سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

نائٹروجن کے زیادہ استعمال کے نئے طریقے کار سے فصل کی پیداوار  اور  کارکردگی کو بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے

Posted On: 07 JAN 2025 4:14PM by PIB Delhi

محققین نے ثابت کیا ہے کہ پودوں میں نائٹرک آکسائیڈ (این او) کی سطح کو کم کرنے سے چاول اور عربی ڈوپسیس میں نائٹروجن کے  اضافے اور نائٹروجن کے استعمال کی کارکردگی (این یو ای) کو نمایاں طور پر بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ یہ مطالعہ بہتر، پائیدار اور موثر زرعی طریقوں کے لیے ایک امید افزا راستہ فراہم کرتا ہے، جو محققین کو پودوں میں این او کی سطح کو کم کرنے کے طریقے تلاش کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔

این یو ای کو بہتر بنانے کے لیے موجودہ ٹیکنالوجیز بنیادی طور پر زرعی طریقوں پر توجہ مرکوز کرتی ہیں، جیسے کہ غیر نامیاتی نائٹروجن کھاد کو تقسیم شدہ خوراکوں میں استعمال کرنا، این-کھادوں کی دھیمی خوراک وغیرہ۔ تاہم، نائٹروجن آکسائیڈز (این او ایکس) کے اضافی  اخراج کی وجہ سے ان طریقوں میں کسانوں کے اضافی عملی اخراجات کے ساتھ ساتھ متعدد خامیاں بھی موجود ہیں اور یہ طریقہ کار ماحول دوست بھی نہیں ہے۔  یہ طریقہ  کار غیر نامیاتی کھادوں کی تیاری کے دوران عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں بھی حصہ لیتے ہیں۔ لہذا، سائنسدان  غذائی  سکیورٹی  اور  ماحولیاتی  پائیداریت  کے عالمی چیلنجوں سے نمٹنے  اور این یو ای  کو بہتر بنانے کے لئے  دیگر  طریقہ کار  آزما رہے ہیں ۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پلانٹ جینوم ریسرچ (این آئی  پی جی آر) کے ایک مطالعہ سے یہ ظاہر ہوتا  ہے کہ نائٹریٹ ٹرانسپورٹرز، خصوصا ہائی-ایفینیٹی ٹرانسپورٹرز (ایچ  اے ٹیز) کےبہتر انتظام کے ذریعہ این او سطح کو  برقرار رکھتے ہوئے  اضافی این یو ای کی نظامی سطح  حاصل کی جاسکتی ہے۔ این او کی سطح کے فارماکولوجیکل اور جینیاتی ہیرا پھیری کے ذریعے این یو ای  کو ماڈیول کرنے کا نیا طریقہ نائٹروجن کے کم استعمال یا کم نائٹروجن (این) کی دستیابی کے تحت پیداوار کو بہتر بنانے کے لیے نئے طریقوں کی ترقی کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

ڈاکٹر جگن ناتھ سوین، ڈاکٹر جگادیس گپتا کپوگنتی، ڈاکٹر ندھی یادو، ڈاکٹر سنجیب بال سامنت پر مشتمل ٹیم نے دواسازی کے طریقہ کار کو نافذ کیا،جہاں جنگلاتی قسم (ڈبلیو ٹی) پودوں کو این او  ڈونر (ایس این اے پی) اور این او اسکیوینجر (سی پی ٹی آئی او) اور این یو ای کی نگرانی میں  آزمایا گیا ۔

قدرتی این او اسکیوینجر فائیٹوگلوبن کے ذریعہ ہائی فینیٹی نائٹریٹ ٹرانسپورٹرز (ایچ اے ٹیز)،  جیسے  کہ این ٹی آر 2.1 اور  این ٹی آر  2.4  کر بڑھا یا گیا، جس سے  خصوصا کم  این او  صورت حال میں زیادہ  قابل عمل نائٹروجن میں اضافہ ہوا۔ نائٹروجن کی بڑھی  ہوئی سطح ، امینو ایسڈ کی مقدار  اور پودوں کی مجموعی نشوونما کا مشاہدہ  کرتے ہوئے   این یو ای  کا اندازہ  لگایا گیا ہے۔

یہ اختراعی طریقہ کار ، روایتی، مہنگے  اور ماحولیات کے لئے نقصان دہ کھادوں سے انحراف کا موقع دیتا ہے اور اس کے برعکس، یہ جینیاتی اور فارما کولوجیکل طریقے  سے  این او  سطح  کو منظم کرتا ہے ۔ وہیں  یہ  نائٹروجن کی  کم  طلب کے ذریعہ  پیدا وار  میں  اضافے  کے  پائیدار طریقہ کار  کی بھی پیش کش کرتا ہے۔

جب نائٹروجن کی سطح کم ہوتی ہے، تو پودے ہائی فائنٹی نائٹریٹ ٹرانسپورٹرز کو فعال بنا دیتے ہیں۔ یہ ایک  ایسا عمل  ہے، جو متحرک طور پر نائٹرک آکسائیڈ کے ذریعے منظم ہوتا ہے۔ این او  کے ذریعہ  شروع ہوا  پروٹین کا نائٹروسائی لیشن،  این یو ای کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جینیاتی اور فارما کولوجیکل اقدامات ،جن سے  این او  کی سطح  منضبط  ہوتی  ہے ، انہیں پودوں کی اضافی نشوونما اور نائٹروجن کے استعمال کے لئے دکھا یا گیا ہے ۔

اس تحقیق  میں پارلیمنٹ کے ذریعہ قائم کردہ قانون اے این آر ایف،2023 (سابقہ ایس ای آر بی) کا تعاون شامل رہا۔

ڈاکٹر کپوگنتی بتاتے ہیں کہ موجودہ مطالعہ نوویل این او سکیوینجنگ فارمولیشن تیار کرنے کے لیے ایک امید افزا راستہ پیش کرتا ہے، جو نائٹروجن کھاد کی ضرورت کو کم کرنے کے لیے این یو ای کو بہتر بنانے کے لیے مختلف زرعی نظاموں پر نافذ کیا جا سکتا ہے۔ ان کی ٹیم بیکٹیریا کی شناخت کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جو مٹی میں متعارف کرائے جانے پر پودوں میں این او  اسکیوینجرکے طور پر کام کر سکتے ہیں ،جس کی وجہ سے نائٹروجن کے استعمال کی کارکردگی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔


https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001PAXH.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002ANR6.jpg

این آئی  پی جی آرمحققین کے گروپ نے مطالعہ میں حصہ لیا (بائیں سے دائیں جگناتھ سوین، ڈاکٹر جگادیس گپتا کپوگنتی، ندھی یادو، سنجیب بال سامنت)

******

U.No:4950

ش ح۔ض ر۔ق ر


(Release ID: 2090937) Visitor Counter : 68


Read this release in: English , Hindi , Tamil