا چکے ہیں۔
اس کے علاوہ، بریل لٹریچر کی لسانی رینج کو بڑھانے کے لیے این آئی ای پی وی ڈی دہرادون کے تعاون سے 4 جنوری 2025 کو 13 ہندوستانی زبانوں کے لیے یونی کوڈ کے ساتھ میپ کیے گئے معیاری ہندستانی بریل کوڈز شائع کیے گئے ہیں۔ حکومت بصارت سے محروم قارئین کے لیے بریل لائبریریوں اور کثیر لسانی لٹریچر کو بڑھانے کے لیے مندرجہ ذیل اقدامات کے ذریعے سرگرم عمل ہے:
- قومی قابل رسائی لائبریری اقدام کے تحت ڈجیٹل طور پر قابل رسائی لائبریریوں کی تعداد میں اضافہ۔
- مختلف ہندوستانی زبانوں میں بریل اور دیگر قابل رسائی فارمیٹس میں کتابوں کی دستیابی میں اضافہ۔
- قابل رسائی ادب کی رسائی کو بڑھانے کے لیے نیشنل بک ٹرسٹ این بی ٹی ، سگمیہ پستکالیہ اور ڈیزی فارم آف انڈیا India جیسی تنظیموں کے ساتھ شراکت داری کو مضبوط کرنا۔
سماجی انصاف اور امپاورمنٹ کے مرکزی وزیر مملکت جناب بی ایل ورما نے آج ایوان زیریں- لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں یہ جانکاری دی۔
*******
ش ح۔ ظ ا – ن ا
UR No.8879
(Release ID: 2115034)
Visitor Counter : 14