قومی انسانی حقوق کمیشن
azadi ka amrit mahotsav

این ایچ آر سی کا یوم تاسیس اور بزرگ افراد کے حقوق پر قومی کانفرنس


مہمان خصوصی کے طور پر خطاب کرتے ہوئے، نائب صدر  جمہوریہ ، جناب جگدیپ دھنکھڑ نے کہا کہ جب انسانی حقوق کے تحفظ کی بات آتی ہے اور  خصوصی طور پر اقلیتوں، پسماندہ  اور معاشرے کے کمزور طبقات کے حقوق کے تحفظ کی بات آتی ہے تو بھارت دوسرے ممالک سے بہت آگے نظر آتا ہے

نائب صدر جمہوریہ  نے دنیا کے دیگر حصوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر عالمی خاموشی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انسانی حقوق کے تہذیبی محافظ کے طور پر بھارت کے غیر معمولی کردار کو اجاگر کیا

این ایچ آر سی  کی قائم مقام چیئرپرسن، محترمہ وجیا بھارتی سیانی نے کہا کہ ایک ملک  کے طور پر ہندوستان کی ترقی ایک تہذیبی اخلاق کے طور پر انسانی حقوق کے تحفظ کے اس کے عزم سے جڑی ہوئی ہے

یہ کمیشن انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لئے کام کرتا ہے جس میں حراستی تشدد کے معاملات سے نمٹنے کے دوران پولیس اصلاحات کی وکالت بھی شامل ہے: این ایچ آر سی کی قائم مقام چیئرپرسن

جائے واردات پر پہنچ کر کمیشن کی اس جانچ پڑتال  کا بھی ذکر کیا گیا جس سے مغربی بنگال میں ہونے والی سندیش کھالی تشدد کے متاثرین کو انصاف مانگنے سے روکنے کے لئے ڈرانے دھمکانے اور وہاں پر موجود خوف کا پتا چلتا ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 18 OCT 2024 4:21PM by PIB Delhi

انسانی حقوق کے قومی کمیشن (این ایچ آر سی)  انڈیا نے آج وگیان بھون، نئی دہلی میں اپنا 31 واں یوم تاسیس منانے کے لیے  ایک تقریب اور بزرگ افراد کے حقوق پر ایک قومی کانفرنس کا اہتمام کیا۔ یہ کمیشن 12 اکتوبر 1993 کو قائم کیا گیا تھا۔ تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے، ہندوستان کے نائب صدر جمہوریہ ، جناب جگدیپ دھنکھڑنے کہا کہ بھارت کا انسانی حقوق کا ریکارڈ بے مثال ہے۔ جب انسانی حقوق کے تحفظ  اور خصوصی طور پر اقلیتوں، پسماندہ اور معاشرے کے کمزور طبقات کے حقوق کے تحفظ کی بات کی جاتی ہےتو یہ ملک دیگرممالک   سے بہت آگے نظر آتا ہے۔ الگ تھلگ واقعات بھارت اور اس کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کی تشریح نہیں کر سکتے۔ انہوں نے بعض اداروں کے انسانی حقوق کے ساتھ ہیرا پھیری کے رجحان کو خارجہ پالیسی کے ذریعہ دوسروں پر طاقت کے استعمال پر تنقید کی۔ نائب صدر نے دنیا کے دیگر حصوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر عالمی خاموشی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انسانی حقوق کے تہذیبی محافظ کے طور پر بھارت کے غیر معمولی کردار کو اجاگر کیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001BV7P.jpg

جناب دھنکھڑ نے کہا کہ ملک کے ہر شہری کو انسانی حقوق کا چمپئن بننا ہوگا اور اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ کوئی بھی ان کے ساتھ مالی ہیرا پھیری نہ کرے۔ قومی مفاد کو سیاسی نظریہ سے قطع نظر دیکھنا چاہیے۔ انہوں نے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بھارت کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کو خراب کرنے کے لیے غیر منصفانہ طور پر  کام کرنے والی نقصان دہ قوتوں کے خلاف بھی خبردار کیا۔

نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ ہندوستان کووڈ-19 کی وبا کے وقت سے لے کر اب تک 850 ملین سے زیادہ لوگوں کو رنگ، ذات اور طبقے سے قطع نظر مفت راشن فراہم کرا رہا ہے۔ ہندوستان  میں  بھوک کی صورتحال پر بات کرنے والوں کو اپنے آپ پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ملک میں قانون کے سامنے سب کی  برابری عیاں  ہے۔ دنیا کو اس کے بارے میں جاننے کی ضرورت ہے اور کس طرح استفادہ کنندگان کے کھاتے میں براہ راست منتقلی نے ملک میں بدعنوانی کو بے اثر کیا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002E7HF.jpg

جناب  دھنکھڑنے ہندوستان میں غیر امتیازی ترقی کی تبدیلی  لانے والی دہائی پر روشنی ڈالی جس سے طبقے، ذات پات سے قطع نظر آبادی کے ہر طبقے کے معیار زندگی کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلی دہائی میں ہندوستان کی اقتصادی ترقی تیزی سے بڑھ رہی ہے، نہ رکنے والی ہے اور یہ پرامڈیکل نہیں ہے۔ سب کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ سستی رہائش، گیس کنکشن، نل کا پانی، انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی، روڈ کنیکٹیویٹی، اور یہ غیر امتیازی پیشرفت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ترقیاتی منصوبہ  صرف  اسی وجہ لایا گیا ہے کہ وہ  انسانی حقوق کے حتمی مقصد کی پورا کرتا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image00311MI.jpg

اس سے پہلے ، این ایچ آر سی کی قائم مقام چیئرپرسن، محترمہ  وجیا بھارتی سیانی نے کہا کہ یہ  کمیشن انسانی حقوق کے بارے میں بیداری پیدا کرکے اور حاشیہ پر رہنے والوں بشمول ٹرانس جینڈر افراد کو بااختیار بناتے ہوئے سب کے لیے وقار، آزادی اور بہبود کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ ان کی مدد کرنے کے لیے ہے کہ وہ اپنے حقوق کا اظہار کریں اور  ملک کی ترقی میں تعاون کریں۔  یہ ماحولیاتی حقوق کی ضرورت پر بھی زور دیتا ہے، پائیدار طریقوں اور آلودگی کے لیے جوابدہی پر زور دیتا ہے۔ اس کے یوم تاسیس اور کامیابیوں کا جشن مناتے ہوئے، ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم کمزور طبقات  کی بہتری کے لیے پرعزم رہیں، ان کے انسانی حقوق کو ان کے منفرد حالات کے پیش نظر   ہمدردی کے ساتھ ترجیح دیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک ملک  کے طور پر ہندوستان کی ترقی انسانی حقوق کے تئیں اس کی وابستگی سے جڑی ہوئی ہے، جو ہماری تہذیب میں گہرائی سے سرایت کر گئی ہے اور ہمارے آئین میں درج ہے۔ انفرادی وقار کا احترام ہندوستانی اخلاقیات میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، جس کی جڑیں ویدوں اور گیتا جیسے قدیم متون میں پائی جاتی ہیں۔  دنیا کی کل آبادی کے چھٹے حصے کےملک  کے طور پر، ہندوستان انفرادی وقار اور آزادی کو فروغ دینے میں دنیا کے لیے ایک رول ماڈل بن رہا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image004W5E8.jpg

این ایچ آر سی کی قائم مقام چیئرپرسن نے کہا کہ اپنی پوری تاریخ میں، این ایچ آر سی، انڈیا نے تاریخی معاملات کو حل کیا ہے اور ملک میں انسانی حقوق کو برقرار رکھنے کے لیے اہم سفارشات کی ہیں۔ کمیشن انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے وسیع پیمانے پر توجہ دیتا ہے، جن میں حراستی اموات، بندھوا مزدوری، پسماندہ گروہوں کا استحصال، اور طبی دیکھ بھال سے انکار شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کمیشن نے مغربی بنگال کے سندیش کھالی میں خواتین کے خلاف ہراسانی اور جنسی زیادتی کی سنگین رپورٹس پر کارروائی کی۔ این ایچ آر سی  کی طرف سے کی گئی اسپاٹ انکوائری میں ایسی  خوف اور دھمکی کی فضا کا انکشاف ہوا جس نے متاثرین کو انصاف کے حصول سے روکا۔

محترمہ وجیا بھارتی سیانی نے کہا کہ این ایچ آر سی  نے شکایات کے ازالے کے ساتھ ساتھ آزادانہ انکوائریاں کیں، گزشتہ سال کے دوران 30 معاملات میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کی۔ اس نے جیلوں، اسکولوں اور صحت کے مراکز جیسی سہولیات کا بھی اسپاٹ وزٹ کیا۔ یہ کوششیں حکومتی پروگراموں کے نفاذ کی نگرانی اور بہتری کے لیے شعبوں کی نشاندہی کرنے میں مدد کرتی ہیں۔ کمیشن کی نگرانی کو بڑھانے کے لیے، اس کے خصوصی نمائندے اور مانیٹر پولیس اصلاحات، بچوں کے حقوق اور صحت جیسے اہم مسائل پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image005R0A4.jpg

این ایچ آر سی کے سکریٹری جنرل، جناب بھرت لال نے اپنے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ کمیشن سب کے لیے عزت اور وقار کی ثقافت کو فروغ دیتا ہے۔ کمیشن کے وسیع مینڈیٹ کی ایک جھلک پیش کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال میں 68 ہزار سے زائد شکایات درج کی گئی ہیں اور تقریباً 70 ہزار کو نمٹا دیا گیا ہے اور 17 کروڑ سے زیادہ روپیے  متاثرین اور ان کے لواحقین کو دیے گئے ہیں۔

جناب لال نے کہا کہ این ایچ آر سی کی قومی مشاورت، کور گروپ میٹنگز اور اوپن ہاؤس ڈسکشن ایک اور طریقہ کار ہے جس کے ذریعے یہ اسٹیک ہولڈرز جیسے کہ سرکاری عہدیداروں، این جی اوز اور سی ایس اوز کے ارکان، انسانی حقوق کے محافظوں اور موضوع کے ماہرین کے ساتھ بات چیت کرتا ہے۔ کام کی جگہوں پر خواتین کو درپیش چیلنجوں کو اجاگر کرنے کے لیے، کمیشن نے کام اور عوامی مقامات پر خواتین کی حفاظت پر ایک قومی سمپوزیم کا انعقاد بھی کیا، جس میں اہم اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ بھیک مانگنے  والے افراد کا تحفظ اور بحالی، بیواؤں کے حقوق کے لیے، اور بچوں کے حقوق کےلئے  اور  بچوں کے جنسی استحصال کے مواد(سی ایس اے ایم ) کے خلاف پچھلے ایک سال کے دوران کمیشن نے کام کیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image006RE4N.jpg

جناب لال نے کہا کہ این ایچ آر سی، انڈیا دیگر قومی کمیشنوں، ریاستوں میں ان کے ہم منصبوں اور ریاستی انسانی حقوق کمیشنوں کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔ یہ مختلف بین الاقوامی فورمز پر انسانی حقوق کی بات چیت کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ ایشیا پیسیفک فورم آف ہیومن رائٹس کا بانی رکن ہے اور سرحدوں کے پار انسانی حقوق کو فروغ دینے کے لیے دیگر قومی انسانی حقوق کے اداروں کے ساتھ جنوب جنوب تعلقات استوار کرنے میں سرگرم عمل رہا ہے۔ کمیشن کی مختلف دیگر بین الاقوامی انسانی حقوق کے فورموں میں بھی نمایاں نمائندگی ہے، جس میں  کامن ویلتھ فورم آف نیشنل ہیومن رائٹس انسٹی ٹیوشنز (سی ایف این ایچ آر آئی ) اور گلوبل ایلائنس فار نیشنل ہیومن رائٹس انسٹی ٹیوشنز شامل ہیں۔

ریاستی انسانی حقوق کمیشن کے ارکان، عدلیہ کے ارکان، سفارت کاروں، این ایچ آر سی کے سینئر افسران، خصوصی نمائندے اور مانیٹرس، حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں، سول سوسائٹی کے نمائندوں، انسانی حقوق کے محافظوں کے علاوہ دیگر قومی اور بین الاقوامی معززین نے اس تقریب میں شرکت کی۔

******

ش ح۔ا گ ۔ ا ک م

U-NO.1585


(ریلیز آئی ڈی: 2067067) وزیٹر کاؤنٹر : 108
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil