لوک سبھا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

لوک سبھا اسپیکر نے دہلی کے اراکین اسمبلی سے دہلی کو ایک ماڈل لیجسلیچر بنانے کی اپیل کی ، اس کی شاندار تاریخ پر روشنی ڈالی


دہلی میں نئی حکومت سے لوگوں کی توقعات اور خواہشات بہت زیادہ ہیں:  لوک سبھا اسپیکر

دہلی کے عوامی نمائندے دہلی کے لوگوں کے تئیں جواب دہ ہیں ، لیکن پورا ملک ان کے کام پر نظر رکھتا ہے:  لوک سبھا اسپیکر

عوامی نمائندوں کو بہترین سننے والا بننے کی کوشش کرنی چاہیے، ایک اچھا قانون ساز بننے کے لیے ایوان میں وقت دینا چاہیے:  لوک سبھا اسپیکر

ایوان میں تعطل نہیں ہونا چاہیے؛ اختلاف رائے کو معنی خیز ڈائیلاگ کے ساتھ باوقار طریقے سے ظاہر کیا جانا چاہیے:  لوک سبھا اسپیکر

کمیٹیاں منی لیجسلیچر کے طور پر کام کرتی ہیں؛ اراکین کو کمیٹیوں کی میٹنگوں میں حصہ لینا چاہیے:  لوک سبھا اسپیکر

پارلیمانی جمہوریت میں اپوزیشن کا کردار مثبت اور تعمیری ہونا چاہیے:  لوک سبھا اسپیکر

لوک سبھا اسپیکر نے دہلی قانون ساز اسمبلی کے اراکین کے لیے اورینٹیشن پروگرام کا آغاز کیا

Posted On: 18 MAR 2025 3:32PM by PIB Delhi

لوک سبھا اسپیکر جناب اوم برلا نے آج دہلی قانون ساز اسمبلی کے نومنتخب اراکین پر زور دیا کہ وہ اسے ایک ماڈل مقننہ بنائیں، کیونکہ نئی حکومت سے لوگوں کی توقعات اور خواہشات بہت زیادہ ہیں۔  اس پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہلی کے عوامی نمائندے دہلی کے لوگوں کے تئیں جواب دہ ہیں، لیکن پورا ملک ان کے کام پر نظر رکھتا ہے۔  اراکین پر زور دیتے ہوئے کہ وہ لوگوں کو درپیش مسائل کے اختراعی حل تلاش کرنے کا کام کریں  اور مسابقتی جذبے کے ساتھ خیالات اور تجربات کا اشتراک کریں، جناب برلا نے کہا کہ قانون سازوں کا مقصد اسمبلی میں ایسی اختراعات متعارف کرانا ہونا چاہیے جو لوگوں کے مسائل کو حل کرسکیں اور انہیں درپیش چیلنجوں سے نمٹ سکیں۔  انہوں نے مزید کہا کہ دہلی سے سامنے آنے والے حل نہ صرف دہلی کی خدمت کریں گے، بلکہ ملک کی دیگر ریاستوں اور قانون ساز اداروں کے لیے بھی ایک مثال قائم کریں گے۔

انہوں نے مشورہ دیا کہ اراکین کو اپنے حلقوں تک محدود سوچ رکھنے کی بجائے مجموعی طور پر دہلی کی ترقی پر توجہ دینی چاہیے۔  اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ دہلی ہندوستان کا  ایک عکس ہے، جہاں متنوع زبانوں، مذاہب اور ثقافتوں کے ساتھ تمام ریاستوں کے لوگ اکٹھے رہتے ہیں، جناب برلا نے کہا کہ ان متنوع امنگوں اور توقعات کو پورا کرنا منتخب نمائندوں کی ذمہ داری ہے۔  جناب برلا آج دہلی قانون ساز اسمبلی کے احاطے میں دہلی ودھان سبھا کے اراکین کے لیے دو روزہ واقفیت / اورینٹیشن پروگرام کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔  واقفیت پروگرام کا اہتمام دہلی ودھان سبھا اور پارلیمانی ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ فار ڈیموکریسیز (پی آر آئی ڈی ای) لوک سبھا سکریٹریٹ کے ذریعے کیا جا رہا ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ اراکین اسمبلی کو عوام کی امیدوں اور امنگوں کو پورا کرتے ہوئے ایوان کے اصولوں، طریقہ کار اور کنونشنوں پر عمل کرنا چاہیے، جو جمہوری جذبے اور آئینی اقدار کو برقرار رکھتے ہیں۔  انہوں نے ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال اور اراکین کی صلاحیت سازی پر بھی زور دیا، تاکہ مقننہ کو انتظامی جواب دہی کے لیے ایک زیادہ موثر پلیٹ فارم بنایا جاسکے۔  اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ مقننہ نتیجہ خیز مکالموں کا پلیٹ فارم ہیں، جناب برلا نے اس بات پر زور دیا کہ ایوان کے اندر کوئی تعطل نہیں ہونا چاہیے اور اختلاف رائے کا اظہار باوقار انداز میں اور بامعنی گفتگو کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔  اسپیکر نے ان پر زور دیا کہ وہ اپنی عوامی زندگی میں طرز عمل اور اخلاقیات کے اعلیٰ ترین معیار کو برقرار رکھیں۔

دہلی قانون ساز اسمبلی کی شاندار تاریخ کا خاکہ پیش کرتے ہوئے، جس نے جدوجہد آزادی اور جدید ہندوستان کے جمہوری نظام کے قیام کا قریب سے مشاہدہ کیا، اسپیکر نے اراکین پر زور دیا کہ وہ اس روایت کو برقرار رکھیں اور اسے مزید مضبوط کریں۔  انہوں نے کہا کہ ایم ایل اے کا طرز عمل اور اسمبلی میں ان کے اقدامات اور مباحثے ملک کی جمہوری روایات کو تقویت دیتے ہیں۔  جناب برلا نے کہا کہ عوامی نمائندوں کو بہترین سامعین بننے کی کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ سننا بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ بولنا۔  انہوں نے مزید کہا کہ ایک اچھا اسپیکر بننے کے لیے ایک اچھا سننے والا ہونا ضروری ہے۔  جناب برلا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ماضی کے اعمال، مباحثوں، قوانین اور نئے اختراعی خیالات کو سیکھنے اور سمجھنے کی ذہنیت کے ساتھ کام کرنا ضروری ہے۔  جناب برلا نے کہا کہ عوامی نمائندوں کو قانون ساز اسمبلی کے قواعد و ضوابط، ہندوستان کے آئین، خاص طور پر ان حصوں سے واقف ہونا چاہیے جو آپ کی ریاست، فرائض اور ذمہ داریوں سے متعلق ہیں۔  اسپیکر نے مزید کہا کہ قانون ساز جتنا زیادہ باخبر ہوگا، وہ اسمبلی میں اتنا ہی زیادہ مؤثر ہوگا۔  جناب برلا نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ٹیکنالوجی کو عوامی نمائندے جتنا زیادہ اپنائیں گے، ان کی بات چیت اور گفت و شنید اتنی ہی بہتر ہوگی۔

اس موقع پر جناب برلا نے قانون سازی کے مسودے کے علم کی اہمیت کا اعادہ کیا اور کہا کہ عوامی نمائندے جو قانون سازی کے مسودے میں ماہر ہیں وہ اپنی ریاست اور حکومت کی ترقی میں خاطر خواہ تعاون کر سکتے ہیں۔  قانون سازی کا اچھا مسودہ تیار کرکے ، ایک ایم ایل اے اسمبلی کی مدد کر سکتا ہے اور موثر قانون سازی اور بہتر عوامی خدمات کی فراہمی میں حکومت کی مدد کرسکتا ہے۔  اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ پارلیمانی جمہوریت میں اپوزیشن کا کردار مثبت اور تعمیری ہونا چاہیے کیونکہ جمہوریت کی بنیاد بات چیت اور اتفاق رائے پر مبنی ہوتی ہے، جناب برلا نے کہا کہ اراکین کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ان کی زبان، طرز عمل اور استدلال پارلیمانی معیار کے مطابق ہوں۔  انہوں نے مزید کہا کہ جمہوریت میں حکمران جماعت اور اپوزیشن دونوں کو اہم کردار ادا کرنا ہوتا ہے اور ان کی مثبت شراکت جمہوری عمل کو مضبوط کرتی ہے۔  کمیٹیوں کو منی لیجسلیچر قرار دیتے ہوئے جناب برلا نے اراکین پر زور دیا کہ وہ کمیٹی کے اجلاسوں میں فعال طور پر شرکت کریں۔  دہلی قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر جناب وجیندر گپتا؛ دہلی کی وزیر اعلی محترمہ ریکھا گپتا؛ دہلی قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محترمہ آتشی؛ اور ڈپٹی اسپیکر ، دہلی قانون ساز اسمبلی ، جناب موہن سنگھ بشٹ نے اس موقع پر شرکت کی اور ممتاز اجتماع سے خطاب کیا۔  اس موقع پر مرکزی وزراء، دہلی کی نمائندگی کرنے والے ممبران پارلیمنٹ اور قانون ساز اسمبلی کے ممبران موجود تھے۔

******

ش ح۔ م م ۔ م ر

U-NO. 8447


(Release ID: 2112413) Visitor Counter : 29


Read this release in: English , Hindi , Tamil