زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر زراعت نے آج آئی سی اے آر- آئی اے آر آئی ، جھارکھنڈ میں گرلز ہاسٹل، بوائز ہاسٹل اور اسٹاف رہائشی کالونی کا افتتاح کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 01 MAR 2024 4:14PM by PIB Delhi

زراعت اور کسانوں کی بہبود اور قبائلی امور کے مرکزی وزیر جناب ارجن منڈا نے تقریباً 22 کروڑ کی لاگت سے 156 کمروں پر مشتمل گرلز ہاسٹل ‘‘مہوا’’، تقریباً 24 کروڑ کی لاگت والے بوائز ہاسٹل ‘‘کدم’’ جس میں 175 کمرے ہیں  اور مختلف زمروں کے  25کوارٹرز کے ساتھ عملے کی رہائشی کالونی  پلش وہار کالونی جس کا بجٹ تقریباً 11.5 کروڑ روپے ہے، کا انڈین ایگریکلچرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، گوریا کرما، ہزاری باغ، جھارکھنڈ میں آج افتتاح کیا۔ اس موقع پر وزیر مملکت برائے تعلیم، محترمہ انپورنا دیوی؛ ممبر پارلیمنٹ، ہزاری باغ، جناب جینت سنہا؛ سکریٹری، محکمہ زرعی تحقیق اور تعلیم(ڈی اے آر ای) اور انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر) کے ڈائریکٹر جنرل، ڈاکٹر ہمانشو پاٹھک؛ ڈائریکٹر، انڈین ایگریکلچرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، ڈاکٹر اشوک کمار سنگھ؛ اے ڈی جی (بیج)، آئی سی اے آر، ڈاکٹر ڈی کے یادو؛ او ایس ڈی، آئی اے آر آئی جھارکھنڈ، ڈاکٹر وشال ناتھ اور دیگر معززین بھی موجود تھے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001F93V.jpg

زراعت اور کسانوں کی بہبود اور قبائلی امور کے مرکزی وزیر جناب ارجن منڈا نے آئی سی اے آر- آئی اے آر آئی  جھارکھنڈ کی سالانہ رپورٹ 2023 کے ساتھ ساتھ آئی اے آر آئی کا بلیٹن بھی جاری کیا۔ انہوں نے کسان گوسٹھی-کم-اُدگھاٹن سماروہ کے دوران اپنے خطاب میں کہا کہ آج جھارکھنڈ کے لئے بہت اہم دن ہے کیونکہ وزیر اعظم نے 36000 کروڑ روپے کی رقم سے جھارکھنڈ کی سرزمین سے جس میں دھنباد میں سندھری کھاد پلانٹ شامل ہے کئی پروجیکٹوں کی نقاب کشائی کی، جو بہار، جھارکھنڈ، مغربی بنگال، اڈیشہ وغیرہ جیسی ریاستوں میں کھاد کی مانگ کو پورا کرے گا۔ یہ دن لڑکیوں اور لڑکوں کے ہاسٹلز کےساتھ ساتھ رہائشی عملہ کالونی افتتاح کی وجہ سےآئی سی اے آر- آئی اے آر آئی  جھارکھنڈ کے لیے بھی  اور  اس انسٹی ٹیوٹ میں کام کرنے والے ملازمین کے لیے ایک بہت ہی مبارک موقع ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0025501.jpg

جناب ارجن منڈا نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نے 28 جون 2015 کو ہزاری باغ ضلع کے گوریا کرما گاؤں میں 1000 ایکڑ پر پھیلے وسیع کیمپس میں آئی اے آر آئی  جھارکھنڈ کا سنگ بنیاد زراعت کے میدان میں تحقیق اور ہنرمندی کی ترقی کے مقصد سے رکھا۔ یہ ادارہ غذائی اجناس، تیل کے بیجوں، دالوں، باغبانی، جنگلات، ڈیری، لائیو سٹاک(مویشی پروری)، ماہی گیری وغیرہ پر تحقیق پر توجہ دے گا اور ان شعبوں میں تعلیم بھی فراہم کرے گا، اس وقت تک 110 طلباء مختلف شعبوں میں پوسٹ گریجویٹ ڈگری حاصل کر چکے ہیں اور اس وقت ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے 240 طلباء زراعت کے شعبے میں  بی ایس سی کر رہے ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003Z6PA.jpg

 جناب منڈا نے اس بات پر زور دیا کہ 1960 کی دہائی میں شروع ہونے والے سبز انقلاب نے ملک کو گھریلو خوراک کی پیداوار میں زبردست پیش رفت کرنے کے قابل بنایا اور زراعت اور اس سے منسلک شعبوں میں ترقی میں نمایاں تعاون کیا۔ اس انقلاب نے ہندوستان کو خوراک کی کمی والے ملک سے خوراک کا زائد ذخیرہ رکھنے والے ملک میں تبدیل کردیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہماری مشرقی ریاستیں سبز انقلاب کے ثمرات حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں اور زراعت اور اس سے متعلقہ شعبوں میں ملک کے دیگر حصوں کی طرح ترقی نہیں کر پائیں، اس لیے اس انسٹی ٹیوٹ کو مشرقی علاقوں کے لیے جامع زرعی ترقی کا مرکزی نقطہ بننے کے لیے وقف کیا جا رہا ہے۔ ریاستیں نامیاتی اور قدرتی کاشتکاری کے طریقوں پر مبنی ملک میں دوسرا سبز انقلاب لائیں گی۔ مرکزی وزیر موصوف نے کسانوں کو مقامی طور پر تیار کردہ نینو یوریا کا استعمال کرنے اور اس انسٹی ٹیوٹ کے تعاون سے  بیجوں والے گاؤں  پروگرام میں حصہ لے کر معیاری بیج تیار کرنے کی بھی ترغیب دی۔ انہوں نے زراعت اور اس سے منسلک شعبوں سمیت ہر شعبے میں جدت  طرازی کو اپنانے کے وزیر اعظم کے وژن کو اجاگر کیا اور کسانوں کو 23 کروڑ سوائل ہیلتھ (زمین کی زرخیزی سے متعلق) کارڈ بھی فراہم کیے گئے اور حکومت کی جانب سے ہر تین سال میں اس کی تجدید کی جائے گی۔ یہاں کام کرنے والے سائنسدان گلوبل وارمنگ، موسمیاتی تبدیلی وغیرہ جیسے موجودہ چیلنجوں کو کم کرنے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کریں گے اور ملک کے مشرقی حصے کی ترقی کے وزیر اعظم کے خواب کو بھی پورا کریں گے۔ انہوں نے اپنی تقریر کا اختتام  ان الفاظ کے ساتھ  کیا کہ ہم سب کو مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ ‘‘ایک بھارت شریشٹھ بھارت’’  کی تعمیر کی جاسکے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image004J1UI.jpg

ڈاکٹر اے کے سنگھ، ڈائریکٹر، آئی اے آر آئی جھارکھنڈ نے اپنے خطاب میں کہا کہ انسٹی ٹیوٹ کا بنیادی ڈھانچہ  جس میں بالترتیب گرلز ہاسٹل ’’مہوا’’ اور بوائز ہاسٹل ‘‘کدم’’ میں بالترتیب 156 اور 175 کمرے ہیں ، کو ترقی دی گئی  ہے جس میں تمام مطلوبہ اور جدید سہولیات موجود ہیں۔ ‘‘پلش وہار کالونی’’ جدید سہولیات کے ساتھ  آئی سی اے آر- آئی اے آر آئی ، جھارکھنڈ کے عملے اور سائنسدانوں کے لیے ٹائپ II, III, IV, V, VI اور VII کے کل 25 رہائشی کوارٹرز پر مشتمل ہے۔ ہر ہاسٹل کمپلیکس میں فوڈ کورٹ، لانڈری روم، جم روم، تفریحی کمرہ، ریڈنگ روم، سولر انرجی سسٹم، رین واٹر ہارویسٹنگ سسٹم( بارش کے پانی سے استفادہ کا نظام) ، جنریٹر پر مبنی پاور بیک اپ، وائی فائی نیٹ ورک، آر او  یونٹ وغیرہ  ہےجو طالب علم کی ضروریات کو پورا کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ انسٹی ٹیوٹ بنیادی طور پر زرعی تعلیم، تحقیق اور توسیع کے لیے بنایا گیا ہے اور یہ اس خطے کے کسانوں کے مسائل کو نئی تیار کردہ جدید تکنیکوں سے حل کرے گا۔ انہوں نے اس انسٹی ٹیوٹ کی تعمیر کے لیے 1000 ایکڑ اراضی کی منتقلی کے لیے برسا زرعی یونیورسٹی اور ریاستی حکومت کا بھی شکریہ ادا کیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image005AELQ.jpg

وزیر مملکت برائے تعلیم، محترمہ انپورنا دیوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس انسٹی ٹیوٹ کا سفر 28 جون 2015 سے شروع ہوتا ہے اور اسے زراعت کے میدان میں اب ایک بہترین انسٹی ٹیوٹ کے طور پر تسلیم کیا جاچکا ہے۔ یہ انسٹی ٹیوٹ ملک کے مشرقی حصوں میں زراعت اور اس سے منسلک شعبوں کی ترقی کے لیے وزیر اعظم کی سوچ اور وژن کی ایک مثال ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image006BVBM.jpg

ہزاری باغ کے رکن پارلیمنٹ اور حکومت ہند کی مالیات کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین جناب جینت سنہا نے اپنے خطاب میں طلباء کے ہاسٹل اور رہائشی عملے کی کالونی کی تعمیر پر خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے آئی اے آر آئی جھارکھنڈ کے قیام کے لیے ہزاری باغ ضلع کا انتخاب کرنے پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا، جو کہ عالمی معیار کے ساتھ ایک کثیر شعبہ جاتی  زرعی ادارے کے طور پر اُبھرنے کی راہ پر گامزن ہے۔ انہوں نے ہزاری باغ اور آس پاس کے اضلاع کے آئی اے آر آئی جھارکھنڈ کے ساتھ کسانوں کا بہترین ربط قائم کرنے اور اس کے قیام کے اتنے کم وقت میں کسانوں کی روزی روٹی اور آمدنی کو بڑھانے میں فائدہ پہنچانے کے لئے بھی تعریف کی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image007CFI4.jpg

سکریٹری،  ڈی اے آر ای ور ڈی جی- آئی سی اے آر ڈاکٹر ہمانشو پاٹھک نے ملک میں زرعی تحقیق، تعلیم اور توسیع کو مضبوط بنانے میں  آئی اے آر آئی کی شاندار خدمات  پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ کسی بھی شعبے کی ترقی کے لیے تعلیم، سائنس اور ہنر کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس علاقے کی کل آبادی میں سے 85 فیصد سے زیادہ کا انحصار زراعت پر ہے۔ نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ زراعت کو ترقی دینے کے لیے یہ انسٹی ٹیوٹ نہ صرف جھارکھنڈ بلکہ پورے ملک کے لیے ایک اعزاز ثابت ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آنے والا دوسرا سبز انقلاب فطرت دوست اور پائیدار زرعی فارمنگ پریکٹسز (کاشت کاری کے طور طریقوں)پر مبنی ہوگا۔

اے ڈی جی (بیج)، آئی سی اے آر ڈاکٹر ڈی کے یادو نے  اس بات پرروشنی ڈالی کہ اس طرح کے عالمی معیار کے انتظامات سے ہم ملک کے مختلف حصوں سے طلباء اور سائنسدانوں کو راغب کر سکتے ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0087SQ6.jpg

مرکزی وزیر اور دیگر معززین نے ہاسٹل کے احاطے میں درخت لگائے اور ہاسٹل اور رہائشی عملے کے کوارٹرز کی سہولیات کا دورہ کیا۔

*************

( ش ح ۔س ب ۔ رض (

U. No: 5773


(ریلیز آئی ڈی: 2012139) وزیٹر کاؤنٹر : 93
یہ ریلیز پڑھیں: English