بھاری صنعتوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ای ویز کے لئے اہم معدنیات کی درآمد

Posted On: 18 MAR 2025 3:23PM by PIB Delhi

ملک میں ای گاڑیوں کی تیاری اور فروغ کے لیے خام مال، معدنی پروسیسنگ، بیٹری اور دیگر بنیادی ضروریات کے لیے ملک دوسرے ایشیائی ممالک پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، کیونکہ الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری کے لیے بنیادی خام مال لیتھیم اور دیگر اہم مواد ہے۔ فی الوقت، مینوفیکچرنگ میں سرمایہ کاری اور ایڈوانسڈ کیمسٹری سیلز ( اے سی سیز) کے لیے مجموعی طور پر ویلیو ایڈیشن  ہندوستان میں نہ ہونے کے برابر ہے اور اے سی سیز کی تقریباً پوری گھریلو مانگ اب بھی درآمدات کے ذریعے پوری کی جا رہی ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں کے لیے درآمد شدہ اے سی سی بیٹری کے انحصار کو کم کرنے کیلئے حکومت نے 12 مئی 2021 کو ملک میں ایڈوانس کیمسٹری سیل (اے سی سی) کی تیاری کے لیے پروڈکشن لنکڈ انسینٹیو ( پی ایل آئی) اسکیم کی منظوری دی۔ اسکیم کا کل تخمینہ 5 سال کی مدت کے لیے 18,100 کروڑ روپے ہے۔ اسکیم ملک میں ایک مسابقتی اے سی سی بیٹری مینوفیکچرنگ قائم کرنے کا تصور پیش کرتی ہے (50 جی ڈبلیو ایچ)۔

کانوں کی وزارت سے موصولہ اطلاع کے مطابق مرکزی کابینہ نے 29 جنوری-2025 کو 2024-25 سے 2030-31 تک سات سال کی مدت کے لیے نیشنل کریٹیکل منرل مشن (این سی ایم ایم ) کے آغاز کو منظوری دی ہے، جس میں 16,300 کروڑ روپے کے مجوزہ اخراجات اور 8 کروڑ روپے کی متوقع سرمایہ کاری کے تحت عوامی سطح پر سرمایہ کاری کی جائے گی۔ (پی ایس یوز) اور دیگر اسٹیک ہولڈرز- این سی ایم کا مقصد اہم معدنیات کی طویل مدتی پائیدار فراہمی کو محفوظ بنانا اور معدنیات کی تلاش اور کان کنی سے لے کر زندگی کے اختتامی مصنوعات سے فائدہ اٹھانے اور پروسیسنگ اور بازیافت تک کے تمام مراحل پر مشتمل ہندوستان کی اہم معدنی قدر کی زنجیروں کو مضبوط بنانا ہے۔

گھریلو پیداوار کو فروغ دینے اورای و بیٹریوں کے لیے درکار لتھیم، کوبالٹ اور دیگر اہم مواد پر ہندوستان کے انحصار کو کم کرنے کے لیے حکومت ہند نے اہم اقدامات کیے ہیں، جو درج ذیل ہیں:

مائنز اینڈ منرلز (ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیشن) ایکٹ، 1957 (ایم ایم ڈی آر) میں ترمیمی ایکٹ 17.08.2023  ڈبلیو ای ایف -2023 کے ذریعے ترمیم کی گئی ہے۔ ۔ ترمیمی ایکٹ-2023 مندرجہ ذیل التزام  فراہم کرتا ہے:

  • شیڈول I کے حصہ ڈی میں 24 اہم اور اسٹریٹجک معدنیات کی فہرست۔
  • شیڈول-I کے حصہ بی میں 12 جوہری معدنیات کی فہرست سے چھ معدنیات کا اخراج یعنی لیتھیم، ٹائٹینیم، بیرل اور بیریلیم بیئرنگ معدنیات، نیوبیم، ٹینٹلم اور زرکونیم بیئرنگ معدنیات اور ان کا مذکورہ بالا 24 اہم اور انتہائی اہم معدنیات کی فہرست میں شامل ہونا۔
  • ایکٹ کا سیکشن 11ڈی، جو مرکزی حکومت کو اختیار دیتا ہے کہ وہ خصوصی طور پر کان کنی کے لیز کی نیلامی اور شیڈول-I کے حصہ ڈی میں بیان کردہ اہم اور اسٹریٹجک معدنیات کے لیے جامع لائسنس تیار کرے۔
  • ایکٹ کے شیڈول VII میں شامل 29 معدنیات کی تلاش کا لائسنس۔

اس کے علاوہ، کانوں کی وزارت کو ایم ایم ڈی آر ایکٹ 1957 کے سیکشنا اے 20 کے تحت 21 اکتوبر 2024 کو ایک آرڈر کے ذریعے ایکسپلوریشن لائسنس دینے کے لیے بلاکس کی نیلامی کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ مرکزی حکومت نے 02024 قسطوں میں اہم اور اسٹریٹجک معدنیات کے 24 بلاکس کو کامیابی کے ساتھ نیلام کیا ہے۔

اہم معدنیات کی تلاش میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ گزشتہ تین  برسوں کے دوران جیولوجیکل سروے آف انڈیا (جی ایس آئی) نے اہم اور اسٹریٹجک معدنیات پر توجہ مرکوز کرنے والے 368 تلاش کے منصوبے شروع کیے ہیں۔ مالی سال 2024-25 میں 195 منصوبوں پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے، اور آئندہ مالی سال کے لیے 227 منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے۔

دھات اور نان میٹل ایسک کی کان کنی اور تلاش کے لیے "خودکار" راستے کے تحت 100فیصد ایف ڈی آئی کی اجازت ہے۔ ایک غیر ملکی کمپنی ایک ہندوستانی ذیلی کمپنی کو شامل کر سکتی ہے یا کسی موجودہ ہندوستانی کمپنی میں سرمایہ کاری کر سکتی ہے تاکہ کان کنی اور تلاش کے حقوق دینے کا اہل ہو سکے۔

معدنیات کے اہم شعبے کو سپورٹ کرنے کے لیے حکومت نے 25-2024 کے مرکزی بجٹ میں 25 معدنیات پر کسٹم ڈیوٹی ختم کر دی ہے اور 2 معدنیات پر بنیادی کسٹم ڈیوٹی (بی سی ڈی) کو کم کر دیا ہے۔

مرکزی بجٹ 2025-26 میں حکومت نے کوبالٹ پاؤڈر اور فضلہ، لیتھیم آئن بیٹری کے اسکریپ، لیڈ، زنک اور 12 مزید اہم معدنیات کو  ہندوستان میں مینوفیکچرنگ کے لیے ان کی دستیابی کو محفوظ بنانے اور ہندوستان کے نوجوانوں کے لیے مزید ملازمتوں کو فروغ دینے کی تجویز پیش کی۔

معدنیات کی وزارت اہم معدنیات کی قدر کی  چین کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد کثیر جہتی اور دو طرفہ پلیٹ فارمز میں مصروف ہے، جس میں متعدد مقاصد پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، بشمول معدنیات کی حفاظتی شراکت داری (ایم ایس پی) اور ہند-بحرالکاہل اقتصادی فریم ورک ( آئی پی ای ایف)، اہم معدنیات کی پروسیسنگ اور ری سائیکلنگ،(کریٹیکل انڈیا ٹیککنالوجی) اور یو ایس ای ٹی  ٹیکنالوجی سکیورٹی انی شی ایٹو (ٹی ایس آئی) اور دیگرپر عمل درآمد۔

کانوں کی وزارت نے ایک جوائنٹ وینچر کمپنی کھنج بدیش انڈیا ؛لمٹیڈ( کے اے بہ آئی ایل)

کے قیام کے ذریعے بیرون ملک معدنی اثاثے حاصل کرنے کے لیے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ اس کا اہم مشن بیرون ملک معدنی اثاثوں کی شناخت اور اسے حاصل کرنا ہے جو کہ اہم اور تزویراتی اہمیت رکھتے ہیں، خاص طور پر معدنیات جیسے لیتھیم، کوبالٹ اور دیگر ۔ کے بی آئی ایل - کابل نے ارجنٹائنا میں پانچ لیتھیم برائن بلاک کی تلاش اور کان کنی کے لیے ارجنٹائنا کے صوبے کیٹامارکا کے ایک سرکاری ادارے  کیمین کے ساتھ ایک ایکسپلوریشن اینڈ ڈیولپمنٹ معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کا رقبہ تقریباً 15,703 ہیکٹر ہے۔

یہ معلومات اسٹیل اور بھاری صنعتوں کے وزیر مملکت جناب بھوپتی راجو سری نواس ورما نے آج ایوان زیریں- لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی۔

 *******

ش ح۔ ظ ا

UR No.8428


(Release ID: 2112462) Visitor Counter : 25


Read this release in: English , Hindi