ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پائیدار ترقی کے لیے ہندوستان کا عزم نہ صرف الفاظ میں بلکہ عمل سے بھی ظاہر ہوتا ہے : نائب صدر جمہوریہ


اقتصادی ترقی کو ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ متوازن کرنے میں، ہندوستان دنیا کے لیے تحریک کی روشنی کے طور پر کام کرتا ہے : نائب صدر جمہوریہ

آب و ہوا کی تبدیلی کے سلسلے میں طور طریقوں کو برقرار رکھنے والے ملک کے طور پر، ہندوستان کا خیال ہے کہ توانائی تک رسائی تمام شہریوں کا حق ہے اور اس لیے توانائی کو سستی ہونا چاہیے، ساتھ ہی، توانائی کو صاف ستھرا ہونا چاہیے:جناب بھوپیندریادو

ہمیں اپنے سیارے کو آلودگی، آب و ہوا کی تبدیلی، اور حیاتیاتی تنوع کے نقصان کے کرہ ارض پر  ہونے والے تہرے چیلنجوں سے بچانے کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے :جناب بھوپیندریادو

प्रविष्टि तिथि: 07 FEB 2024 10:50PM by PIB Delhi

نائب صدر جمہوریہ ، جناب جگدیپ دھنکھر نے آج عالمی قیادت کے لئے  اس بات پر زور دیا کہ وہ ماحولیاتی تحفظ اور آب و ہوا کے انصاف کو ہر سطح پر مرکزی دھارے میں لانے کے لیے آگے بڑھے، اور ان اصولوں کو ہمارے معاشروں کے بنیادی ڈھانچے میں شامل کیا جائے۔ اقتصادی ترقی کو ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ متوازن کرنے والے ہندوستان کے اقدامات کی فہرست پیش کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ‘‘ہندوستان دنیا بھر کی قوموں کے لیے تحریک کی روشنی کے طور پر کام کرتا ہے۔’’

آج نئی دہلی میں  ٹی ای آر آئی میں عالمی پائیدار ترقی سربراہ کانفرنس  2024 سے خطاب کرتے ہوئے جناب  دھنکھر نے کہا کہ ایک دوسرے سے جڑی ہوئی دنیا میں، ‘‘ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ ہم جن چیلنجوں کا سامنا کررہے ہیں، ان کی کوئی سرحد نہیں ہوتی ۔’’ ہمارے اعمال کا اثر تمام ممالک میں دکھائی دیتا ہے، جس سے سب سے زیادہ کمزور کمیونٹیز اور ماحولیاتی نظام متاثر ہوتے ہیں، انہوں نے یہ بات  لوگوں اور فطرت پر مبنی نقطہ نظر کو تشکیل دینے اور اپنانے پر زور  دیتے ہوئے کہی۔

 اس  بات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پائیدار ترقی کی بنیادوں میں سے ایک صاف اور قابل تجدید توانائی کے ذرائع  کے استعمال کی شروعات  ہے۔ نائب صدرجمہوریہ نے اس بات پر  بھی روشنی ڈالی کہ قابل تجدید توانائی کے لیے ہمارا پختہ عزم  نہ صرف موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرتا ہے بلکہ اقتصادی ترقی، ملازمتوں کی تخلیق اور تکنیکی اختراع کے لیے راستے بھی کھولتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ‘‘ہندوستان کا یہ پختہ عزم  نہ صرف الفاظ میں بلکہ عمل میں بھی، پالیسیوں کے نفاذ سے ظاہر ہوتا ہے جو ان اصولوں کے لیے لگن کی عکاسی کرتی ہیں جن کی ہم وکالت کرتے ہیں۔’’

آب و ہوا کی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، نائب صدر جمہوریہ نے اس بات پر مزید زور دیا کہ اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ ہم ایسی میراث چھوڑیں جو ہماری آنے والی نسلیں فخر کے ساتھ حاصل کر سکیں، ہماری اقتصادی ترقی کو پائیدار ترقی کے عزم کے ساتھ ہم آہنگ کیا جانا چاہیے۔ہمیں جن چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ  ہمارے لئے  پریشان کن ضرور ہیں ،  لیکن ان پر قابو پانا نہ ممکن  نہیں  ہے۔ انہوں نے یہ بات اس بات پر زور دیتے ہوئے کہی کہ افواج میں شامل ہو کر، اختراع کو اپنا کر، اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دے کر، ہم سب کے لیے ایک پائیدار اور محفوظ مستقبل کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔

چوٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی اور روزگار اور محنت کے مرکزی وزیر جناب بھوپیندریادو نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی جی کی قیادت میں ہندوستان تیزی سے قابل تجدید توانائی کے ذرائع سے استفادہ کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2017 اور 2023 کے درمیان، ہندوستان نے تقریباً 100 گیگا واٹ بجلی کی تنصیب کی صلاحیت کا اضافہ کیا ہے، جس میں سے تقریباً 80 فیصد غیر روایتی ایندھن  پر مبنی وسائل سے ہے۔ جناب یادو نے کہا کہ ایک ایسی قوم کے طور پر جو آب و ہوا  سے متعلق  مناسب طور طریقوں کو برقرار رکھتی ہے، ہندوستان کا ماننا ہے کہ توانائی تک رسائی تمام شہریوں کا حق ہے اور اس لیے توانائی سستی ہونی چاہیے۔ اسی کے ساتھ ساتھ ، توانائی کا صاف  ستھرا ہونا  بھی ضروری ہے۔

جناب یادو نے کہا کہ اس چوٹی کانفرنس میں ہونے والی بات چیت ہمارے پائیدار مستقبل کے  سلسلے میں  راستوں کا تعین کرنے کے لیے ضروری ہے۔انھوں نے کہا کہ ہمیں عالمی درجہ حرارت میں اضافے( گلوبل وارمنگ) اور عالمی امن کے لیے خطرہ کے تباہ کن خدشات سے دوچار معاشرے میں پائیداری اور مساوات کو فروغ دینے کے لیے اپنے مشترکہ عزم  میں  ایک دوسرے کے شانہ بہ شانہ کھڑا ہونا چاہئے۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ ہندوستان ان قوموں میں سے ایک ہے جس نے اپنے این ڈی سیز میں ترقی کے مقصد سےنظر ثانی کی ہے جو کہ ماحولیاتی کارروائی کو بڑھانے کے بارے میں گہری وابستگی کی نشاندہی کرتی ہے اور مصر میں سی او پی 27  میں اپنی طویل مدتی کاربن کے اخراج   میں کمی کی حکمت عملی کو مزید  سامنے لاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ آب وہوا سے متعلق 2015 کے اپنے مقاصد میں سے دو کو ہم حاصل کرچکے ہیں:

2005-I اور 2019 کے درمیان جی ڈی پی کے اخراج کی شدت میں 33 فیصد کمی جو مقررہ وقت سے 11 سال پہلے حاصل کی جاتی ہے۔ اور

II - ہندوستان نے 2030 کے ہدف سے نو سال پہلے، غیر روایتی  ایندھن کے وسائل  کے ذریعے 44فیصد برقی نصب شدہ  صلاحیت حاصل کر لی ہے۔

جناب یادو نے کہا کہ ہمیں اپنے سیارے کو آلودگی، آب و ہوا میں تبدیلی، اور حیاتیاتی تنوع کے نقصان کے تین گنا چیلنجوں سے بچانے کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ غیر پائیدار کھپت اور پیداوار پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ صنعتی ترقی کو پائیدار پیداوار کی طرف راغب کیا جائے اور اس سے  زیادہ پائیدار کھپت کے لیے ایک  محرک  کے طور پر کام لیا جائے۔

جناب بھوپنیدریادو نے کہا کہ عزت مآب وزیر اعظم جناب نریندر مودی جی نے ایک لفظی منتر، ‘‘ماحول کے لیے طرز زندگی’’  کا خاکہ پیش کیا ہے جو ایک محفوظ سیارے کے لیے ہندوستان کے ہدف کا مرکز ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2021 میں  سی او پی  26 میں، وزیر اعظم مودی نے مشن لائف متعارف کرایا، اور جی 20  کی ہندوستانی صدارت کے تحت، پائیدار طرز زندگی کے مطالبے کو اہم بات چیت میں جگہ ملی۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ ہم نے نئی دہلی اعلامیہ کے ایک حصے کے طور پر جی 20 ممالک کی طرف سے گرین ڈیولپمنٹ معاہدہ کو تاریخی طور پر اپناتے ہوئے دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے حالیہ مالیاتی پالیسی بیان نے ایک بار پھر متعدد شعبوں میں ‘گرین گروتھ’ کے لیے ہندوستان کے وژن کو تقویت بخشی ہے، جس کی بنیادی سوچ یہ ہے کہ ملک میں مستقبل کی تمام ترقی کو لازمی طور پر ماحول دوست ہونا چاہیے۔

گیانا کے وزیراعظم عزت مآب  بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) مارک فلپس،  جناب نتن دیسائی، چیئرمین، دی انرجی اینڈ ریسورسز انسٹی ٹیوٹ، ڈاکٹر ویبھا دھون، ڈائریکٹر جنرل، ٹی ای آر آئی، ڈاکٹر شیلی کیڈیا، کیوریٹر، ورلڈ سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ سمٹ، اور دیگر معززین نے اس تقریب میں شرکت کی۔

*************

( ش ح ۔س  ب۔ رض (

U. No.4631


(रिलीज़ आईडी: 2003872) आगंतुक पटल : 90
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी