کامرس اور صنعت کی وزارتہ
‘چائے کی ترقی اوراس کے فروغ کی اسکیم’ کے تحت مالی امداد میں 82 فیصد اضافہ ہوا، مالی سال 2024-25 اور 2025-26 کے لیے یہ مدد 290.81 کروڑ روپے سے بڑھا کر 528.97 کروڑ روپے کر دی گئی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
07 MAR 2024 7:39PM by PIB Delhi
‘چائے کی ترقی اوراس کے فروغ اسکیم’ کے تحت چائے کے شعبے کے لیے مالی امداد میں 82 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ اگلے دو مالی برسوں (2024-25 اور 2025-26) کے لیے اسے 290.81 کروڑ روپے سے بڑھا کر 528.97 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔
چھوٹے پیمانے پر چائے کی پیداوار کرنے والوں کو سیلف ہیلپ گروپس (ایس ایچ جیز) اور فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز (ایف پی اوز) میں منظم کرکے انہیں مختلف قسم کی ترغیبات فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اگلے دو مالی برسوں میں 105.5 کروڑ روپے کی اضافی امداد کے ساتھ 800 ایس ایچ جیز اور 330 ایف پی اوز قائم کرنے کا تصور کیا گیا ہے، جیسا کہ اس سے قبل 2.7 کروڑ روپے کی اضافی امداد کے ساتھ 40 ایس ایچ جیز اور آٹھ ایف پی اوز قائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ اس سے اگلے دو برسوں میں چھوٹے پیمانے پر چائے کاشتکاروں کی کوریج 1000 سے بڑھ کر 30,000 سے زیادہ ہوجائے گی۔ اس امداد کا مقصد ان کی پیداواری صلاحیت اور معیار کو بڑھانا، مزید ویلیو ایڈیشن میں اضافہ کرنا اور اس طرح زیادہ قیمت کو وصول کرنا ہے۔
امداد/سپورٹ عام سہولیات جیسے فیلڈ میکانائزیشن کے آلات، پتوں کو لانے لے جانے والی گاڑیاں، پتوں کے شیڈ، کٹائی کی مشینیں، مکینیکل ہارویسٹر اور اسٹوریج گوداموں کے لیے ہے۔
ایس ایچ جیز/ایف پی اوز/ ایف پی سیز کے ذریعہ چھوٹے چائے کے کاشتکاروں کوویلیوچین میں ا ٓگے بڑھانے میں مدد کرنے کے لئے آرتھوڈوکس ، سبز اور خصوصی چائے کی پیداوار کے لیے نئی منی چائے یونٹوں کے قیام کے لیے بھی مدد/سپورٹ فراہم کی جاتی ہے۔ ایس ایچ جیز/ایف پی اوز کے ذریعہ اکٹھا کئے گئےانفرادی چھوٹے کاشتکاروں کے لیے مٹی کی جانچ اور بہتر توسیعی خدمات کے لیے فارم فیلڈ اسکولوں کے ذریعہ صلاحیت سازی اوراچھے زرعی طریقوں/چائے کے باغات کے انتظام پر چھوٹے چائے کاشتکاروں کی مہارتوں کو اپ گریڈ کرنے میں مدد فراہم کی جاتی ہے۔
گھریلو اور بین الاقوامی دونوں بازاروں میں ہندوستانی چائے کے فروغ کے لیے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ بین الاقوامی منڈیوں میں دارجیلنگ اور دیگر جی آئی چائے سمیت (برآمدات بڑھانے) اور گھریلو بازار (صارفین میں محفوظ اور معیاری چائے کے بارے میں آگاہی بڑھانے اور اس کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے)میں عام چائے کی تشہیری مہموں سمیت ‘ہندوستانی چائے’ کے لیے ایک جامع تشہیری مہم چلانے کی خاطر اخراجات کو 10 گنا سے زیادہ بڑھا کر 72.42 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔
ہندوستان سے ویلیو ایڈڈ چائے کی برآمدات کو بڑھانے میں مدد کے لیے، 40 کروڑ روپے کے اخراجات کے ساتھ بلینڈنگ اور پیکیجنگ یونٹس کے قیام کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک نیا ذیلی جزو شامل کیا گیا ہے۔
برآمدات کو بڑھانے اور متنوع بنانے کے لیے بین الاقوامی منڈیوں میں مرکبات اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات پر تحقیق کے لیے ایک نیا ذیلی جزو شامل کیا گیا ہے۔
اسکیم میں 39.9 کروڑ روپے کے اخراجات کے ساتھ معیار کی یقین دہانی کا ایک نیا الگ ذیلی جزو شامل کیا گیا ہے۔ اس میں سے 20 کروڑ روپے ٹی ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کے قیام / جدید کاری کے لیے فراہم کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ، چائے کے نمونوں کی بہتر ڈرائنگ اور جانچ کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ گھریلو بازاروں میں فروخت ہونے والی چائے کے معیار کے بارے میں صارفین میں بیداری پیدا کرنے کے لیے ایک مہم کا بھی منصوبہ بنایا گیا ہے۔
چائے کے باغات کے لیے تکنیکی پہل کا ایک نیا جزو شامل کیا گیا ہے جس میں درست زراعت، ڈرون سے نگرانی، ٹریس ایبلٹی اور بلاک چین وغیرہ جیسی سرگرمیوں کو انجام دیا جانا شامل ہے۔ اس میں ٹی بورڈ کی ڈیجیٹلائزیشن بھی شامل ہوگی۔
نئی مالی امداد 50 سال سے زائد پرانی اور غیر پیداواری چائے کی جھاڑیوں کو اکھاڑ پھینکنے اور تقریباً 1000 ہیکٹر کے رقبے میں دوبارہ پودا لگانے کے لیے فراہم کی جائے گی۔ یہ اعلیٰ معیار کی چائے کی پیداوار میں اضافے سے بھی منسلک ہو گا، جس میں روایتی چائے کا شفاف طریقہ سے جائزہ لیا جاتا ہے۔
فلاحی پروگرام (پلانٹیشن لیبر ایکٹ کے تحت اسٹیٹ مینجمنٹ کے ذریعے کی گئی تکمیل) جیسے کارکنوں کے لیے صحت سے متعلق آگاہی کیمپ، چائے کے باغ کے مزدوروں کے بچوں کے لیے تعلیمی وظیفہ ٹی بورڈ کے ذریعے جاری ہے۔ ٹی بورڈ کی طرف سے تکنیکی ورکشاپس، اچھے زرعی طریقوں پر تربیت، جی ایم پی، فیلڈ آپریشنز اور صلاحیت سازی کے پروگرام منعقد کیے جاتے رہیں گے۔
***********
ش ح۔ ع ح۔ف ر
(U: 6286)
(ریلیز آئی ڈی: 2015862)
وزیٹر کاؤنٹر : 71