زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت

زرعی افزائش اور کسانوں کو بااختیار بنانے کے لیےمرکزی وزیر زراعت جناب ارجن منڈا نے ایل ایم ایس، کرشی رکشک پورٹل، ہیلپ لائن(کے آر پی ایچ)-14447، اور سارتھی پورٹل کی نقاب کشائی کی


ان اقدامات کا مقصد کسانوں کو بااختیار بنانا، شکایات کے ازالے کو ہموار کرنا، اور پائیدار ترقی کے لیے زرعی تربیت کو بڑھانا ہے

‘‘کسانوں کی طاقت اورتفویض اختیارات  ملک کی طاقت ہے’’ : مرکزی وزیر جناب منڈا

Posted On: 08 FEB 2024 7:43PM by PIB Delhi

زراعت اور کسانوں کی فلاح و بہبود اور قبائلی امور کے مرکزی وزیرجناب  ارجن منڈا نے پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا (پی ایم ایف بی وائی)کے تحت آج نئی دہلی میں کسان برادری کے لیے مرکزی‘‘کسان رکشک ہیلپ لائن 14447 اور پورٹل’’، ایگری انشورنس سینڈ باکس فریم ورک پلیٹ فارم سارتھی اور لرننگ مینجمنٹ سسٹم (ایل ایم ایس)  پلیٹ فارم کا آغاز کیا۔ اس موقع پر زراعت اور کسانوں کی بہبود اور فوڈ پروسیسنگ کی وزیر مملکت محترمہ شوبھا کراندلاجے اور زراعت اور کسانوں کی بہبود کے وزیر مملکت جناب کیلاش چودھری، سکریٹری جناب منوج آہوجا بھی موجود تھے۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001J0LN.jpg

 

2016 میں اپنے آغاز کے بعد سے، پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا (پی ایم ایف بی وائی) ہندوستان میں کسانوں کے لیے ایک حفاظتی جال رہا ہے، جو فصلوں کی بیمہ کے ذریعے انہیں فطرت کی غیر متوقع صورتحال سے بچاتا ہے۔ یہ  اسکیم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے بہت اہم ہوگئی ہے کہ کسان دعوے کے عمل کو نیویگیٹ کر سکیں، شکایات جمع کر سکیں، اپنے سوالات کے بارے میں معلومات حاصل کر سکیں اور بغیر کسی دشواری کے بروقت مدد حاصل کر سکیں۔ ان چیلنجوں سے نمٹنے اور کسانوں کی فوری مدد کو یقینی بنانے کے لیے، حکومت نے کرشی رکشک پورٹل اور ہیلپ لائن(کے آر پی ایچ)14447کومتعارف کرایا ہے۔ یہ پلیٹ فارم کثیر لسانی مدد فراہم کرتا ہے، جس سے معاوضے میں تاخیر اور بیمہ کے سوالات سے متعلق شکایات کا شفاف رابطہ اور حقیقی وقت میں حل ممکن ہے۔ عمل کو ہموار کرتے ہوئے اور قابل رسائی امداد کی پیشکش کرتے ہوئے،کے آر پی ایچ کاشتکار برادری کی فلاح و بہبود اور خوشحالی کے لیے حکومت کی ثابت قدمی کے عزم کو اجاگر کرتا ہے۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002DKM6.jpg

 

اپنے خطاب میں مرکزی وزیر جناب منڈا نے کہا، ''ہندوستان کسانوں کا ملک ہے۔ وزارت زراعت کسانوں کی حمایت اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی رہنمائی میں مسلسل کام کر رہی ہے۔ اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے، حکومت کی طرف سے چلائی جانے والی اسکیموں کے ذریعے کسانوں کی آمدنی بڑھانے اور انہیں خود کفیل بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت اس سمت میں مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو تکنیکی اور ڈیجیٹل طور پر بھی بااختیار بنانے میں شراکت دار بننے کا موقع ہے۔ اسی مقصد کے لیے پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا کے تحت کرشی رکشک پورٹل اور ہیلپ لائن، سینڈ باکس فریم ورک اور ایل ایم ایس پلیٹ فارم شروع کیے گئے ہیں۔ مرکزی وزیر زراعت نے کسانوں کی زندگیوں میں بہتری کے لیے ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھانے پر حکومت کی توجہ پر زور دیا۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image00340W0.jpg

 

ایک اور اہم آغازدی لرننگ مینجمنٹ سسٹم (ایل ایم ایس) تھا، جسے نیشنل ای گورننس ڈویژن(این ای جی ڈی) کے تعاون سے تیار کیا گیا تھا۔ اس کا بنیادی مقصد متعلقہ فریقوں بشمول کسانوں، بیمہ کمپنیوں، سرکاری عہدیداروں، ریاستی حکومت کے نمائندوں، اور پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا (پی ایم ایف بی وائی) میں حصہ لینے والوں کو موثر فصل بیمہ اور زرعی قرضہ کے لیے درکار ضروری مہارتوں اور علم کا فراہم کرنا ہے۔ ایل ایم ایس انٹرایکٹو ماڈیولز، ذاتی نوعیت کے تربیتی پروگراموں، اور قابل رسائی وسائل کے ذریعے تربیت اور علم کے اشتراک میں سہولت فراہم کرے گا۔متعلقہ فریق زرعی طریقوں، فصلوں کے انشورنس پروٹوکول اور مالیاتی طریقہ کار کے بارے میں اپنی سمجھ کو گہرا کر سکتے ہیں۔ایل ایم ایس تک  اس لنک سے https://elearn-pmfbykcc.lms.gov.in  رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

جناب منڈا نے کہا کہ پچھلے کچھ برسوں میں اسکیم کے نفاذ کو بہتر بنانے کی کوششیں بھی مسلسل جاری ہیں۔ حکومت زرعی شعبے میں ایسی اسکیموں کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے، جس سے خطرات کو کم کیا جاسکتا ہے اور کسانوں کی آمدنی میں بہتری آسکتی ہے۔ انہوں نے عہدیداروں سے کہا کہ وہ ڈیٹا کے استعمال سے کسانوں کے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں۔ انہوں نے ذکر کیا کہ انہیں یہ دیکھ کر خوشی ہوئی ہے کہ وزارت زراعت ہر ایک کسان کے لیے حقیقی منظم انداز میں کام کر رہی ہے اور  زراعت میں ڈیجیٹل نیز ٹیکنالوجی کے موافقت پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image004C1VR.jpg

جب کہ فصلوں کا بیمہ کسانوں کے لیے ایک بنیادی پروڈکٹ رہا ہے، حکومت نے دیگر مصنوعات کے ذریعے پوری زرعی برادری تک بیمہ کو بھی بڑھایا ہے۔ فصلوں کے نقصانات سے آگے کسانوں کو درپیش کثیر جہتی خطرات کو تسلیم کرتے ہوئے، جامع ڈیجیٹل انشورنس پلیٹ فارم سارتھی کو یو این ڈی پی انڈیا کے تعاون سے شروع کیا گیا تھا۔ سارتھی صحت، زندگی، گھر، دوکان، زرعی آلات، موٹر، اور پیرامیٹرک مصنوعات کی کوریج کو بڑھاتا ہے۔ اینڈرائیڈ ایپ اسٹور پر دستیاب اے آئی ڈی ای  ایپ کے ذریعے سارتھی تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

پائیدار ترقی کے اہداف کے ساتھ منسلک اس اہم کوشش کا مقصد نہ صرف کسانوں کی روزی روٹی کا تحفظ کرنا ہے بلکہ مجموعی طور پر زرعی شعبے کی قوت کو مضبوط کرنا بھی ہے۔ پی ایم ایف بی وائی کے تحت پہلے سے ہی 56 کروڑ درخواستوں کے اندراج کے ساتھ، سارتھی روایتی فصل بیمہ سے آگے ایک اہم پیشرفت کی نشاندہی کرتی ہے، جو کسانوں کی ضروریات کے مطابق مختلف قسم کی مصنوعات کی پیشکش کرتی ہے۔ ٹریکٹر مشینری جیسے اہم اثاثوں کو شامل کرنے کے لیے انشورنس کوریج کو بڑھا کر، سارتھی کسانوں کو خطرات کو جامع طور پر کم کرنے، اپنی روزی روٹی کو محفوظ بنانے اور زراعت میں طویل مدتی پائیداری کو فروغ دینے کے لیے بااختیار بناتا ہے۔

ایل ایم ایس، کے آر پی ایچ-14447، اور سارتھی کا آغاز ہندوستانی زراعت میں وزارت زراعت کے جاری تبدیلی کے سفر میں تازہ ترین سنگ میل کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ اقدامات، جدید ٹیکنالوجی جیسے وائی ای ایس-ٹیک، ڈیجی-کلیم،ڈبلیو آئی این ڈی س، سی آر او پی آئی سی، اے آئی ڈی ای ایپ کے ساتھ متعارف کرائے گئے، کاشتکاری میں اختراع ، لچک اور پائیداری کے لیے حکومت کے غیر متزلزل عزم کو اجاگر کرتے ہیں۔ ایک ساتھ مل کر، یہ اقدامات کاشتکار برادری کی فلاح و بہبود اور پائیداری کو فروغ دینے کے لیے ایک جامع نقطہ نظر کو مجسم کرتے ہیں، جو ایک لچکدار اور خوشحال زرعی شعبے کے لیے حکومت کے وژن کے مطابق ہیں۔

*****

ش ح ۔  ا ک   ۔ ج ا

U. No.4849



(Release ID: 2005333) Visitor Counter : 52


Read this release in: English , Kannada