وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
ساحلی ترقی
Posted On:
18 MAR 2025 3:48PM by PIB Delhi
حکومت ہند کی طرف سے نوٹیفائیڈ 'نیشنل میرین فشریز پالیسی-2017' ماہی گیری کے وسائل کے تحفظ اور بہترین استعمال کے لیے رہنما اصول فراہم کرتی ہے۔ یہ پالیسی سمندری ماحول اور آلودگی کے مسائل پر بھی روشنی ڈالتی ہے، جس میں مائیکرو پلاسٹک اور گھوسٹ نیٹ (سمندر میں چھوڑے گئے یا ضائع کیے گئے ماہی گیری کے جال)۔ یہ پالیسی زمینی اور سمندری ذرائع سے آلودگی کو کنٹرول کرنے کے لیے ریگولیٹری میکانزم کی حمایت کرتی ہے، جس پر مؤثر طریقے سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور آلودگی سے متعلقہ پہلوؤں کے لیے ماحولیاتی نظام کی نگرانی کی جا سکتی ہے۔ سمندری پلاسٹک کی آلودگی سے نمٹنے کے لیے خاص طور پر ماہی پروری اور سمندری علاقوں سے ہونے والی آلودگی سے نمٹنے کے لیے حکومت ہند کا محکمہ ماہی گیری- گلٹرپارٹنر شپ پروجیکٹ اور ری گلٹر پروجیکٹ جیسی عالمی کوششوں میں سرگرم عمل ہے، جسے بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) اور اقوام متحدہ کی خوراک اور زراعت کی تنظیم (یواین –ایف اے او) کے ذریعے مشترکہ طور پر نافذ کیا گیا ہے۔
یہ پروجیکٹس سمندر پر مبنی ذرائع سے میرین پلاسٹک لیٹر ( ایم پی ایل) کو روکنے اور کم کرنے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں جس میں لاوارث، کھوئے ہوئے یا ضائع ہونے والے فشینگ گیئر (اے ایل ڈی ایگ جی) اور بحری جہازوں کے فضلے کو حل کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔ جی آئی او لٹر پروجیکٹ میں لیڈ پارٹنر کنٹری ( ایل پی سی) کے طور پر ماہی پروری کے محکمے، حکومت ہند نے اپنا نیشنل ایکشن پلان (این اے پی) شائع کیا ہے، جس میں سمندر پر مبنی ذرائع سے سمندری پلاسٹک کی گندگی کو کم کرنے کے لیے اسٹریٹجک اقدامات کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ تباہ کن ماہی گیری کے مسائل کو حل کرنے کے لیے حکومت ہند نے ای ای زیڈ علاقے میں مچھلی پکڑنے کے تباہ کن طریقوں جیسے کہ جوڑے یا بیل کی ٹرالنگ اور ایل ای ڈی یا مصنوعی روشنیوں کے استعمال پر پابندی لگا دی ہے۔
اس شعبے کی طویل مدتی عملداری کو یقینی بنانے اور آب و ہوا کی تبدیلی، اہم رہائش گاہوں کے تحفظ اور بحالی سے متعلق مسائل کو حل کرنے کے لیے، محکمہ ماہی پروری، حکومت ہند ریاستی حکومتوں اور ماحولیاتی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ ان کوششوں میں ہندوستان کی پوری ساحلی پٹی کے ساتھ مصنوعی چٹانوں کا قیام، سمندری کھیتی کو فروغ دینا، سمندری گھاس کاشت کرنا، مچھلیوں کی افزائش کی بڑی مدت کے دوران 61 دنوں کے لیے یکساں ماہی گیری پر پابندی کا نفاذ اور کچھوؤں کے تحفظ کے لیے ٹرٹل نیٹ میں ٹرٹل ایکسکلوڈر ڈیوائسز (ٹی ڈی ایس) کی تنصیب شامل ہے۔ مزید یہ کہ ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو نوعمر ماہی گیری کو روکنے کے لیے اقدامات کرنے کے لیے مشورے جاری کیے جاتے ہیں جس میں ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ اپنے میرین فشریز ریگولیشن ایکٹ (ایم ایف آر اے ) کے تحت مچھلی کے کم از کم قانونی سائز کو نافذ کریں تاکہ پائیدار اور ذمہ دار ماہی گیری کے طریقوں کو یقینی بنایا جا سکے۔ مزید برآں، موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ساحلی برادریوں کی اقتصادی لچک کو بڑھانے کے لیے ماہی پروری کے محکمے، حکومت ہند نے پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا ( پی ایم ایم ایس وائی) کے تحت ساحل کے قریب واقع 100 ساحلی ماہی گیروں کے دیہاتوں کی شناخت کی ہے۔ شناخت کیے گئے ساحلی ماہی گیروں کے دیہات میں ضرورت پر مبنی سرگرمیوں کے لیے سہولیات موجود ہیں جن میں فش ڈرائینگ یارڈز، فش پروسیسنگ سینٹرز، فش مارکیٹس، فشنگ جیٹیز، آئس پلانٹس، کولڈ اسٹوریج اور ایمرجنسی ریسکیو سہولیات شامل ہیں۔ حکومت ماہی پروری کے محکمے کی اسکیموں کے ذریعے بڑے پیمانے پر آبی زراعت، خاص طور پر سمندری سواروں، خوردنی اور سجاوٹی مچھلیوں، بائلوز وغیرہ کی میری کلچر سے آب و ہوا سے لچکدار ذریعہ معاش کو فروغ دے رہی ہے۔ اس کے علاوہ، آئی سی اے آر - ماہی پروری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، حکومت ہند کی مالی امداد سے جاری تحقیق، ٹیکنالوجی کی ترقی اور صلاحیت کی تعمیر کے ذریعے اندرون ملک اور سمندری آبی زراعت کے فروغ میں تعاون کر رہا ہے۔
انڈین میری ٹائم زونز کے ریگولیٹری فریم ورک (غیر ملکی جہازوں کے ذریعے ماہی گیری کا ضابطہ) ایکٹ-1981 اور تمام بحری ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے میرین فشنگ ایکٹ میں بالترتیب غیر ملکی جہازوں اور ہندوستانی جہازوں کے ذریعے غیر قانونی، غیر رپورٹ شدہ اور غیر منظم ( آئی یو یو) ماہی گیری کی بعض شکلوں کو روکنے کی دفعات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ماہی گیری کے جہازوں کی رجسٹریشن اور لائسنسنگ کے لیے ویب پر مبنی پورٹل - ریئل کرافٹ، سمندری ماہی گیروں کو بایومیٹرک شناختی کارڈ جاری کرنا اور پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) کے تحت تعاون یافتہ ویسل کمیونیکیشن اور سپورٹ سسٹم بھی آئی یو یو ماہی گیری کی روک تھام میں مدد کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، فشریز سروے آف انڈیا (ایف ایس آئی) ماہی گیروں کو ایف اے او- سی سی آر ایف (ذمہ دار ماہی پروری کے لیے ضابطہ اخلاق) اور آئی یو یو ماہی گیری کو روکنے کی ضرورت کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے ملک بھر کے ساحلی ماہی گیری کے دیہاتوں میں بیداری کے پروگرام چلا ئے جارہے ہیں۔ ماہی گیری کا محکمہ، حکومت ہند بین الاقوامی اداروں جیسے کہ انڈین اوشین ٹونا کمیشن (آئی او ٹی سی) کے ساتھ بھی تعاون کر رہا ہے جو بحر ہند کے علاقے میں آئی یو یو ماہی گیری کو روکنے اور اسے ختم کرنے کے لیے کام کرتا ہے۔
قیمتوں میں نشیب و فراز کے مسئلے کو حل کرنے اور ماہی گیروں کے لیے منصفانہ اور متوقع آمدنی کو یقینی بنانے کے لیے مچھلی کی نقل و حمل کی سہولیات کے 27189 یونٹس (ریفریجریٹیڈ وہیکل، انسولڈ وہیکل، ٹو وہیلر/تھری وہیلر)، 21 جدید ترین ہول سیل مچھلی منڈیاں، 202 فش ریٹیل مارکیٹس، 6694 فش مارکٹ اور ای-مارک مچھلیوں کی ای-مارک مارکیٹس پی ایم ایم ایس وائی کے تحت کل 1654.51 کروڑ روپے کے اخراجات کے ساتھ ملک بھر کی تمام ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں مصنوعات کی حمایت کی جا رہی ہے۔ ماہی گیروں اور مچھلی کاشتکاروں کو حقیقی وقت اور قیمتوں کی درست معلومات فراہم کرنے اور بہتر قیمتوں پر گفت و شنید کرنے میں ان کی مدد کرنے کے لیے محکمہ نے 111 ہول سیل اور ریٹیل فش مارکیٹوں کے ذریعے تجارتی لحاظ سے اہم سمندری اور اندرون ملک ماہی گیری کی مچھلی مارکیٹ کی قیمتوں کو پکڑنے اور پھیلانے کے لیے 2018-19 کے دوران 'فش مارکیٹ پرائس انفارمیشن سسٹم (ایف ایم پی آئی ایس) کا آغاز کیا ہے۔ مزید برآں، محکمہ ماہی پروری نے اوپن نیٹ ورک فار ڈجیٹل کامرس ( او این ڈی سی) کے ساتھ مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے جس کا مقصد ایک ڈجیٹل پلیٹ فارم فراہم کرنا اور تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول روایتی ماہی گیروں، فش فارمرز پروڈیوسر تنظیموں اور فشریز سیکٹر کے کاروباری افراد کو ای-مارکیٹ پلیس کے ذریعے اپنی مصنوعات کی خرید و فروخت کے لیے بااختیار بنانا ہے۔
یہ جانکاری ماہی پروری، حیوانات اور ڈیری کے وزیر مملکت جناب جارج کورین نے آج ایوان زیریں -لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی۔
*******
ش ح۔ ظ ا
UR No.8430
(Release ID: 2112498)
Visitor Counter : 15