بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
جہاز سازی سے متعلق مالی معاونت کی پالیسی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
09 FEB 2024 1:37PM by PIB Delhi
بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر جناب سربانند سونووال نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ جہاز سازی سے متعلق مالی معاونت کی پالیسی (ایس بی ایف اے ایم) اسکیم ، ہندوستانی شپ یارڈ کو جہاز سازی کے لئے معاہدے کی پیشکش کرتی ہے۔ ان کے درمیان یکم اپریل 2016 سے مارچ 2026 کے درمیان معاہدے پر دستخط کئے گئے تھے۔ جس کے تحت مالی امداد کی شرح 2016 میں 20 فیصد سے شروع ہو کر 2026 میں کم ہو کر 11 فیصد ہو گئی ہے۔
ایس بی ایف اے پی اسکیم نے پہلے ہی مقامی ٹرانسپورٹ فیری کو اہمیت دی ہے، جسے جدید ٹکنالوجی کو اپنانے والے عام لوگوں کو لانے لے جانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ جدید ٹیکنالوجی والے جہاز جیسے 12 میٹر سے زیادہ لمبائی کے ہائبرڈ جہاز اور بغیر کسی لمبائی کی پابندی کے سبز ایندھن سے چلنے والے جہازوں کو مالی امداد حاصل کرنے کے لیے ایس بی ایف اے پی اسکیم کے رہنما خطوط پر عمل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
جدید ٹکنالوجی والے جہازوں کو ان جہازوں کے لیے 30 فیصد مالی امداد فراہم کی جاتی ہے، جہاں مین پروپلشن سبز ایندھن جیسے میتھانول(آتش گیر مائع)، امونیا (بے رنگ شوریدہ گیس)، ہائیڈروجن فیول سیلز کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے اور 20فیصد کی مالی امداد محرکات کے برقی توانائی والے جہازوں یا محرکاتی نظام سے لیس جہازوں کے لیے فراہم کی جاتی ہے۔
***
ش ح۔ ح ع ۔ ک ا
(ریلیز آئی ڈی: 2004482)
وزیٹر کاؤنٹر : 81