سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پارلیمانی سوال: بھارتی حیاتیاتی اعدادو شمار مرکز (آئی بی ڈی سی)

Posted On: 19 MAR 2025 4:11PM by PIB Delhi

بایو تکنالوجی  کے محکمے نے جینیاتی تغیرات کی ایک لائبریری بنانے کے لیے "جینوم انڈیا" پروجیکٹ کے تحت 99 مختلف سائٹوں سے 83 متفاوت آبادیوں کے 10,074 صحت مند افراد کے مکمل جینوم کی ترتیب کے قومی وسائل کا ڈیٹا تیار کیا ہے۔ اس ڈیٹا کا مقصد جینومک تحقیق کو فروغ دینا، سائنسی اور طبی برادری دونوں کی خدمت کرنا ہے۔ لہذا، ڈیٹا کو انڈین بائیولوجیکل ڈیٹا سینٹر (آئی بی ڈی سی) میں محفوظ کیا گیا ہے، جو اس محکمہ کے ذریعہ قائم کردہ ایک قومی ذخیرہ ہے۔ اعداد و شمار کو مقامی چپس، تشخیص اور علاج کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے ملک کے صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو فائدہ پہنچے گا اور اس طرح ملک کی بایو اکانومی میں مدد ملے گی۔ محکمہ نے ترجمہی تحقیق کو فنڈ دینے کا منصوبہ بنایا ہے جس میں یہ ڈیٹا سیٹ ایک ٹیمپلیٹ کے طور پر کام کرے گا، اس طرح 'جینوم انڈیا' پروجیکٹ کے تحت تیار کردہ ڈیٹا کے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کیے جائیں گے۔ یہ ڈیٹا بائیوٹیک-پرائڈ (ڈیٹا ایکسچینج کے ذریعے تحقیق اور اختراع کا فروغ) رہنما خطوط اور ڈیٹا ایکسچینج کے فریم ورک (فی ای ڈی) پروٹوکول کے دفعات کے تحت محققین تک پہنچایا جائے گا۔

'جینوم انڈیا' پروجیکٹ کے تحت، یہ مطالعہ پورے ملک کے طول و عرض میں کیا گیا ہے اور ہندوستان میں لسانی، سماجی، اور علاقائی گروپوں میں مساوی نمونے لینے کو یقینی بنایا گیا ہے۔ تقریباً 36.7فیصد نمونے دیہی علاقوں سے، 32.2فیصد  شہری اور 31.1فیصد  قبائلی آبادیوں سے حاصل کیے گئے۔ یہ ضروری ہے کہ پہلے سے بنائے گئے بڑے ڈیٹا بیس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کیا جائے۔ اس لیے محکمہ ابتدائی طور پر پہلے سے دستیاب ڈیٹا سیٹ کا استعمال کرتے ہوئے ترجمے کی تحقیق پر توجہ مرکوز کرتا ہے، جس کے لیے پورے ملک میں تجاویز طلب کی جا رہی ہیں اور یہ عمل ابھی جاری ہے۔ اس لیے اس سلسلے میں ریاستی اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔

یہ    معلومات سائنس اور تکنالوجی، ارضیاتی سائنس   کے            مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج)، وزیر اعظم کے دفتر، محکمہ ایٹمی توانائی،  محکمہ خلاء کے وزیر مملکت  ڈاکٹر جتیندر سنگھ کے ذریعہ آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب کے تحت فراہم کرائی گئی۔

 

**********

 (ش ح –ا ب ن)

U.No:8542


(Release ID: 2113035) Visitor Counter : 14


Read this release in: English , Hindi