بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ایم ایس ایم ایز تاجروں  کو فروغ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 01 AUG 2024 5:01PM by PIB Delhi

2 جولائی 2021 سے حکومت نے خوردہ اور تھوک تجارت کو ایم ایس ایم ایز کے طور پر شامل کیا تھا۔ ترجیحی شعبے کے قرضے کے فوائد حاصل کرنے کے لیے انہیں اُدیم رجسٹریشن پورٹل پر رجسٹر کرنے کی اجازت ہے۔ 30.7.2024 تک، اُدیم رجسٹریشن پورٹل پر 2,19,38,707 تاجر درج رجسٹر ہیں جن میں یو اے پی پورٹل پر درج رجسٹر تاجرین بھی شامل ہیں۔

حکومت نے آتم نربھر بھارت ابھیان کے تحت ملک میں ، خاص طور پر کووِڈ 19 وبائی مرض کے دور میں ایم ایس ایم ای شعبے کو تعاون فراہم کرنے کے لیے بہت سے اقدامات کیے ہیں، ۔ ان میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں:

  1. ایم ایس ایم ایز کے لیے 20,000 کروڑ روپئے کا ماتحت قرض۔
  2. کاروبار کے لیے 3 لاکھ کروڑ روپئے کے کولیٹرل فری آٹومیٹک لون، بشمول ایم ایس ایم ایز۔
  3. ایم ایس ایم ای سیلف ریلائنٹ انڈیا فنڈ کے ذریعے 50,000 کروڑ روپے کی ایکویٹی انفیوژن
  4. ایم ایس ایم ایز کی درجہ بندی کے نظر ثانی شدہ معیار
  5. کاروبار کرنے میں آسانی کے لیے ’اُدیم رجسٹریشن‘ کے ذریعے ایم ایس ایم ایز کی نئی رجسٹریشن۔
  6. 200 کروڑ روپئے تک کی خریداری کے لیے کوئی عالمی ٹینڈر نہیں ہے۔

ایمرجنسی کریڈٹ لائن گارنٹی اسکیم (ای سی ایل جی ایس) کا اعلان آتم نربھر بھارت پیکیج 2020 کے ایک حصے کے طور پر کیا گیا تھا جس کا مقصد ایم ایس ایم ایز سمیت کاروباروں کو اپنی آپریشنل ذمہ داریوں کو پورا کرنے اور کاروبار کو دوبارہ شروع کرنے میں کووِڈ 19 کے بحران کی وجہ سے پیدا ہونے والی پریشانی کے پیش نظر کیا گیا تھا۔

ایمرجنسی کریڈٹ لائن گارنٹی اسکیم (ای سی ایل جی ایس) پر اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی 23.01.2023 کی تحقیقی رپورٹ بتاتی ہے کہ تقریباً 14.6 لاکھ ایم ایس ایم ای اکاؤنٹس، جن میں سے تقریباً 93.8فیصد  اکاؤنٹس ایم ایس ای زمروں میں تھے، ای سی ایل جی ایس کی وجہ سے بچائے گئے تھے۔

یہ اطلاع بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانہ درجے کی صنعتوں کی وزیر مملکت محترمہ شوبھا کرندلاجے نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی۔

 

**********

 (ش ح –ا ب ن۔ م ف)

U.No:9155


(ریلیز آئی ڈی: 2040502) وزیٹر کاؤنٹر : 82