کامرس اور صنعت کی وزارتہ

اپیڈانے فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز کےمتحدہ عرب امارات کے دورے کی سہولت فراہم کرائی ؛جس کا مقصد  اس  خطے کی وسیع زرعی اور غذائی مصنوعات کی برآمد کے مواقع کو کھولنا ہے


تازہ ہلدی اور مخلوط پھلوں کی کھیپ متحدہ عرب امارات کے لیے روانہ ہوئی

Posted On: 06 MAR 2024 5:09PM by PIB Delhi

ایگریکلچرل اینڈپروسیسڈ فوڈ پروڈکٹس ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی(اپیڈا)، جو کہ کامرس و صنعت کی وزارت کے تحت کام کرتی ہے، زرعی اور پروسیسڈ فوڈ پروڈکٹس کی برآمدات میں سرگرم فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز(ایف پی اوز)/فارمر پروڈیوسر کمپنیز(ایف پی سیز)کی شراکت اور حصہ داری کو بڑھانے کے لیےفعال طریقے سے اقدامات کر رہی ہےاور اب تک 1000 سے زائدایف پی او/ایف پی سی کو بطوراپیڈاممبران رجسٹرڈ کیا جا چکا ہے۔

خطے سے زرعی اور پروسیسڈ فوڈ پروڈکٹس کے برآمدی مواقع کو کھولنے اور زرعی اور پروسیسڈ فوڈ پراڈکٹس میں سرگرم ایف پی اوز/ایف پی سیز کے تعاون کو بڑھانے کے دوہرے مقصد کے ساتھ اپیڈا نے فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز(ایف پی اوز)کے لیے متحدہ عرب امارات(یو اے ای) کے ایک جائزے کے دورہ کا اہتمام کیا۔ وفد میں47 ارکان شامل تھے، جو اترپردیش، بہار، اور اتراکھنڈ کے ایف پی اوز کی نمائندگی کرتے ہیں۔

دورے کے دوران ایف پی اوز نے العویر پھل اور سبزی منڈی کا دورہ کیا، تاکہ خاص طور پر اترپردیش، بہار اور اتراکھنڈ میں اُگائی جانے والی ہندوستانی زرعی مصنوعات کے امکانات اور مواقع تلاش کی جا سکے۔اس کے علاوہ ایف پی اوز کے وفد نے دبئی کی مارکیٹ میں خریداری کی ضروریات اور پیٹرن کو سمجھنے کے لیے لولو ہائیپرمارکیٹ کا دورہ کیا۔ دورے کے دوران ایف پی او کے نمائندوں نے خریداروں کی ایک اچھی تعداد سے بھی ملاقات کی اور اپنی پیداوار کو برآمد کرنے کے لیے تیار کیا۔ فوری نتیجہ کے طور پر وفد میں شامل ایک ایف پی او نے تازہ ہلدی کے آرڈر کو حتمی شکل دی،جسے متحدہ عرب امارات کی مارکیٹ میں بھی ہری جھنڈی دکھا دی گئی۔ دیگر ایف پی اوز بھی امید افزا مواقع حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں اور فی الحال خریداروں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔ اس طرح مستقبل قریب میں مزید آرڈرز کی توقع ہے۔

اس دورے کے فوائد کا جائزہ لینے اور کسانوں کے درمیان اس کے نتائج کو پھیلانے کے لیےاپیڈا نے 5 مارچ 2024 کو وارانسی میں صلاحیت سازی اور تجربہ شیئرنگ پروگرام کا انعقاد کیا۔پروگرام میں متحدہ عرب امارات کا دورہ کرنے والے ایف پی اوز کے نمائندوں نے  دوسرے ممبر کسانوں کے درمیان دورے کے تجربات اوروہاں سے حاصل معلومات شیئر کی۔ انہوں نے متحدہ عرب امارات کی مارکیٹ میں زرعی اجناس کی برآمد کے لیے ضروری شرائط/ضوابط کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے مختصراً ان ممکنہ مصنوعات پر بھی روشنی ڈالی، جن کی متحدہ عرب امارات کی مارکیٹ میں زبردست مانگ ہے، جیسے آم، ہری مرچ،بھنڈی وغیرہ، جنہیں خطے کے کسان استعمال کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کسانوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ کاشتکاری کے دوران اچھے زرعی طریقوں(جی اے پی)کو لاگو کریں، تاکہ ان کی پیداوار کو درآمد کرنے والے ممالک کی ریگولیٹری ضروریات کو پورا کرنے کے قابل بنایا جا سکے۔

خاص طور پر اس تقریب میں شارجہ، متحدہ عرب امارات کے لیے تازہ ہلدی کی ایک کھیپ کو بھی ہری جھنڈی  دکھائی گئی، جس سے خطے کی برآمدات کی صلاحیت کو ظاہر کیا گیا۔اس کے علاوہ وارانسی کے ایل بی ایس آئی ہوائی اڈے سے بین الاقوامی مارکیٹ میں تازہ پھل برآمد کیے گئے، جس سے خطے کی برآمدی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

وارانسی میں اپنے علاقائی وِنگ کے ذریعے کام کرتے ہوئے اور مذکورہ وژن کو آگے بڑھاتے ہوئےاپیڈانے پوروانچل خطے کو ایک ماڈل ایگری ایکسپورٹ ہب کے طور پر شناخت کیا ہے، جس نے زرعی تجارت میں اس کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے اور اس نے اس علاقے کے 120سے زیادہ ایف پی اوز کا اپنے اراکین کے طور پر اندراج کیا ہے۔ او ڈی او پی/جی آئی پروڈکٹس میں ڈیل کرنے والے ایف پی اوز/ایف پی اوز کے اندراج پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے، جو خواتین اورایس سی/ایس ٹی کی قیادت میں ہیں اور شمال مشرقی خطہ /ہمالیہ کی ریاستوں اور لینڈ لاکڈ علاقوں سے ہیں۔ اپیڈا کے افسروں اور حکومت ہند اور ریاستی حکومت کے ماہرین نے کسانوں اور دیگرایف پی اوز کو زرعی برآمدی سپلائی چین کی ضروریات سے آگاہ کیا۔

ڈویژنل کمشنر، وارانسی ڈویژن، حکومت اتر پردیش، جناب کوشل راج شرما نے پوروانچل خطے میں اپیڈا کی نمایاں کوششوں کی تعریف کی اور ایف پی اوز کے لیے جائزہ دورہ کواپیڈا کے ذریعے فراہم کردہ ایک انمول موقع قرار دیا۔ انہوں نے زرعی برآمدات کی ضروریات اور بین الاقوامی معیارات کو پورا کرنے کے لیےایف پی اوز کی رہنمائی کرنے کے سلسلے میں اپیڈا کے کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے مالی سال 22-2021 میں151 ایم ٹی سے مالی سال 24-2023(اپریل تا دسمبر)میں702 ایم ٹی تک اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے زرعی برآمدات میں قابل ذکر پیش رفت کا  بھی ذکر کیا، جو 2020 کے بعد سے اپیڈا کے اقدامات کے مثبت نتائج کی عکاسی کرتا ہے۔

اپیڈا کے چیئرمین جناب ابھیشیک دیو نے زرعی برآمدات کے مواقع تلاش کرنے کے لیے جائزے کے دوروں کی اہمیت پر زور دیا۔ قومی غیر ملکی زرمبادلہ کی کمائی میں اضافے اور کسانوں کی آمدنی کو بہتر بنانے کے امکانات کو بھی اُجاگر کیا۔ انہوں نے زرعی برآمدات میں ایف پی اوز کی طرف سے دکھائی جانے والی گہری دلچسپی پر تبصرہ کیا اور اسے بین الاقوامی منڈی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے خطے کی صلاحیت کے ایک مثبت اشارے کے طور پر تسلیم کیا۔ انہوں نے ہندوستان میں زرعی برآمد کرنے والی تیسری سب سے بڑی ریاست(اپیڈا باسکیٹ)کے طور پر اتر پردیش کے عروج پر روشنی ڈالی۔ اس کامیابی کو خطے کی گہری صلاحیت اور برآمدات میں لینڈ لاکڈ علاقوں کے تعاون کو بڑھانے میں اپیڈاکی مسلسل کوششوں سے منسوب کیا گیا۔

اپیڈا کے اقدامات پورانچل خطے میں، بنیادی ڈھانچے، بازار کے روابط اور برآمدی فروغ کی سرگرمیوں میں اہم پیش رفت کے ساتھ زرعی برآمدات کے منظر نامے کو مثبت طور پر تبدیل کر رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں زرعی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے، جس نے اترپردیش کو ملک میں تیسری سب سے بڑی زرعی برآمد کرنے والی ریاست(اپیڈا باسکیٹ)کے طور پر پوزیشن دی ہے۔

ہدف شدہ صلاحیت سازی کے پروگراموں اور بین الاقوامی خریدار فروخت کنندگان کے اجلاسوں کے ذریعے اپیڈا نے ایف پی اوز اور برآمد کنندگان کو بااختیار بنایا ہے، جس سے وہ عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکیں اور خطے کی متنوع زرعی مصنوعات کی نمائش کر سکیں۔ تازہ پھلوں اور سبزیوں سے لے کر چاول تک کی زرعی برآمدات کی کامیابی کی داستان اس خطے کی عالمی طلب کو پورا کرنے اور زرعی برآمدی منڈی میں خود کو ایک اہم خطے کے طور پر قائم کرنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔

 

************

ش ح۔ا گ۔ن ع

U. No.5753



(Release ID: 2012008) Visitor Counter : 54


Read this release in: English , Hindi