پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پردھان منتری اجول یوجنا کے تحت دیئے گئے ایل پی جی کنکشن

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 01 AUG 2024 1:49PM by PIB Delhi

پٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت میں وزیر مملکت جناب سریش گوپی نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب  میں یہ معلومات فراہم کی ہے کہ پردھان منتری اجول یوجنا (پی ایم یو وائی) 01.05.2016 کو ملک بھر میں غریب گھرانوں کی بالغ خاتون رکن کے نام پر مفت ایل پی جی کنکشن جاری کرنے کے لیے شروع کی گئی تھی۔ پی ایم یو وائی کا بنیادی مقصد ایسے غریب گھرانوں کو صاف کھانا پکانے والے ایندھن ایل پی جی تک رسائی فراہم کرنا ہے، اس طرح روایتی کھانا پکانے والے ایندھن جیسے لکڑی، کوئلہ، گائے کے گوبر وغیرہ کے استعمال سے منسلک صحت کے سنگین خطرات کو کم کرکے ان کی صحت کی حفاظت کی جاسکتی ہے۔ یہ فضائی آلودگی کی سنگین گھریلو وجوہات بھی بن جاتے ہیں۔ کھانا پکانے کے ایندھن کے طور پر ایل پی جی کا استعمال خواتین کو جلانے والی لکڑیاں جمع کرنے کی مشقت سے آزاد کرتا ہے، کھانا پکانے میں لگنے والے وقت کوکم کرتا ہے اور جنگلات کی کٹائی کو روکتا ہے۔ 01.07.2024 تک ملک بھر میں 10.33 کروڑ پی ایم یو وائی کنکشن جاری کیے گئے ہیں۔

ملک میں ایل پی جی کوریج کو بڑھانے کے لیے دیگر چیزوں کے ساتھ ساتھ مختلف اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں پی ایم یو وائی کو فروغ دینے کے لیے مہمات کا انعقاد، کنکشنوں کے اندراج اور تقسیم کے لیے میلوں/کیمپوں کا انعقاد کرنا، گھر سے باہر(او او ایچ) کے ذریعے فروغ دینے کے لیے ہورڈنگز، ریڈیو جنگل، معلومات، تعلیم اور مواصلات (آئی ای سی) وین کے ذریعہ تشہیر کرنا، دوسرے روایتی ایندھن کے مقابلے ایل پی جی کے استعمال کے فوائد اور ایل پی جی پنچایتوں کے ذریعے ایل پی جی کے محفوظ استعمال کے بارے میں بیداری پھیلانے،وکست  بھارت سنکلپ یاترا کے تحت اندراج/بیداری کیمپوں کا قیام، صارفین اور ان کے خاندانوں کو آدھار اندراج کی سہولت فراہم کرنا اور پی ایم یو وائی کنکشن حاصل کرنے کے لیے بینک اکاؤنٹس کھولنا، ایل پی جی کنکشن حاصل کرنے کے عمل کو آسان بنانا، پی ایم یو وائی کنکشن کے لیے www.pmuy.gov.in   پرآن لائن درخواست دینا،قریبی ایل پی جی ڈسٹری بیوٹر، کامن سروس سینٹر(سی ایس سی) وغیرہ، 5 کلو گرام ڈبل بوتل کنکشن (ڈی بی سی) کا متبادل، 14.2 کلوگرام سے 5 کلوگرام تک کی تبدیلی کامتبادل، مہاجر خاندانوں کے لیے ایڈریس اور راشن کارڈ کے ثبوت کے بجائے سیلف ڈیکلریشن پر نیا کنکشن لینے کی فراہمی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ او ایم سیز مسلسل نئی ایل پی جی ڈسٹری بیوٹر شپ شروع کر رہے  ہیں، خاص طور پر دیہی علاقوں میں۔ پی ایم یو وائی اسکیم کے آغاز کے بعد سےاو ایم سیز نے ملک بھر میں 7905 ڈسٹری بیوٹر شپس شروع کی ہیں، جن میں سے 7325 (یعنی 93فیصد) دیہی علاقوں میں خدمات انجام دے رہی ہیں (01.04.2016 سے 30.06.2024 کے دوران کمیشن کی گئیں)۔ ان کوششوں کے نتیجے میں، پی ایم یو وائی سے مستفید ہونے والوں کے لیے فی کس کھپت بڑھ کر 3.95 فی سال ہو گئی ہے۔ مزید برآں، ملک میں ایل پی جی کوریج اپریل 2016 میں 62 فیصد سے بڑھ کر اب صد فیصد کے قریب پہنچ گئی ہے۔

آزادانہ مطالعات اور رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ پی ایم یو وائی اسکیم نے دیہی کنبوں، خاص طور پر خواتین اور دیہی اور دور دراز علاقوں میں رہنے والوں کی زندگیوں پر نمایاں مثبت اثر ڈالا ہے۔ چند اہم فوائد کا مختصراً ذکر حسب ذیل ہے:

  1. پی ایم یو وائی استعمال کے نتیجے میں کھانا پکانے کے روایتی طریقوں میں تبدیلی آئی ہے جس میں ٹھوس ایندھن جیسے لکڑی، گائے کے گوبر اور فصل کی باقیات کو جلانا شامل ہے۔ صاف ستھرے ایندھن کے استعمال سےگھر کے اندر فضائی آلودگی کم ہوتی ہے،جس سے سانس کی صحت  میں سدھار آتا ہے ، خاص طور پر خواتین اور بچوں میں، جو روایتی طور پر گھریلو دھوئیں سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

(ii) دیہی علاقوں میں، خاص طور پر دور دراز مقامات پرآباد گھرانے اکثر اپنے وقت اور توانائی کا ایک بڑا حصہ روایتی کھانا پکانے کے ایندھن کو جمع کرنے میں صرف کرتے ہیں۔ ایل پی جی نے غریب گھرانوں کی خواتین کی کھانا پکانے کے لیے درکار محنت اور وقت کو کم کر دیا ہے۔ اس طرح ان کے لیے دستیاب فارغ وقت کو معاشی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے بہت سے شعبوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

(iii) بائیو ماس اور روایتی ایندھن سے ایل پی جی میں منتقل ہونے سے کھانا پکانے کے لیے لکڑی اور دیگر بایوماس پر انحصار کم ہوتا ہے، اس طرح جنگلات کی کٹائی اور ماحولیاتی انحطاط میں کمی آتی ہے۔ اس سے نہ صرف خاندانوں کو فائدہ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی تحفظ کی وسیع تر کوششوں میں بھی مدد ملتی ہے۔

(iv) کھانا پکانے کے لیے ایل پی جی کا استعمال کھلی آگ سے متعلق حادثات کے خطرے کو کم کرتا ہے، جو خواتین اور بچوں کی حفاظت کے لیے خاص طور پر اہم ہے۔ کھانا پکانے کے روایتی طریقوں سے حادثاتی طور پر جلنے اور زخمی ہونے کے واقعات کم ہوتے ہیں، جس سے گھریلو ماحول کو محفوظ بنانے میں مدد ملتی ہے۔

 

********

 

 

ش ح۔ س ک ۔ف ر

 (U: 9295)


(ریلیز آئی ڈی: 2041427) وزیٹر کاؤنٹر : 83