پوسٹ کرنے کی تاریخ:
05 SEP 2024 2:32PM by PIB Delhi
قومی دیہی روزی روٹی مشن (این آر ایل ایم) میں اپنی مدد آپ گروپ( ایس ایچ جی) ممبران کے ساتھ کل محکمہ مویشی پروری کی اسکیموں کو ملانے کے لیے ایک ویبنار کا انعقاد کیا گیا۔ یہ دونوں محکموں کی طرف سے این آر ایل ایم کے ایس ایچ جی اراکین کے ساتھ محکمہ مویشی پروری کی اسکیموں تک رسائی کو بڑھانے کی مشترکہ کوشش تھی۔ اس ویبنار کا انعقادمحکمہ مویشی پروری اور ڈیری (ڈی اے ایچ ڈی) کی سکریٹری محترمہ الکا اپادھیائے کی صدارت میں کیا گیا ،جس کی تائید دیہی ترقی کی وزارت کے ایڈیشنل سکریٹری جناب چرنجیت سنگھ نے کی۔ ویبنار میں کل 9500 ممبران نے شرکت کی۔
محترمہ الکا اپادھیائے نے اپنے خطاب کی شروعات دیہی ترقی اور تبدیلی برائے دیہی انڈیا فاؤنڈیشن (ٹی آر آئی ایف)کی وزارت کا اس طرح کے ایس ایچ جی ممبروں کے لیے بیداری پیدا کرنے کے پروگرام شروع کرنے کے لیےشکریہ ادا کرنے کے ساتھ کی۔ حاضرین سے اپنے خطاب میں سکریٹری نے ڈیری سیکٹر میں مویشیوں کی پیداوار اور پیداواری صلاحیت کو بڑھانے پر زور دیا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ چھوٹے جگالی کرنےوالے جانور جیسے بیکیارڈ پولٹری/خنزیر/بکری/بھیڑبھی دیہی خواتین کی آمدنی اور غذائیت کا ذریعہ ہیں۔ لہٰذا اس سرگرمی کو انجام دینے کے لیے دیہی خواتین میں انٹرپرینیورشپ کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مویشیوں کی بیمہ کی رسائی بڑھانے پر زور دیا اور واضح کیا کہ مویشیوں کی انشورنس کو فروغ دیا جا رہا ہے اور ڈی اے ایچ ڈی کی طرف سے دیے جانے والے پریمیم پر سبسڈی دی جا رہی ہے۔ تاہم بیمہ کے دعووں کو حل کرنے میں بیداری اور وضاحت کی کمی ہے، جو اس کے نفاذ میں رکاوٹ کا باعث بن رہی ہے۔ پشوسکھیوں کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ بیمہ کمپنیوں سے ان کی ایجنٹ/سب ایجنٹ بننے کے لیے مطلوبہ تربیت حاصل کریں اور نہ صرف ایس ایچ جی اراکین میں بیمہ کے بارے میں بیداری پیدا کریں، بلکہ ایس ایچ جی اراکین کی مدد کے لیے انشورنس ایجنٹ کے طور پر بھی کام کریں۔
دوسرے پروگرام میں مویشیوں کی حفاظتی صحت کے لیےٹیکہ کاری شامل ہے، جس کے لیے حکومت کے پاس این اے ڈی سی پی/ایل ایچ اور ڈی سی جیسی اسکیمیں ہیں، جن میں کسانوں کے گاؤوں میں ٹیکہ کاری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے زونوٹک بیماریوں (وہ بیماریاں جو جانوروں سے انسانوں میں پھیلتی ہیں)کے بارے میں بھی بات کی، جس کے لیے عوام میں آگاہی بہت ضروری ہے۔ انہوں نے اپنے اس خیال کا اظہار کیا کہ ڈی اے ایچ ڈی اور ایس ایچ جی کے درمیان اس طرح کی بات چیت مستقبل کے لیے بہت مفید ثابت ہو سکتی ہے اور ہمیں ایسی سرگرمیوں کو فروغ دینا چاہیے۔
جناب چرنجیت سنگھ نے بھی اس خیال سے اتفاق کیا کہ ایس ایچ جی کے اراکین میں مویشی پروری سب سے زیادہ مقبول سرگرمی ہے اور یہ ان سرگرمیوں میں سے ایک ہوسکتی ہے، جس سے انہیں ایس ایچ جی کے لیے سالانہ ایک لاکھ سے زیادہ کی آمدنی حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے، جس کا تصور لکھ پتی پہل کے تحت کیا گیا ہے۔ چارے کے تحفظ جیسی تمام سرگرمیاں انٹرپرینیورشپ ماڈل میں کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے سے ہی 90 لاکھ ایس ایچ جی خاندان ہیں، جن کی این آر ایل ایم مویشیوں کے شعبے میں مدد کر رہی ہے، 1,30,000 پشوسکھیاں،جن کو تربیت دی جا چکی ہے اور پہلے ہی ملک بھر میں11 دودھ تیار کرنے والی کمپنیاں اور 4 پولٹری پروڈیوسرز کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید ایسی کمپنیوں کی ضرورت پر اور زیادہ مزید ایس ایچ جی ممبران کو شامل کرنے پر زور دیا۔ ان کا یہ بھی خیال تھا کہ ایس ایچ جی اور ڈی اے ایچ ڈی کے ساتھ اس طرح کی بات چیت کو مستقبل میں بھی جاری رکھا جانا چاہیے۔
ڈی اے ایچ ڈی کے عہدیداروں نے پولٹری، بھیڑ/بکری اورخنزیر میں کاروبار سے متعلق قومی روزی روٹی مشن اسکیموں کے بارے میں بتایا۔ ایس ایچ جی ممبران ان سکیموں سے کیسے فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟ انہوں نے چارے کے بیج کی پیداوار، چارے کے تحفظ میں کاروبار اور مویشیوں کی انشورنس سکیموں کے بارے میں بھی تفصیل سے آگاہ کیا۔ مویشیوں کے انشورنس میں کان ٹیگ کی جگہ آر ایف آئی ڈی کا تعارف اور بیمہ کے لیے پریمیم کی سبسڈی میں اضافہ (کل پریمیم کا 85 فیصد تک) جیسے نئے اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں۔
پروگرام کا اختتام اے ایچ ڈی کے سکریٹری، ایم او آر ڈی کے ایڈیشنل سیکرٹری کے کلمات تشکر کے ساتھ ہوا، جنہوں نے بیداری پیدا کرنے والے پروگراموں جیسے ویبنارز، ڈی اے ایچ ڈی اور این آر ایل ایم کے عملے کی اہمیت پر زور دیا،جنہوں نے ایونٹ کے انعقاد میں تعاون کیا اور ایس ایچ جی کے ارکان، پشوسکھیوں اور ایس آر ایل ایم کے عملے کا بھی شکریہ ادا، کیا جنہوں نےاس پریزنٹیشن کو صبر کے ساتھ سنا اور زیر بحث اسکیموں سے فائدہ اٹھانے کے لیے تعاون حاصل کیا۔
*************
(ش ح ۔ ا ک ۔ن ع(
U.No 10579