ارضیاتی سائنس کی وزارت
پارلیمانی سوال: چوتھا عالمی کورل بلیچنگ ایونٹ
Posted On:
04 DEC 2024 3:39PM by PIB Delhi
سائنس اور ٹیکنالوجی اور ارضیاتی سائنس کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ ہندوستان میں، چوتھے عالمی کورل بلیچنگ ایونٹ (جی سی بی ای4) نے جزائر انڈمان و نکوبار ، خلیج منار، لکشدیپ اور خلیج کچھ جیسے علاقوں کو متاثر کیا ہے۔
نمبر شمار
|
ہندوستان کے کورل ریف علاقے، جنھوں نے چوتھی عالمی کورل بلیچنگ کا سامنا کیا
|
بلیچنگ کے اثرات
|
بلیچنگ کے اسباب
|
-
|
جزائر انڈمان و نکوبار
|
صرف انڈمان کے علاقے میں خاص طور پر جنوبی انڈمان کے علاقے میں چھوٹے پیمانے پر بلیچنگ کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔
|
سمندر کی سطح کے درجہ حرارت میں اضافہ: ای آئی نینو ایفکٹ
|
-
|
خلیج منّار
|
کچھ ناہموار علاقوں میں چھوٹے پیمانے پر بلیچنگ
|
سمندر کی سطح کے درجہ حرارت میں اضافہ: ای آئی نینو ایفکٹ
|
-
|
لکشدیپ
|
وسیع پیمانے پر بلیچنگ
|
سمندر کی سطح کے درجہ حرارت میں اضافہ: ای آئی نینو ایفکٹ
|
حکومت ہند نے کورل ریف( مرجان کی چٹان )کے ماحولیاتی نظام کے انتظام اور حفاظت کے لیے سیٹلائٹ امیجری جیسی جدید ٹیکنالوجیز کا استعمال کرتے ہوئے کئی پروگرام شروع کیے ہیں:
- ماحولیات جنگلات اور آب و ہوا کی تبدیلی کی وزارت ( ایم او ای ایف اینڈ سی سی ) کے ما تحت ادارےنیشنل سینٹر فار سسٹین ایبل کوسٹل مینجمنٹ (این سی ایس سی ایم)، کورل ریف اِن سیٹو آبزرویشن نیٹ ورک (سی آر ای او این) پروگرام پر کام کر رہا ہے جو طویل مدتی کورل ریف کی صحت کی نگرانی، کیلسی فیکیشن کی شرح اور سمندری تیزابیت پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ڈیٹا بوائے اور خودکار موسمیاتی اسٹیشنز کو بھارتی ساحلی علاقوں کے مختلف کورل ریف مقامات پر نصب کیا جا رہا ہے، جن میں انڈمان و نکوبار اور لکشدیپ جزائر شامل ہیں۔این سی ایس سی ایم نے بھارت کے کورل ریفس کے 1439 مربع کلومیٹر علاقے کو کوسٹل ریگولیشن زون نوٹیفکیشن(سی آر زید) 2011 اور 2019 کے مطابق نقشہ بند کیا ہے۔ حال ہی میں،این سی ایس سی ایم نے وزارت ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کو ایک تجویز پیش کی ہے جس میں لکشدیپ جزائر کے کورل حیاتیاتی تنوع کو نقشہ بند کرنے کی بات کی گئی ہے۔ اس تجویز کا مقصد لکشدیپ کے کورل ریفس کے موجودہ دائرہ کار اور حالت (صحت) کا تعین کرنا ہے، جو نیشنل کوسٹل مشن کے تحت کیا جائے گا۔
- اسپیس ایپلیکیشنز سینٹر (ایس اے سی)، اِسرو احمد آباد نے محکمہ بایو ٹیکنالوجی اور محکمہ خلاء(ڈی بی ٹی اینڈڈی او ایس) کی ہدایت پر اِنوینٹری آف انڈین کورل ریفس:نقشہ سازی، نگرانی اور ان کا صحت جائزہ پر مبنی ایک منصوبہ شروع کیا ہے۔ اس مطالعے کے تحت ایس اے سی 1:25,000 کے پیمانے پر بھارت کے کورل ریف ریجنس کی نقشہ بندی کر رہا ہے اور مہاراشٹر کے ملوان ریفس کی نقبہ بندی کی ہے، جس میں ریسوس سیٹ -2 لینیئر ایمیجنگ سیلف اسکینر (ایل آئی ایس ای س)- IV سینسر کے ڈیٹا کا استعمال کیا گیا ہے، جو 2020 ٹائم فریم پر مشتمل ہے اور جس میں ڈیجیٹل امیج پروسیسنگ، امیج کلاسیفیکیشن اور پوسٹ-کلاسیفیکیشن اینالیسز پر مبنی جغرافیائی معلومات کے نظام (جی آئی ایس) کا استعمال کیا گیا ہے۔اِس نئے جیو اسپیشل ڈیٹا بیس کا اِسروکے پہلے سے موجود کورل ریف ڈیٹا بیس ، ایس اے سی سے موازنہ کیا گیا ہے،جو08-2004 ٹائم فریم پر مشتمل ہے اور جو دہائیوں پر مبنی نگرانی کیلئے ریسورس سیٹ -1 ایل آئی ایس ایس - IV اور ایل آئی ایس ایس-III سینسرز کے ڈیٹا پر مبنی ہے۔
- انڈین نیشنل سینٹر فار اوشین انفارمیشن سروسز (آئی این سی او آئی ایس) حیدرآباد وزارت ارضیاتی سائنس کے تحت کورل بلیچنگ ایلرٹ سروسز فراہم کرتی ہے، جو انڈین کورل اِیکو سسٹمز کے لیے سٹیلائٹ سے حاصل کردہ سمندری سطح کے درجۂ حرارت پرمبنی ہوتا ہے۔ یہ انتباہات تھرمل اِسٹریس کی وجہ سے بلیچنگ سے متاثر کورل ریجن کو نمایاں کرتی ہیں۔
- نیشنل سینٹر فار کوسٹل ریسرچ (این سی سی آر)چنئی، ایم او ای ایس کے تحت پاک بے، جزیرۂ انڈمان اور جزیرۂ لکشدیپ میں کورل بلیچنگ مانیٹرنگ اسٹڈیز کر رہا ہے۔ ریف کی صحت کی باقاعدہ نگرانی، بلیچنگ ایونٹ اور ریکوری کی صورتحال، ریموٹ سینسنگ کا استعمال کرتے ہوئے کورل ریف کی نقشہ سازی اور اس سے متعلقہ کوششوں اور بحالی کی سرگرمیاں بھی کی جا رہی ہیں۔
زولوجیکل سروے آف انڈیا مختلف کوششوں جیسے ایل ٹی پی ایم پی، کورل ریسٹو ریشن، کورل ٹرانسپلانٹیشن،کلے ریکٹی نینئن کورلس کی تولیدی حیاتیات پر تحقیق،بلیچنگ-ریسسٹنٹ کورلس سے متعلق اسٹڈیز اور zooxanthellae پر مطالعہ اور ایسی ہی سرگرمیوں کے لیے وقف ہے۔
نمبر شمار
|
کورل ریف کے علاقے
|
کورل بلیچنگ اسٹیٹس24 - 2023
|
پوسٹ بلیچنگ اسٹیٹس
|
-
|
جزائر انڈمان نکور
|
15-18فیصد صرف جنوبی انڈمان جزائر میں
|
زیادہ تر چٹانیں برآمد ہو گئیں۔ اسٹیٹس کو ریکارڈ کرنے کے لیے مطالعہ جاری ہے۔
|
-
|
خلیج منار
|
27فیصد
|
زیادہ تر چٹانیں برآمد ہو گئیں۔ اسٹیٹس کو ریکارڈ کرنے کے لیے مطالعہ جاری ہے۔
|
-
|
لکشدیپ
|
84.6فیصد
|
کچھ چٹانیں برآمد ہوئیں۔ اسٹیٹس کو ریکارڈ کرنے کے لیے اسٹڈیز جاری ہیں۔
|
ایس اے سی احمد آباد کے ذریعہ انڈین کورل ریف کی انوینٹری پر پروجیکٹ کے ابتدائی نتائج تیرہ سالوں (2007 سے 2020) کے دوران مہاراشٹر میں ملوان ریف کے لیے ریف کے رقبے میں واضح نقصان کی نشاندہی کرتے ہیں۔ خلیج منار کے لیے نقشہ کردہ گیارہ چٹانوں میں سے بارہ سے چودہ سال (2004/05 سے 2018) کے عرصے میں چار چٹانوں (کوسواری، نلا تنی تیوو، پچائی موپن والسائی اور شنگل ریف) کے لیے یہی حالت دیکھی گئی ہے۔
حکومت ہند نے برصغیر پاک و ہند کے کورل ریف کو درپیش دباؤکو کم کرنے کے لیے درج ذیل اقدامات کیے ہیں:
- زولوجیکل سروے آف انڈیا (زیڈ ایس آئی) 2002 کے بعد سے بحالی کی حکمت عملیوں اور ماحولیاتی خطرات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے، اندرونی مشاہدات کے ذریعے کورل ریف کا ڈیٹا اکٹھا کر رہا ہے۔
- کوسٹل ریگولیشن زون نوٹیفکیشن 2011 اور 2019 کے تحت کورل اور کورل ریفز کو سی آر زیڈ-اے آئی علاقے کے طور پر درجہ بند کیا گیا ہے۔
- میرین پروٹیکٹڈ ایریاز (ایم پی اے) کو انسانی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے قائم اور توسیع دی گئی ہے، جس سے ماحولیاتی نظام (کورل ریف) کی بحالی کو فروغ دیا گیا ہے۔
- زیڈ ایس آئی نے جزائر انڈمان میں محفوظ علاقوں کے باہر 143.46 مربع کلومیٹر کے کورل ریفسز کا نقشہ بنایا ہے اور وہ کورل کی افزائش اور تولیدی حکمت عملیوں پر تحقیق کر رہا ہے۔
- خلیج کچھ میں بھارت کے سب سے بڑے کورل کی نقل مکانی کے منصوبے نے ریف کی بحالی میں مدد کے لیے 16,000 سے زیادہ کورلز کو کامیابی کے ساتھ نئے مقامات پر منتقل کیا ہے۔
- بھارت کورلز کے تحفظ کی کوششوں کو بڑھانے اور عالمی معیارات کے مطابق کرنے کے لیے این او اے اے اور آئی سی آر آئی جیسی بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ تعاون کرتا ہے۔
- حکومت نے وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ، 1972 کے تحت کورلز کے لیے قانونی تحفظات اور کوسٹل ریگولیشن زون (سی آر زیڈ) کے نوٹیفیکیشن کو نافذ کیا ہے تاکہ کورلز ریفز پر اثر انداز ہونے والی انسانی سرگرمیوں کو کنٹرول کیا جا سکے۔
- خلیج منار اور پاک بے میں کورلز کی کامیاب بحالی این سی سی آر نے محکمہ ماحولیات اور جنگلات (وائلڈ لائف ڈویژن-گلف آف منار میرین پارک اتھارٹی) کے ساتھ مشترکہ طور پر کی تھی۔ ایکروپورا ، پورائٹس، فیوائٹس، فیوی آ، گونی ایسٹریا اور مونٹی پورا انواع کو کورلز بحالی کے پروگراموں کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ش ح۔م م۔ ص ج
U-N-3423
(Release ID: 2080729)
Visitor Counter : 40