جل شکتی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

جل شکتی کے مرکزی وزیر جناب گجیندر سنگھ شیخاوت نے ہریانہ اور راجستھان کے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ یمنا کے پانی کے راجستھان کے حصے کے استعمال کے منصوبے پر عمل درآمد کے سلسلے میں بات چیت کی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 17 FEB 2024 8:00PM by PIB Delhi

جل شکتی کے مرکزی وزیر جناب گجیندر سنگھ شیخاوت نے آج نئی دہلی میں ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال اور راجستھان کے وزیر اعلیٰ جناب بھجن لال شرما کے ساتھ ہتھنی کنڈ میں یمنا کے پانی کے راجستھان کا حصے کے استعمال کے لئے پروجیکٹ پر عمل درآمد سے متعلق مختلف پہلوؤں کے بارے میں تفصیلی بات چیت کی۔ ہریانہ اور راجستھان کی ریاستی حکومتوں اور جل شکتی کی وزارت، سنٹرل واٹر کمیشن اور اپر یمنا ریور بورڈ کے سینئر افسران نے بھی بات چیت میں حصہ لیا۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ 12 مئی، 1994 کے مفاہمت نامے میں ان کے مختص کردہ علاقوں میں مشترکہ طاس ریاستوں کے ذریعہ یمنا کے پانی کے زیادہ سے زیادہ استعمال کے لئے سہولیات قائم  کرنا ضروری ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/WhatsAppImage2024-02-19at10.14.52AMD30X.jpeg

اپر یمنا ریویو کمیٹی نے 15.2.2018 کو منعقدہ اپنی 7ویں میٹنگ میں ریاست راجستھان کو مشورہ دیا کہ وہ تاجےوالا ہیڈ ہریانہ میں جمنا کے پانی میں راجستھان کے حصہ کو راجستھان منتقل کرنے کے منصوبے کے لیے ڈی پی آر تیار کرے اور راجستھان کے جھنجھنو اور چورو ضلع میں پانی کی ترسیل کے لیے زیر زمین نظام کا استعمال کا  تصور پیش کریں گے۔

 یہ بھی ذکر کیا گیا کہ راجستھان کے چورو، سیکر، جھنجھنو اور دیگر اضلاع کے علاقوں میں یمنا کے پانی کی فراہمی کو پینے کے پانی کی فراہمی اور دیگر ضروریات کو یقینی بنانے کے لیے بہت ضروری سمجھا جاتا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/WhatsAppImage2024-02-19at10.14.52AM(2)V5J5.jpeg

غور و خوض کے بعد، زیر زمین پائپ لائنوں کے ذریعے پانی کی منتقلی کے لیے ہریانہ اور راجستھان کی حکومتوں کے ذریعے مشترکہ طور پر ڈی پی آر کی تیاری پر اتفاق رائے پایا گیا۔ اس سلسلے میں ریاستوں کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے گئے:

  (i) راجستھان اور ہریانہ کی حکومتوں کے ذریعے جولائی سے اکتوبر کے دوران 577  ایم سی ایم  تک پینے کے پانی کی فراہمی اور راجستھان کے دیگر اضلاع کے لیے پینے کے پانی کی فراہمی اور دیگر ضروریات کے لیے ایک ڈی پی آر تیار کی جائے گی اور حتمی شکل دی جائے گی۔ ہریانہ کے ذریعہ مغربی یمنا کینال کی پوری صلاحیت (24,000 کیوسک) کے استعمال کے بعد جس میں پروجیکٹ کے فیز-1 کے تحت ہتھنی کنڈ میں دہلی کا حصہ شامل ہے۔ دونوں ریاستیں چار ماہ کی مدت کے اندر ڈی پی آر کی تیاری اور اسے حتمی شکل دینے میں مکمل تعاون کریں گی۔ سی ڈبلیو سی/ یو وائی آر بی جہاں بھی ضروری ہو، تکنیکی مدد فراہم کریں گے۔

 

(ii) بالائی یمنا طاس میں تین شناخت شدہ اسٹوریج ، یعنی رینوکاجی، لکھوار اور کشاؤ کی تعمیر کے بعد، باقی مدت کے دوران ہتھنی کنڈ میں راجستھان کے متعلقہ حصہ کو ممکن حد تک پینے کے پانی اور آبپاشی کے مقصد کے لیے اسی نظام کے ذریعے پہنچایا جائے گا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/WhatsAppImage2024-02-19at10.14.52AM(1)RE64.jpeg

جل شکتی کے مرکزی وزیر نے ہریانہ اور راجستھان کے وزرائے اعلیٰ کو مبارکباد دی اور ان کے تعاون کے جذبے کی تعریف کی جس کے نتیجے میں دو دہائیوں سے زیر التوا مسئلہ حل ہو گیا ہے۔ مرکزی وزیر (جل شکتی) نے یہ بھی ذکر کیا کہ یہ ایک تاریخی لمحہ ہے جو چورو، سیکر، جھنجھنو اور راجستھان کے دیگر اضلاع کی اہم پینے کے پانی اور دیگر ضروریات کی فراہمی کے منصوبے پر عمل درآمد کی راہ ہموار کرے گا۔

*************

 ( ش ح ۔ف ا ۔ رض (

U. No.5113

 


(ریلیز آئی ڈی: 2007046) وزیٹر کاؤنٹر : 104
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी