سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
گلوبل بائیو انڈیا 2024 کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا جس میں بھارت نے اپنی بایوٹیک صلاحیت کا مظاہرہ کیا
انڈین بائیوٹیک اسٹارٹ اپس نے گلوبل بائیو انڈیا 2024 میں 11 پروڈکٹس کا آغاز کیا
Posted On:
14 SEP 2024 8:20PM by PIB Delhi
گلوبل بایو-انڈیا 2024 کا چوتھا ایڈیشن بھارت کے بایوٹیک صلاحیت کے مظاہرے کے بعد کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا۔ حکومت ہند کی سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت کے بائیو ٹیکنالوجی محکمہ (ڈی بی ٹی) کے ذریعہ اور اس کے پبلک سیکٹر انڈرٹیکنگ، بائیوٹیکنالوجی انڈسٹری ریسرچ اسسٹنس کونسل (بی آئی آر اے سی ) کے اشتراک سے 12 سے لے کر 14 ستمبر تک اس عالمی تقریب کا نئی دہلی کے پرگتی میدان میں اہتمام کیا گیا تھا ۔
سائنس اور ٹکنالوجی کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ارتھ سائنسز کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج)، وزیر اعظم کے دفتر میں وزیر مملکت ، جوہری توانائی اور خلائی محکمہ، عملہ، عوامی شکایات اور پنشن کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اس سالانہ کانفرنس کا افتتاح کیا ، اس تین روزہ اہم تقریب میں ملک میں بایوٹیکنالوجی کے تمام متعلقہ فریق بشمول قومی اور بین الاقوامی بائیوٹیک کمیونٹی کی بڑے پیمانے پر نمائندگی تھی۔
گلوبل بائیو انڈیا 2024 کے موضوع نے ’بائیوٹیک اختراعات ‘ اور ’بائیو مینوفیکچرنگ‘ میں امکانات اور مواقع اور بائیو معیشت پر اس کے اثرات کو اجاگر کیا۔
اختتامی اجلاس میں، بچوں کے سرمایہ کاری فنڈ فاؤنڈیشن اور آئی پی ای گلوبل کی طرف سے شریک فنڈنگ شراکتداری کے لیے بی آئی آر اے سی کے ساتھ عزم و ارادے کے خطوط کا تبادلہ ہوا۔
اس تقریب کی ایک خاص بات یہ تھی کہ بھارت بائیوٹیک اسٹارٹ اپس نے 11 پروڈکٹس کی نقاب کشائی کی اور اسے مرکزی حیثیت حاصل رہا ، جس سے بایو سائنسز میں ملک کی ابھرتی ہوئی صلاحیتوں کا ا ظہار ہوتا ہے۔
بائیوٹیک انڈسٹری میں غیر معمولی تعاون اور خدمات کے اعتراف میں ایوارڈز دیئے جائیں گے جس کے نام درج ذیل ہیں
- بی آئی آر اے سی انوویٹر ایوارڈز
- بہترین اسٹارٹ اپ ایگزیبیٹر ایوارڈز
- بہترین انکیوبیٹر نمائشی ایوارڈز
- بی آئی او ای 3 مسابقتی ایوارڈز
اس تقریب میں خاص آئی4 (صنعت کے لیے اختراع) اور پی اے سی ای (تعلیمی تعاون اور انٹرپرینیورشپ کو فروغ دینے) کے پروگراموں کے تحت تجاویز کے لیے کالز کا آغاز بھی کیا گیا، جس سے اخترا ع اور جدت کو فروغ دینے کے تئیں حکومت کے عزم کو مزید تقویت ملی۔
برلا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ سائنس (بی آئی ٹی ایس ) پیلانی کے گروپ وائس چانسلر اور آئی آئی ٹی-دلی کے سابق ڈائریکٹر پروفیسر وی رام گوپال راؤ اس تقریب کے اعزازی مہمان تھے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں بھارت کے لیے نینو ٹیکنالوجی اور کوانٹم ٹیکنالوجی جیسی دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے لیے بی آئی آر اے سی کی طرح تنظیمی ماڈل تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے پی ایچ ڈیز اور اکیڈمک فیکلٹی کی قیادت میں گہری ٹیک اسٹارٹ اپس کو فروغ دینے کی اہمیت پر بھی زور دیا اور نہوں نے اداروں پر زور دیا کہ وہ انٹرپرینیورشپ کی حوصلہ افزائی کریں۔
پروفیسر راؤ نے آنجہانی ڈاکٹر ایم کے بھان کو بھی دلی خراج عقیدت پیش کیا۔جو بی آئی آر اے سی کے پیچھے دوراندیش نظریات کے حامل شخصیت اور ہندوستان کے بائیوٹیک سیکٹر کی تشکیل میں اپنے اہم اور کلیدی کردار کے لیے جانے جاتے ہیں۔
ڈی بی ٹی ، ڈی جی، آئی بی آر آئی سی کے سکریٹری ڈاکٹر راجیش ایس گوکھلے، بی آئی آر اے سی کے چیئر مین ڈاکٹر الکا شرما، سینئر مشیر، سائنسدان ‘ایچ’، ڈی بی ٹی؛ ڈاکٹر جی ایس کرشنن ، اے بی ایل ای کے صدر ڈاکٹر جتیندر کمار، بی آئی آر اے سی کے ایم ڈی اور محترمہ شلپی کوچر، ہیڈ بزنس ڈیولپمنٹ اینڈ کمیونیکیشن، بی آئی آر اے سی نے اختتامی اجلاس میں شرکت کرنے والوں، مقررین، پینلسٹ، شراکت داروں اور منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔
گلوبل بائیو انڈیا نے بایوٹیک سیکٹر میں بھارت کی صلاحیت کو ثبوت اور شواہد کے ساتھ ملک و بیرون ملک دونوں سطحوں پر صلاحیت کا اظہار کیا ہے ۔ جس سے ملک میں بائیوٹیک اختراع اور بائیو مینوفیکچرنگ کو آگے بڑھانے کے لیے ایک لائحہ عمل اور روڈ میپ کی راہ ہموار ہوئی ۔
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2054228
********
ش ح۔ م م ع۔خ م
UNO-1207
(Release ID: 2064597)
Visitor Counter : 34