اقلیتی امور کی وزارتت
ملک بھر میں این ایم ڈی ایف سی اسکیموں کے نفاذ کو بڑھانے کے لیے کئی اقدامات کیے گئے
Posted On:
19 MAR 2025 5:04PM by PIB Delhi
مالی سال 2024-25 کے لئے نیشنل مائنارٹیز ڈیولپمنٹ اینڈ فنانس کارپوریشن (این ایم ڈی ایف سی) کا تقسیم کا ہدف 850 کروڑ روپے ہے۔ این ایم ڈی ایف سی نے 752.23 کروڑ روپے تقسیم کیے ہیں۔ 10 مارچ 2025 تک 1,74,148 سے زیادہ مستفیدین کو فائدہ پہنچا ہے۔
این ایم ڈی ایف سی نے مستفیدین سے قرض کی منظوری، تقسیم اور وصولی کے لیے اپنی ریاستی چینلائزنگ ایجنسیوں (ایس سی اے) کو اختیار تفویض کیا ہے۔ مستفیدین کا انتخاب رعایتی کریڈٹ جاری کرنے کے لیے درج ذیل اہلیت کے معیار کے مطابق کیا جاتا ہے ۔
- اس شخص کا تعلق قومی اقلیتی کمیشن ایکٹ 1992 کے مطابق نوٹیفائیڈ قومی اقلیت یعنی بودھ، عیسائی، جین، مسلمان، پارسی اور سکھ میں سے ہونا چاہیے۔
- وہ شخص جس کی سالانہ خاندانی آمدنی کریڈٹ لائن 1 کے تحت 3.00 لاکھ روپے اور کریڈٹ لائن 2 کے تحت 8.00 لاکھ روپے کے اندر ہو۔
درخواست دہندگان کو مذکورہ اہلیت کے معیار کو پورا کرنے کے لیے ضروری دستاویزات جمع کرانے کی ضرورت ہے۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ کریڈٹ سپورٹ حقیقی اور مستحق اقلیتی مستفیدین تک پہنچے، ایس سی اے نے قرض کی منظوری سے پہلے دستاویز کی تصدیق، پس منظر کی جانچ اور سائٹ کے معائنے کے لیے ایک کثیر سطحی اسکریننگ میکانزم اپنایا ہے ۔ مزید برآں ، منظور شدہ رقم براہ راست بینیفٹ ٹرانسفر (ڈی بی ٹی) کے ذریعے کے وائی سی تصدیق شدہ استفادہ کنندہ کے کھاتے میں جاری کی جاتی ہے ۔
ملک بھر میں این ایم ڈی ایف سی اسکیموں کے نفاذ کو بڑھانے کے لیے این ایم ڈی ایف سی کی طرف سے درج ذیل اقدامات کیے گئے ہیں:
- کریڈٹ لائن 1 کے تحت خاندان کی سالانہ آمدنی کی حد کو دیہی علاقے میں 98000 اور شہری علاقوں میں ایک لاکھ 20 ہزار سے بڑھاکر دیہی اور شہری دونوں علاقوں کے لیے سالانہ 3.00 لاکھ روپے کردیا گیا ہے۔
- ہدف شدہ اقلیتی برادریوں کے افراد کی زیادہ سے زیادہ کوریج کے لیے سالانہ 8.00 لاکھ روپے تک کے نئے سالانہ خاندانی آمدنی کے اہلیت کے معیار کا تعارف ۔
- ٹرم لون اسکیم کے تحت قرض کی مقدار10 لاکھ سے بڑھا کر 30 لاکھ روپے کر دی گئی ہے، جبکہ مائیکرو فنانس اسکیم کے تحت اسے 50 ہزار سے بڑھا کر 1.50 لاکھ روپے فی سیلف ہیلپ گروپ ممبر کر دیا گیا ہے۔ تعلیمی قرض اسکیم کے تحت گھریلو کورسز کے لیے قرض کی رقم5 لاکھ سے بڑھا کر20لاکھ روپے اور بیرون ملک کورسز کے لیے10لاکھ روپے سے بڑھا کر30لاکھ روپے کردی گئی ہے۔
- ہدف گروپ سے تعلق رکھنے والے کاریگروں کی قرض کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے وراثت اسکیم کو متعارف کرانا۔
- مذہبی سرٹیفکیٹ، خاندانی آمدنی، رہائشی ثبوت، مارک شیٹ وغیرہ کے معاملے میں دستاویزات کا سیلف ڈکلیئریشن / سیلف سرٹیفکیشن/سیلف اٹیسٹیشن کو متعارف کرایا گیا ہے۔
- این ای ایف ٹی/آر ٹی جی ایس کے ذریعے استفادہ کنندگان کے بینک کھاتے میں قرض کی راست منتقلی۔
- کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے تحفظ کے لیے استفادہ کنندہ اور اس کے اثاثوں کا بیمہ۔
- کینرا بینک، یونین بینک آف انڈیا، انڈین بینک اور پنجاب گرامین بینک کے ساتھ مفاہمت نامے پر دستخط، تاکہ ان ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں این ایم ڈی ایف سی اسکیموں کی رسائی میں اضافہ کیا جا سکے جہاں ایس سی اے غیر فعال ہیں۔
- این ایم ڈی ایف سی نے درخواست دہندگان، اسٹیٹ چینلائزنگ ایجنسیوں (ایس سی اے) اور این ایم ڈی ایف سی کے درمیان قرض اور اکاؤنٹنگ کے عمل کو ہموار اور ڈیجیٹل بنانے کے لیے مِلن سافٹ ویئر بھی تیار کیا ہے۔
یہ معلومات اقلیتی و پارلیمانی امور کے مرکزی وزیر جناب کرن رجیجو نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔
******
ش ح۔ م م ۔ م ر
U-NO. 8520
(Release ID: 2113029)
Visitor Counter : 22